امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آنکھوں کا قُفلِ مدینہ

امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آنکھوں کا قُفلِ مدینہ:(۱)

ایک روزحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچانک گھر سے باہر نکلے تو ایک عورت پر نظر پڑی جس کاچہرہ کُھلاہوا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً پڑھا:

”لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ یعنی بلند وبرتر پروردْگار کے سوا کوئی طاقت وقوت نہیں۔”
اور قسم کھائی کہ آئندہ جب بھی نکلوں گاچہرہ ڈھانپ کر نکلوں گاتاکہ کسی عورت پر نظر نہ پڑے۔
جب بھی کوئی نیاواقعہ یامسئلہ درپیش ہوتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو اس وقت تک نہ لکھتے جب تک علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی خدمت میں پیش نہ فرما لیتے۔ اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے ان کی رائے کے مطابق ہوتی تو لکھ لیتے ورنہ چھوڑ دیتے اور دل میں آنے والی بات پر استغفار کرتے۔
حضرت سیِّدُناادریس حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زُہد و وَرَع کا یہ عالم تھا کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاقلم خشک ہو جاتا تو اسے اپنے سر سے پُونچھتے،اپنے کپڑے سے نہ پونچھتے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سے وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا: ”یہ روشنائی علم کا باقی ماندہ حصہ ہے، لہٰذا میں اسے کپڑوں سے صاف نہیں کرتا کہ ہو سکتاہے وہ کپڑا گندگی میں ڈال دیا جائے۔”

1۔۔۔۔۔۔دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنکھوں کو بدنگاہی سے بچانے کو” آنکھوں کا قفل مدینہ” کہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!