Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اگر دورانِ سال نصاب میں اضافہ ہو جائے تو زکوۃ کا کیا حکم ہو گا؟ زکٰوۃ کے لیے سونے ،چاندی کا نصاب شریعت میں کتنا ہے؟ کیا زکٰوۃ میں سونے چاندی کی قیمت دے سکتے ہیں؟

سوال: اگر دورانِ سال نصاب میں اضافہ ہو جائے تو زکوۃ کا کیا حکم ہو گا؟🌹💛📚
جواب:۞☜︎︎︎جو شخص مالکِ نصاب ہے اگر سال کے درمیان میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو اس نئے مال کا جدا سال نہیں ،بلکہ پہلے مال کا ختمِ سال اس کے لیے بھی سالِ تمام ہے ،اگرچہ سالِ تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو، خواہ وہ مال اس کے پہلے مال سے حاصل ہوا ہو یا میراث یا کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو۔ اور اگر دوسری جنس کا ہے مثلا پہلے اس کے پاس اونٹ تھے اور اب بکریاں ملیں تو اس کے لیے جدید سال شمار ہو گا۔👈🏻اس سلسلے میں سونا ،چاندی ،کرنسی نوٹ ،سامانِ تجارت ایک ہی جنس شمار ہوں گے۔(بہار شریعت)🧡❦︎۔۔۔۔۔۔💚

سوال: زکٰوۃ کے لیے سونے ،چاندی کا نصاب شریعت میں کتنا ہے؟🌸
جواب:۞ سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی ساڑھے سات تولے ہے، جبکہ چاندی کا نصاب دو سو درہم یعنی ساڑھے باون تولے ہے۔
👈🏻 اور نصاب کا چالیسواں حصہ (یعنی 2.5٪) زکٰوۃ کے طور پر دینا ہو گا۔ (بہار شریعت)*
💛•••♡︎•••❤️•••❦︎•••💚•••♡︎•••🧡

سوال: کیا زکٰوۃ میں سونے چاندی کی قیمت دے سکتے ہیں اور قیمت دینے میں کس بھاؤ کا اعتبار ہو گا ، اور کس جگہ کی قیمت لی جائے گی؟
جواب:۞زکٰوۃ میں سونے یا چاندی کی جگہ اس کی قیمت دینا جائز ہے۔ جس مقام پر اشیاء واقعی حکومتی ریٹ کے مطابق فروخت ہوتی ہوں وہاں اسی ریٹ کا اعتبار ہو گا ، اور اگر حکومتی ریٹ اور بازار کے بھاؤ میں فرق ہو تو بازار کے بھاؤ کا اعتبار ہو گا۔ قیمت اس جگہ کی ہونی چاہیے جہاں مال ہے۔(فتاویٰ امجدیہ)* ♡︎
🔴𖦹𖦹𖦹🟢𖦹𖦹𖦹🔵𖦹𖦹𖦹🟣

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!