Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تکلیف پہنچانے کا وَبال

تکلیف پہنچانے کا وَبال

حضرت سیِّدُنا یزید بن شَجَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جس طرح سمندر کے کنارے ہوتے ہیں اِسی طرح جہنّم کے بھی کنارے ہیں جن میں بُختی اونٹوں جیسے سانپ اور خچّروں جیسے بچھو رہتے ہیں ۔ اہلِ جہنّم جب عذاب میں کمی کیلئے فریاد کریں گے تو حکم ہوگا کناروں سے باہر نکلو وہ جیسے ہی نکلیں گے تو وہ سانپ انہیں ہونٹوں اور چہروں سے پکڑ لیں گے اور ان کی کھال تک اُتارلیں گے وہ لوگ وہاں سے بچنے کیلئے آگ کی طرف بھاگیں گے پھر ان پر کھجلی مُسَلَّط کردی جائے گی وہ اس قدرکھجائیں گے کہ ان کاگوشت پوست سب جَھڑ جائے گا اور صرف ہڈیاں رہ جائیں گی ، پُکار پڑے گی : اے فلاں ! کیا تجھے تکلیف ہورہی ہے؟ وہ کہے گا : ہاں ۔ تو کہا جائے گا یہ اُس تکلیف کا  
بدلہ ہے جو تو مومِنوں کو دیا کرتا تھا۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 –   الترغیب والترھیب  ، کتاب صفة الـجنة و النار ، فصل فی ذکر حیاتـھا و عقاربھا ، ۴  / ۲۸۰ ، حدیث : ۵۶۴۹
error: Content is protected !!