آج میں نے انگلی کے ہلکے سے دباؤ سے پوری زمین گھما دی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج میں نے انگلی کے ہلکے سے دباؤ سے پوری زمین گھما دی۔ لگتا ہے آپ کو پتہ نہیں چلا۔ پتہ چلتا بھی کیسے؟ زمین تو پہلے ہی گھوم رہی ہے اور زمین کے ساتھ ساتھ اس کا پورا کرہ گھوم رہا ہے تو پھر آپ کو کیسے پتہ لگتا کہ آج میں نے پوری دنیا گھمائی؟ صرف چند ایک چیزوں سے پتہ چل سکتا تھا، جیسے جلد ہی دن یا رات ہو جاتی، مگر میں بھی بڑا سیانا ہوں۔ کچھ اس طرح گھمائی کہ دن اور رات میں کوئی فرق نہیں پڑا یعنی سورج کے حساب سے ہی گھمائی۔ البتہ اس وقت کوئی آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوتا تو شاید بادلوں وغیرہ سے پتہ چل جاتا مگر آسمان پر غور کرنا تو ویسے ہی بڑے عرصے سے ہم پر ”حرام“ کر دیا گیا ہے۔ باقی جہاں رات تھی وہاں یقیناً تاروں کی وجہ سے پتہ چل جاتا لیکن آج کل تارے کون دیکھتا ہے؟ وہ زمانے گئے جب عاشق چاند کو دیکھتے ہوئے اور تارے گنتے ہوئے راتیں گزار دیتے تھے۔ اجی! آج کل زمانہ بدل گیا ہے۔ کوئی کسی کے ہجر میں نہیں روتا۔ اِدھر رات ہوتی ہے اُدھر ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔ جب سارا جگ سوتا ہے تبھی موبائل آن ہوتا ہے۔ وہ جو سارا دن سوتی ہیں وہ رات کو سڑکوں پر ہوتی ہیں۔
او ہو بات کہاں نکل گئی۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے زمین کچھ اس طرح گھمائی کہ اوپر والے گھوم کر نیچے گئے اور نیچے والے اوپر آ گئے۔ کیسی عجیب بات ہے کوئی الٹا ہونے کی وجہ سے گرا کیوں نہیں۔ اجی گرتا کیسے کشش ثقل (Gravity) نے ہر چیز کو اپنی طرف جو کھینچ رکھا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ قطب شمالی سوچتا ہو گا کہ میں اوپر ہوں اور قطب جنوبی نیچے ہے مگر قطب جنوبی پر جا کر دیکھا جائے تو قطب شمالی نیچے ہو جاتا ہے۔ یہ زمین بھی عجب شے ہے۔ جہاں جاؤ وہاں اوپر آسمان اور نیچے زمین ہوتی ہے۔ آپس کی بات ہے زمین پر تو سمتیں ہوتی ہیں کیا زمین کے مدار سے باہر بھی سمتیں ہوتی ہیں؟ وہاں یقیناً سیانے لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ ہمارے دائیں طرف زمین ہے اور بائیں طرف فلاں سیارہ۔ اس کا مطلب ہے انسان ہر چیز کی پہچان دوسری چیز کی وجہ سے کرتا ہے۔ جیسے برائی نہ ہوتی تو کیسے پتہ چلتا کہ اچھائی کیا ہے۔ گرمی نہ ہوتی تو ٹھنڈک کا کیسے پتہ چلتا۔ اندھیرہ نہ ہو تو پھر روشنی کی قدر کون کرتا۔ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک چیز کی غیر موجودگی ہی دوسری چیز ہوتی ہے۔ جیسے اچھائی کی غیرموجودگی برائی، گرمی کی غیرموجودگی ٹھنڈک اور روشنی کی غیر موجودگی اندھیرہ۔
معافی چاہتا ہوں جناب! ایک تو بات بات پر دماغ کھسک جاتا ہے اور بات کہاں کی کہاں نکل جاتی ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ زمین پر سمتیں ہوتی ہیں۔ دائیں بائیں اوپر نیچے۔ اوپر نیچے سے یاد آیا کہ اگر ہم اوپر کی طرف سفر کریں تو سب سے پہلے زمین کے مدار سے نکل کر خلاء میں داخل ہو جائیں گے، پھر سفر کرتے ہوئے کئی سیاروں کو دیکھیں گے۔ فرض کریں اگر ہم زمین سے مخالف کسی ایک سمت میں مسلسل سفر کرتے رہیں تو آخری منزل کیا ہو گی؟ کیا سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ کیا مذاہب عالم کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ فرض کریں سائنس کہتی ہے کہ کہکشاں در کہکشاں سفر کرتے رہیں تو اتنے کروڑ نوری سال کے بعد آخر پر ایک بہت بڑی پرت آ جائے گی۔ تو پھر میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس پرت کی دوسری طرف کیا ہو گا اور اس دوسری طرف کے بعد کیا ہو گا؟ فرض کریں کوئی مذہب یہ کہتا ہے کہ آخر پر جنت یا دوزخ آ جائے گی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس جنت یا دوزخ سے پار کیا ہوگا؟ یہاں پر مولبی صاحب سے کچھ کہتا چلوں کہ مولبی جی آپ سے گذارش ہے کہ ہاتھ تھوڑا ”ہولا“ ہی رکھنا۔ وہ کیا ہے کہ میں (م بلال م) اللہ پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور محمدﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں۔ آپ سوچ رہے ہوں کہ مولبی یہاں کہاں سے آ گیا؟ تو جناب وہ کیا ہے کہ ہم نے انگلی ہلائی اور اتنی بڑی زمین گھمائی مگر پھر بھی کوئی تیر نہیں مارا لیکن ہمارے مولبی صاحب کی بس زبان ہلتی ہے، زمین تو کیا ساری خدائی گھومتی ہے۔ بس اس لئے مولبی صاحب کا تھوڑا سا ”ترلا“ کر لیا ہے۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اگر آسمان کی طرف سفر کریں تو آخری حد کیا ہو گی؟ فلاسفربہت مغز ماری کرے گا۔ سائنسدان حساب کتاب میں کھو جائے گا اور آخر کار کہے گا کہ یہ لامحدود (Infinite) ہے۔ حساب کتاب سے یاد آیا کہ اگر ہم گنتی گننا شروع کریں تو اس گنتی کی حد کیا ہو گی؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں اور یہ لامحدود ہے۔ اس لفظ ”لامحدود“ کو ذہن میں رکھئے گا۔
سائنس کہتی ہے کہ اتنے کروڑ سال پہلے دنیا وجود میں آئی۔ میں سوچتا ہوں کہ ان کروڑوں سالوں سے پہلے کیا تھا؟ جب یہ دنیا ختم ہو جائے گی یا فرض کریں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کبھی ختم نہیں ہو گی تو پھر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ آخر یہ کب تک چلے گی؟ تو اس کا جواب بھی لامحدود ہی ملتا ہے۔ قیامت آئے گی، حساب کتاب ہو گا، جنت یا دوزخ ملے گی تو پھر اس کے بعد کی زندگی کب تک ہو گی، تو اس کا جواب بھی لامحدود۔ ہم تو آج تک یہی معلوم نہیں کر سکے کہ گنتی میں 1 کے بعد یہ جو 2 آتا ہے ان دونوں کے درمیان اور کتنے ہندسے آتے ہیں؟ یہاں بھی لامحدود کہہ کر جان چھڑائی جاتی ہے۔ یہ وقت کب شروع ہوا اور وقت سے پہلے کیا تھا؟ جب وقت ختم ہو گا تو اس کے بعد کیا ہو گا؟ ایٹم کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کے اندر کیا ہے اور پھر اس کے اندر کیا؟ بڑی بڑی چیزوں کی طرف عقل دوڑانے کی بجائے اتنا سوچتے ہیں کہ کسی چیز کو چھوٹے سے چھوٹا کریں تو وہ مائیکرو بن جائے گی مزید چھوٹا کریں اور مزید چھوٹا کریں، بے شک آنکھ کو نظر نہ آئے لیکن اس کو چھوٹا کرنے کی حد کیا ہے؟ کیا ”لا محدود“؟؟؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انتظار کرو اور دیکھو۔ مگر میں کیوں انتظار کروں؟ کل کیا ہو گا مجھے کیا معلوم، میں آج میں زندہ ہوں اور میں نے جو کرنا ہے آج ہی کرنا ہے۔ کیا مجھے کوئی بتائیے گا کہ یہ لامحدود ہے کیا؟ کیا یہ لامحدود کوئی روشنی ہے؟ کیا یہ لامحدود کوئی چیز ہے؟ کیا یہ لامحدود کوئی طاقت ہے؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ جو خود لامحدود ہے اس کی حدیں ، صورت یا وجود کا عقل کیسے احاطہ کر سکتی ہے کیونکہ عقل چاہے زمین کو ہلا دے لیکن اس کی ایک حد ہے اور جب اس کے گھوڑے دوڑائیں تو ہر چیز کی حدیں مقرر ہوتی ہیں اور جو عقل سے باہر ہو اسے لامحدود کہہ کر چلتے بنتے ہیں۔ آپس کی بات ہے آخر عقل کی حد کیا ہے؟؟؟
کبھی وقت ملے تو میری طرح اپنی عقل کی زمین گھمائیے گا، دماغ کا دہی بنائیے گا اور سوچئے گا کہ آخر یہ لامحدود ہے کیا۔ بہر حال ہمیں تو اس معاملے میں سکون ہے کیونکہ تھوڑا بہت دوڑنے کے بعد ہمیں تو صرف یہی ملا ہے کہ ”جب تھا نہ کچھ یہاں، تھا مگر تو ہی تو“ بلکہ تو بھی لامحدود ہے، جس کا عقل احاطہ کر ہی نہیں سکتی۔ تو لاشریک ہے۔ اس لامحدود کی اصل سمجھ صرف تجھے ہی ہے۔ تو تو کیا تیری بنائی ہوئی کسی ایک چیز کا عقل احاطہ کرنے چلے تو صدیاں بیت جائیں مگر پھر بھی عقل کے لئے وہ لامحدود ہی رہے گی۔ بس مجھے لگتا ہے کہ جو جتنے عقل کے گھوڑے دوڑائے گا، وہ اتنا فاصلہ طے کرے گا اور اتنا ہی اس لامحدود کے قریب پہنچے گا، گو کہ لامحدود پھر بھی لامحدود ہی رہے گا کیونکہ لامحدود سفر میں سے کچھ نکال بھی دیں تو وہ لامحدود ہی رہتا ہے، اعداد کے جادوگر اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ خیر میں کہہ رہا تھا کہ جو جتنے عقل کے گھوڑے دوڑائے گا، وہ اتنا فاصلہ طے کرے گا اور اتنا ہی اس لامحدود کے قریب پہنچے گا، شرط صرف اتنی ہے کہ وہ انسانیت سے مخلص ہو اور انسانیت میں اس کا اپنا آپ سب سے پہلے آتا ہے۔ کئی دفعہ عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بعد یہ بھی ہوتا ہے، جسے حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کچھ یوں بیان فرماتے ہیں۔
عطا اسلاف کا جذب دروں کر
شريک زمرۂ لا يحزنوں ، کر
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا ميں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
چلتے چلتے آپ کو بتاتا چلوں کہ میں نے انگلی کا ہلکا سا دباؤ کمپیوٹر کے ماؤس پر ڈالا اور گوگل ارتھ میں زمین گھوم گئی۔ آپس کی بات ہے آپ اصلی زمین بھی ہلا سکتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ سنا ہے ارشمیدس نے کہا تھا کہ اگر مجھے کھڑے ہونے کی جگہ دے دو تو میں زمین کو لیور کی مدد ہلا سکتا ہوں۔ اب آپ کے لئے شرط یہ ہے کہ خلاء میں کھڑے ہونے کی جگہ خود تلاش کریں۔ مگر ”ہنوز خلاء دور است“ وہ کیا ہے کہ مولبی صاحب کہتے ہیں کہ آسمان کی طرف غور کرنا ٹھیک نہیں۔ بس چند عبادات ہی اصل چیز ہے جبکہ آسمان پر غور کرنا اور اس جیسے دیگر کام۔۔۔ خیر چھڈو جی۔۔۔
اے میرے اللہ میں تیرا ایک بہت ہی کمزور بندہ ہو۔ اب پتہ نہیں میرا شمار کہاں اور کس کھاتے میں ہوتا ہے، مگر میں نے اپنی طرف سے چھوٹی سی کوشش کی ہے اور مجھے تو ہر چیز ہی لامحدود نظر آئی۔ مجھے تو ہر سمت میں ایک لامحدود ہستی نظر آئی۔ میں مزید کوشش کروں گا کہ غور کر سکوں باقی اب مجھے ”مولبی“ اور سائنس کے غلاموں سے بچانا تیرا کام ہے۔
اے میرے اللہ مجھے سیدھا رستہ دکھا، رستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ گمراہوں کا۔۔۔آمین
نوٹ:- ”نظریاتی اختلاف“ اور ”نظریہ کی توہین“ کے درمیان فرق سمجھتے ہوئے آپ اختلاف کرنے اور مجھے درست بات سمجھانے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!