Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

زمین سونابن گئی:

زمین سونابن گئی:

حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ”عبادان شہر میں ایک حبشی فقیرتھاجو عام طورپرکھنڈرات میں رہتا تھا۔ ایک دن میں اپنی ضروریات وحاجات کی تلاش میں نکلا۔ جب اس نے مجھے دیکھاتو مسکرانے لگا اور اپنے ہا تھ سے زمین کی طرف اشارہ کیاتودیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین چمکدار سونا بن گئی۔ پھر مجھ سے کہنے لگا:”اپنی ضرورت پوری کرلو۔”میں نے اپنی ضرورت کے مطابق لے لیالیکن اس واقعہ نے مجھے خوفزدہ کردیا اس لئے میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔

وادی کے پتھرجواہرات بن گئے:

حضرت سیِّدُنا ابو یزیدعلیہ رحمۃاللہ الوحید سے منقول ہے کہ” میرے پاس میرے استاذ حضرت سیِّدُناابو علی سندی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے،ان کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی، انہوں نے اسے اُنڈیلا تو اس سے جواہر نمودار ہوئے،میں نے عرض کی: ”یہ موتی آپ کو کہا ں سے ملے؟”ارشادفرما یا:”میں یہاں ایک وادی میں اتراتو اچانک چراغ کی طرح ٹمٹماتے ہوئے یہ موتی دیکھے، میں نے ان کو اٹھا لیا۔”میں نے عرض کی: ” جب آپ وادی میں گئے تھے تو آپ کی کیفیت کیسی تھی۔” انہوں نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت میں اس حال میں نہیں تھا جس میں اِس وقت ہوں۔”

سب سے بڑی کرامت:

حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ” سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ تو اپنے برے اخلا ق کو اچھے اخلاق سے بدل ڈال۔”

error: Content is protected !!