امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا سونا ہماری عبادت سے بہتر ہے:

امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا سونا ہماری عبادت سے بہتر ہے:

حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے۔ کثرت سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ِ خیر کرتے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک نیک سیرت بیٹی تھی جورات شب بیداری میں اور دن روزے میں گزارتی۔ وہ صالحین کے واقعات کو بہت پسند کرتی تھی اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کودیکھناچاہتی تھی کیونکہ ان کے والد ِ محترم امام احمدرضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی بہت زیادہ عظمت وشان بیان کرتے تھے۔ ایک دفعہ اتِّفَاقاً حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں رات گزاری۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی بہت خوش ہوئی۔ اُسے اُمید تھی کہ آج امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افعال یعنی ان کی عبادت، اور کلام کو دیکھنے اور سننے کا خوب موقع ملے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز اور یاد الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے کھڑے ہوگئے جبکہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی چِت لیٹے رہے۔ بچِّی فجر تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی حالت میں دیکھتی رہی اورصبح اپنے باپ سے عرض کی: ”میں نے دیکھا کہ آپ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی بہت تعظیم کرتے ہیں لیکن میں نے تو ان کو آج رات نماز، ذکر یا دیگر اورادووظائف میں مشغول نہیں پایا۔”ابھی یہی گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی تشریف لے آئے۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ”رات کیسی گزری ؟” ارشادفرمایا:”اس سے زیادہ برکت و نفع والی اور اچھی رات میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی۔” حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟” تو فرمانے لگے :”وہ یوں کہ میں نے آج رات پیٹھ کے بَل لیٹے لیٹے سو مسائل اَخَذ کئے، جو تمام کے تمام مسلمانوں کے نفع کے لئے ہیں۔” پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رُخصت لی اور تشریف لے گئے۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی صاحبزادی سے فرمایا:”یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا آج رات کاعمل تھا۔وہ سوئے ہوئے اس سے افضل عمل کر رہے تھے جو میں نے کھڑے ہو کرعبادت کرتے ہوئے کیا۔”
اے میرے اسلامی بھائی! ان برگُزیدہ بندوں کی حرکات و سکنات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تھیں۔ان کے افعال و احوال اسی کے لئے تھے ۔ان کا ذکر و فکر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے لئے تھا۔ ان کا قیام اطاعتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ تھا۔ ان کی نیند صدقہ تھی۔ان کا ذکر رب

عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح کرناتھا۔ ان کا سکوت فکر ِ آخرت تھا۔ ان کا علم امت کے لئے شفا اور رحمت تھا۔ بلاشبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں بہت کچھ عطا فرمایا، ان کی تعریف و توصیف فرمائی اورانہیں اسلام کاامام اور لوگوں کا پیشوا بنایا۔
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی علمی معاملات اور ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں رات گزارتے، حقائق واسرار کی سرزمین میں گھومتے اور فکر ِ آخرت کے پاکیزہ باغات میں سیر وسیاحت کرتے۔ جب سحری کی ہلکی ہلکی ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے چین ہو جاتے، رنگ متغیر ہوجاتااور محبت کی آگ بھڑک اٹھتی اورایسی حالت طاری ہو جاتی جسے اربابِ احوال(یعنی اہلِ معرفت) کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا:”اگر سحری کے وقت تم پروہ باتیں ظاہر ہوں جو مجھ پر ہوتی ہیں تو دُنیا سے بے رغبت ہوجاؤاور آخرت کی تیاری پر کمر بستہ ہوجاؤ۔”

وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *