Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اگر دورانِ سال نصاب میں کمی ہو جائے تو زکٰوۃ کا کیا حکم ہو گا؟ نا بالغ ، اور پاگل کی زکٰوۃ کا کیا حکم ہے؟ اگر ایک ہی جنس کے مختلف اموال ہوں تو زکٰوۃ کا حساب کیسے لگائیں گے؟

سوال:۞ اگر دورانِ سال نصاب میں کمی ہو جائے تو زکٰوۃ کا کیا حکم ہو گا؟*🌹🍃
جواب:☜︎︎︎ چونکہ زکٰوۃ کی فرضیت میں سال کے شروع اور آخر کا اعتبار کیا جاتا ہے اس لیے اگر سال مکمل ہونے پر نصابِ زکٰوۃ پورا ہے تو دورانِ سال (نصاب میں) ہونے والی کمی کا کوئی نقصان نہیں موجودہ مال کی زکٰوۃ دی جائے گی۔(در مختار)
🧡::::::💙::::::❤️::::::💚

سوال: نا بالغ ، اور پاگل کی زکٰوۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب: نا بالغ پر زکٰوۃ فرض نہیں ،مجنون کی چند صورتیں ہیں:
(1) اگر جنون پورے سال کو گھیر لے تو زکٰوۃ واجب نہیں۔
(2) اگر سال کے اول آخر میں افاقہ ہوتا ہے اگرچہ باقی زمانہ جنون میں گزرتا ہے تو زکٰوۃ واجب ہے۔(بہار شریعت)
💛•••♡︎•••❤️•••❦︎•••💚•••♡︎•••🧡

سوال: اگر ایک ہی جنس کے مختلف اموال ہوں تو زکٰوۃ کا حساب کیسے لگائیں گے؟📚
جواب:☚اگر مختلف اموال ہوں اور کوئی بھی نصاب کو نہ پہنچتا ہو تو تمام مال مثلا سونا ،چاندی ،یا مالِ تجارت یا کرنسی کو ملا کر اس کی کُل مالیت نکالی جائےگی اور اس کی زکٰوۃ کا حساب اس نصاب سے لگایا جائےگا جس میں فقراء کا ذیادہ فائدہ ہو ،مثلاً اگر تمام مال کو چاندی شمار کر کے نصاب نکالنے میں زکٰوۃ ذیادہ بنتی ہے تو یہی کیا جائے ،اور اگر سونا شمار کرنے میں ذیادہ بنتی ہے تو اسی طرح کیا جائے گا ،اور اگر دونوں صورتوں میں برابر ہے تو اس سےحساب لگائیں گےجس سےزکٰوۃ کی ادائیگی کا رواج ذیادہ ہو۔(شرح نقایہ)🌹💚🌻💜🌸

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!