Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عورتوں کے حُقوق کا حقیقی پاسدار

عورتوں کے حُقوق کا حقیقی پاسدار 

اسلام کی آمد سے پہلے عورتوں سے بہت ہی بُرے سُلوک کئے جاتے تھے ، ان کی عزّت کو تار تار کیا جاتا ، اُنہیں پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ، ان کے حُقوق پامال کئے جاتے ، گھر میں بچّی کی ولادت کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھا جاتا ، انہیں زندہ درگور کردیا جاتا اور عورتوں کو جانوروں سے بھی بَدتر سمجھا جاتا تھا مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ دینِ اسلام نے آکر عورتوں  کو عزّت دی اور نہ صرف ان کے حُقوق بیان کئے بلکہ ان حُقوق کی ادائیگی کی تاکید اور اُس پر عظیم اجر و ثواب کی بشارت بھی دی ، اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے عورت کو چادر اور چار دیواری کی تاکید کی تاکہ اسکی عزّت و ناموس کی حفاظت کا خاطر خواہ بند و بست ہوسکے۔ پردے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ باپردہ عورت بُری نگاہوں سے بچی رہتی ہے اور اس کی عزّت و آبرو محفوظ رہتی ہے۔ اس کے برعکس جو عورت پردے کا اِہْتِمام نہیں کرتی وہ بُری نگاہوں کا نشانہ بنتی ہے اور اس کی عزّت و آبرو خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا عورتوں کو چاہئے کہ وہ باپردہ رہ کر اپنی عزّت کی حفاظت  کریں ۔ 
error: Content is protected !!