Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

امامِ مالک علیہ رحمۃ اللہ الخالق سے اِکتسابِ فیض :

امامِ مالک علیہ رحمۃ اللہ الخالق سے اِکتسابِ فیض :

حضرت سیِّدُنا امام مزنی علیہ رحمۃاللہ الغنی اورحضرت سیِّدُنا محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم علیہ رحمۃاللہ الاکرم فرماتے ہیں کہ ”حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی حضرت سیِّدُناامام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”میں آپ سے مؤطَّاء پڑھنا چاہتا ہوں۔” حضرت سیِّدُناامام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میرے کاتب حبیب کے پاس چلے جاؤ، وہ اس کی قرا ء َت کرتاہے۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ سے راضی ہو! مجھ سے ایک صفحہ سن لیجئے، اگر میراپڑھنا اچھا لگے تو میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پڑھ کر سناؤں گا ورنہ چھوڑ دوں گا۔”حضرت سیِّدُنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”پڑھئے!” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صفحہ پڑھا اور خاموش ہو گئے۔
حضرت سیِّدُنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” مزید پڑھئے۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صفحہ پڑھ کر پھرخاموش ہو گئے۔ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر ارشاد فرمایا:” مزید پڑھئے!” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پڑھا تو امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت اچھا لگا۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں پوری مؤطَّاء پڑھی اورجب دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئے تو

امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو تمہیں پڑھائے۔” توحضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی نے عرض کی: ”حضور! میں چاہتا ہوں کہ آپ خود میرا پڑھنا سماعت فرمائیں، اگراچھا نہ پڑھ سکوں تو کوئی پڑھانے والا تلاش کر لوں گا۔” امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”اچھا! ٹھیک ہے، پڑھئے!” تو حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے از اوّل تا آخر پوری مؤطَّاء شریف زبانی پڑھ ڈالی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اس پرحضرت سیِّدُنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے دُعا دی اور انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا۔”

(حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث۱۳۱۷۷/ ۱۳۱۷۸/۱۳۱۸0، ج۹، ص۷۸، بتغیرٍ)

حضرت سیِّدُنا ربیع بن سلیمان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے ارشاد فرمایا: ”ایک بار میں نے محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے لدا ہوا بُختی اونٹ لیا جس پر میرے ان سے سنے ہوئے علم کے سوا کچھ نہ تھا۔”

(حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی،الحدیث۱۳۱۹۸،ج۹،ص۸۶)

حضرت سیِّدُنا محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی نے ارشاد فرمایا: ”میں نے بچپن ہی میں علم کی تلاش شروع کر دی تھی جبکہ میرے پاس کوئی مال نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ، میں مکتب جاتا اور تیر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لے کر ان پر احادیث ِ مبارکہ لکھ لیا کرتاتھا۔”

(حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی، الحدیث۱۳۱۹۵، ج۹،ص۸۵۔ بدون”فی الصغر”)

اے میرے اسلامی بھائیو! لگاتار محنت کرکے یہ لوگ مراد کو پہنچے، سچی طلب کی بدولت ان کو توفیق کی دولت ملی اور عظیم ہمت کی وجہ سے لوگوں کے پیشوابن گئے۔ اے سننے والے! یاد رکھ! بلند ہمتیں انسان کو اَہَم درجات کے قریب کر دیتی ہیں۔جو اپنے آپ کو تھکاتاہے وہی آرام پاتاہے۔اے فضول کاموں میں عمربرباد کرنے والے ! تو ہلاک ہو اجبکہ باقی لوگ اپنا مقصد پا کر کامیاب ہو گئے۔ اے برے انجام سے اپنی نگاہیں ہٹانے والے! فضائل و مناقب کو ضائع کرنے سے بچ۔ تو نے کھیل کود میں جو عمر گزاری وہ تجھے کافی نہ ہوئی اور اپنی حالت کی تبدیلی سے بھی تو نے کوئی وعظ ونصیحت حاصل نہ کی اور تیری ساری عمر نقصان کی کمائی میں گزر گئی اور تو آخرت میں اس حالت میں آئے گا جو تجھے خوش نہ کرے گی۔
حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:”جس نے دعویٰ کیا کہ میں نے دُنیا اور خالقِ دُنیا کی محبت اپنے دل میں جمع کر لی تو اس نے جھوٹ بولا۔”

(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱،ص۴۵)

error: Content is protected !!