Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عدت کی اہمیت قرآن کی روشنی میں ، عدت کی تعریف ، کس عورت کے لیے عدت نہیں ہے؟

❤️ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
ارشاد باری تعالی ہے:🕋
“مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں”(بقرہ 228)❤️
“اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہو جائیں نکاح کرنے سے مت روکو”(البقرہ 232)💛

سوال: عدت کی تعریف کیا ہے؟✍︎🌸
جواب: عدت کے لغوی معنی تو شمار کرنا ہے اور اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ “نکاح کے ختم ہونے کے بعد عورت کے لیے دوسرا نکاح ممنوع ہونا” اور شریعت کی بیان کردہ مدت تک انتظار کرنا۔ (فتاویٰ ھندیہ)♡︎
🔵❦︎••••♡︎••••🔴❥︎•••••••••𖣔

سوال: کس عورت کے لیے عدت نہیں ہے؟
جواب: 🌸اگر مرد اور عورت کے درمیان میاں بیوی والے تعلقات قائم نہیں ہوئے نہ ہی خلوتِ صحیحہ ہوئی ، یعنی ایسی تنہائی میں دونوں جمع نہیں ہوئے جس میں یہ تعلقات قائم کرنا حقیقتاً ممکن تھا تو ایسی عورت کو اگر طلاق ہو جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (البتہ ایسی عورت کو وفات کی عدت گزارنی ہو گی)👈🏻 قرآن پاک میں ارشاد ہے: اے ایمان والو ! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بغیر ہاتھ لگائے طلاق دے دو تو تمہاری وجہ سے ان پر کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو۔ (سورت احزاب ،آیت 49)🕋

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!