Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت

حصہ دوم

از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی

جنتی کے بدن پر سر کے بال ،پلکوں اور بھوؤں کے سوا کہیں بال نہ ہوں گے ،سب بے ریش ہوں گے ،سرمہ گیں آنکھیں ،تیس ( 30) برس کے معلوم ہوں گے ،اس سے زیادہ نہ معلوم ہوں گے ، جنت میں نیند نہیں ،نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں،جنتی جب جنت میں جائینگے ،ہر ایک اپنے اعمال کے مقدار سے مرتبہ پائے گا ،اس کے فضل کی حد نہیں ،پھر انہیں دنیا کے ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگا رکی زیارت کریںاور عرش الٰہی ظاہر ہوگا ،رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور ان جنتیوں کے لئے منبر بچھائے جائیں گے ،نور کے منبر ،موتی کے منبر،یواقوت وزبرجد کے منبر ،سونے چاندی کے منبر اور ان میں کا ادنیٰ مشک وکافورکے ٹیلے پر بیٹھے گا اور ان کا ادنیٰ کوئی اپنے گمان میں کرسی والوں کو کچھ بھی اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھے گا،خدا کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو اپنے اپنے جگہ سے دیکھتا ہے .
ایک دیکھنا ددوسرے کے مانند نہیں اور اللہ عزوجل ہر ایک پرتجلی فرمائے گا،ان میں سے کسی کو فرمائے گا : ات فلاں بن فلاں تجھے یاد ہے جس دن تو نے ایسا ایسا کیا تھا؟
دنیا کے معاصی یاد دلائے گا ، بندہ عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے بخش نہ دیا ،فرمائے گا: ہاں میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تو اس مرتبہ کو پہنچا وہ سب اسی حالت میں ہوں گے ،ابر چھاجائے گا اور خوشبو ان پر برسائے گا اس جیسی خوشبو ان لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اور اللہ عزوجل فرمائے گا کہ جاؤ اس طرف جو میں نے تمہارے لئے عزت تیار کر رکھی ہے جو چاہو لے لو!پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے
جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں ،اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ انکی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ دل پر انکا خطرا گذرا ، اس میں سے جو چاہیں گے ان کے ساتھ کردی جائے گی اور خرید وفروخت نہ ہوگی ،جنتی اس بازار میں باہم چلیں گے چھوٹے مرتبہ والا بڑے مرتبہ والے کو دیکھے گا اس کا لباس پسند کرے گاابھی تک گفتگو ختم ہوگی کہ خیال کرے گا کہ میرا لباس اس سے اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جنت میں کسی کے لئے غم نہیں ،پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے ۔

ان کے بیبیاں استقبال کریں گے اور مبارکباد دیکر کہیں گے : کہ آپ واپس ہوئے آپکا جمال اور حُسن اس سے زیادہ ہے کہ ہمارے پاس سے آپ گئے تھے ؟جواب دیں گے کہ پروردگار جبار کے حضور بیٹھنا ہمیں نصیب ہوا، ہمیں ایسا ہی ہونا سزاوار تھا ،جنتی باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلاجائے گا اور ایک روایت میں ہے ان کے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کے سواریاں اور گھوڑے لائے جائیں گے اور ان پر سوار ہوکر جہاں جائیں گے سب سے کم درجہ کا جو جنتی ہے اس کے باغات اور بیبیاں اور نعمتیں اور خدام اور تخت ہزار برس کی مسافت تک ہوں گے اور ان میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی وجہہ کریم کی دیدار سے ہر صبح وشام مشرف ہوگا،جب کنتی جنت میں جائیں گے اللہ عزوجل ا ن سے فرمائے گا کچھ اور چاہتے ہو ؟ جو تم کو دوں ،عرض کریں گے: تو نے ہمارے منہ روشن کئے جنت میں داخل کیا جہنم سے نجات دی ،اس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا ،اُٹھ جائے گا تب دیدار الٰہی جو سب سے بڑھ کر انہیں نہ ملی ہوگی ملے گی۔

اللہم الرزقنا زیارت وجھک الکریم بجاہ حبیبک الرؤف الرحیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ،آمین۔
error: Content is protected !!