Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

آغازِ سخن

آغازِ سخن

یہ ایک حقیقت ہے کہ عقائد و معمولاتِ اہل سنت و جماعت
خصوصاً میلاد و فاتحہ وغیرہ کے موضوع پر تحریر کی گئی اپنی نوعیت کی بے مثال
کتاب’’ انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ ‘‘ مدتوں سے موقوف الاشاعت رہی، اور ارباب
علم و دانش کے علاوہ عام لوگوں کی نگاہوں سے عرصہ سے اوجھل رہی۔ جائے افسوس ہے کہ
اس کے جواب میں لکھی گئی رسوائے زمانہ کتاب ’’براہین قاطعہ‘‘ تو ہزاروں ہزار کی
تعداد میں متعدد اڈیشنوں کے چولے پہن کر منظر عام پر آئے، اور دلائل و تحقیقات کے
اُجالے بکھیر بکھیر دینے والی کتاب’’ انوارِ ساطعہ‘‘ گوشہ گمنامی میں پڑی رہے !،
اِسے اپنوں کی بے اعتنائی کے علاوہ اور کیا نام دیا جائے۔لیکن   الحمدللہ  اب غفلت کے دھندلکے چھٹنے لگے ہیں اور انوارِ
ساطعہ کی اشاعت کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں دو خوبصورت نسخے حلیہ
طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکے ہیں، ان میں ایک توالجامعۃُ الاشرفیہ مبارک
پور کے نباضِ وقت با ذوق طلبہ کی کوششوں کا ثمرہ ہے، اور دوسراجماعت کے ممتاز تصنیفی
و تربیتی ادارہ ’المجمع الاسلامی‘‘کا۔اللہ
اُنھیں اُن کی خدمتوں کا بہتر صلہ عطا فرمائے۔
’’انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ ‘‘فاضل مصنف کے
زمانے کی علمی،ادبی،تحقیقی اور ثقافتی بوقلمونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ کتاب جہاں
تفریق بین المسلمین کی تاریخ اور اس کے اسباب و عوامل پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے وہیں
علم غیب،مسئلہ حاضر و ناظر اور دوسرے اہم علمی و فقہی مسائل و مباحث کی گرہیں بھی
کھولتی ہے۔
ان موضوعات پر اب تک خدا معلوم کتنی کتابیں معرض اشاعت
میں آ چکی ہیں مگر ان میں حضرت رام پوری  رحمۃ
اللہ علیہ  کا طرزِاستدلال،رنگ تحقیق،اندازِ
نگارش اور وطیرۂ بحث دل چھوتا اور خاصا اچھوتا ہے۔علمائے حق اور ارباب فقہ و بصیرت
کی تحریروں کاجو طرۂ امتیاز ہوتا ہے وہ اس کتاب کی سطرسطر سے چھلکا پڑتا ہے،ان تحریروں
میں صلح و مصالحت کا رنگ چڑھانے اور برادرانِ طریقت کے درمیان مفاہمت و مواخات کی
سنہری فضا قائم کرنے میں مصنف نے پوری فیاضی اور دریا دلی کا ثبوت پیش کیا ہے۔
فاضل مصنف نے منکرین کے بے سروپا اعتراضات کے
شائستہ انداز میں نہایت معقول جوابات دیے ہیں۔الزامی جواب کے التزام کے
ساتھ ان گوشوں پر فقہی تحقیق و تدقیق کی نہریں بھی بہا دی ہیں۔
سچی بات بتاتا ہوں کہ اس کتاب سے میری دلچسپی صرف اسی
حد تک تھی کہ میرے وطن مالوف کے ایک نامور ادیب، عالم و محقق مولانا محمد فاروق
عباسی چریاکوٹی نے اس پر اپنی تقریظ  بے
بہا ثبت کی ہے اور بس، غلطی سے بھی اس کتاب کو پڑھنے کی غلطی میں نے کبھی نہیں کی،
مگر ہوا کچھ یوں کہ مصنف انوارِ ساطعہ سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی
قدس سرہ   کے بھاری
بھرکم تعریفی الفاظ اور توصیفی کلمات نے میرے سمندشوق کو مہمیز لگا دیا اور اس طرح
چیدہ چیدہ مقام سے ایک دفعہ پوری کتاب دیکھنے کا خیال پیدا ہوا، لیکن مشکل یہ درپیش
ہوئی کہ قریباً تین سو صفحات پر بکھری ہوئی یہ کتاب کوئی ایک ہی پیراگراف پر
اختتام پذیر ہو گئی ہے تو پیراگراف ختم ہونے کے انتظار میں مجھے پوری کتاب
مجبورانہ پڑھ ڈالنا پڑا لیکن اس کا تاثر یہ ہوا کہ اب میرے افق ذہن پراس کتاب کی
عظمت کا سورج پورا پورا خط نصف النہار پر آ چکا تھا، اور اس پر کچھ کر گزرنے کا
جذبہ بیدار ہو چکا تھا۔
اس کتاب کے عوام و خواص ہر ایک کی خاطر یکساں مفید
ہونے کے لیے ضروری تھا کہ یہ کتاب اپنا پیراہن کہن بدلے، اور اپنی افادیت میں اضافہ
کرنے کے لیے تحقیق و تخریج کی قبا زیب تن کرے۔ مرشد گرامی قدر حضور سیدی علامہ محمد
عبد المبین نعمانی قادری  دام ظلہ النورانی  بھی اس کی تسہیل و تخریج سے متعلق کئی بار اپنی
نیک خواہشوں کا اظہار فرما چکے تھے۔ مگر یہ کارِ زہرہ گداز کرے کون؟۔۔۔۔۔۔
اسی دوران اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل فراواں سے
مجھ ناکارۂ جہاں کے لیے دلاص یونیورسٹی، جنوب افریقہ  میں تدریسی خدمات سرانجام دینے کا ایک خوبصورت
بہانہ کر دیا۔ تعطیل کلاں میں کچھ اس کتاب پر کام کرنے کی لگن پیدا ہوئی مگر اوّل
تو انوارِ ساطعہ ہی اپنے پاس نہ تھی اور پھر اس پر مستزادیہ کہ تحقیق و تخریج کے لیے
ناگزیر کتابوں کی عدم فراہمی۔ انجام کار موسم کی یخ بستگی کے ساتھ میرے جذبات بھی
ٹھنڈے پڑ گئے۔
پھر یکایک اسباب بہم ہونے شروع ہوئے،انٹرنیٹ کی وساطت
سے انوارِ ساطعہ بھی مل گئی اور تحقیق و تخریج کے لیے انٹرنیٹ کی مدد سے ہزاروں سے
زائد امہات الکتب کا انبوہِ کثیر بھی ہاتھ آ گیا۔
پھر کیا تھا ’’چل مرے خامہ بسم اللہ‘‘ کا
وِرد کر کے
۴ا ؍ صفر مظفر  ۱۴۲۸ھ  مطابق ۴ ؍ مارچ  ۲۰۰۷ء  کو میں نے تسہیل و تجدید اور تخریج و تحقیق کا عمل
شروع کر دیا۔ اس دوران بعض مقامات پر سخت مایوسی کا سامنابھی ہوا مگر پھر اُن کی
تحلیل کی صورتیں بھی پیدا ہوتی گئیں۔ اس طرح کم و بیش ساڑھے تین ماہ کی جی توڑ
کوششوں اور موٹی گاڑھی محنتوں کے بعد
۲۹ ؍ جمادی الآخرہ  ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۷؍جون  ۲۰۰۷ء  میں تسہیل و تحقیق کا یہ آہوئے پر شوق حرم رسیدہ
ہو گیا۔ فلِلّٰہ الحَمْدُ و المِنَّۃ۔
تحقیق و تخریج کے حوالے سے ایک ضروری عرض یہ ہے کہ
حوالہ جات مطبوعہ کتابوں سے نسبتاًکم اور انٹرنیٹ کی وساطت سے زیادہ درج کیے گئے ہیں
، اس لیے حوالوں میں مطابع کتب کا کوئی اہتمام نہیں ہوا ہے، تاہم کتب حدیث کے ساتھ
حدیثوں کے نمبر اور کتب فقہ وغیرہ میں اَبواب کی تعیین کا اِلتزام کر کے اس ضرورت
کی کسی حد تک تکمیل کرنے کی کوشش کر دی گئی ہے۔
میں کہ اپنے جیب و داماں زیورِ علم سے خالی پا کر تخریج
و تحقیق کے اس اہم کام کے لیے کبھی ہمت نہیں جٹا سکا تھا مگر پروردگار عالم میرے
ارباب فیض و کرم پر اپنی عطا و  نوال کے مینہ
برسائے جنھوں نے ہر آڑے وقت پر اپنا علمی و فکری تعاون فرما کر میرے حوصلوں کو
توانا رکھا۔دینی علم وفکرسے اپاہج شہر میں بیٹھ کراس طرح کے علمی کام سرانجام دینا
اور بھی مشکل ہو جاتا ہے،وہ صرف توفیق اِلٰہی ہی کا کمال ہے جس کی وجہ سے ایسا کچھ
کر دینا میرے لیے ممکن ہوسکا۔
اس موقع پر میں جماعت کا سچادرد رکھنے والی اور اصلاح
اُمت کے حوالے سے ہمہ وقت فکر مند رہنے والی حضور نعمانی صاحب قبلہ کی عبقری شخصیت
کاکیسے شکر ادا کروں جنھوں نے کثرتِ کار اور ہجوم افکار کے با وصف پوری کتاب حرفاً
حرفاً  ملاحظہ فرمائی، اور اپنی گراں قدر اصلاحات
و ہدایات سے مجھے نوازا۔میرے دیرینہ دوست ڈاکٹر مختار گل ہاشمی بھی میرے سپاس کے
بھرپور سزاوارہیں جنھوں نے ہر موقع پر اپنا دست تعاون دراز کرنے میں کبھی بخل سے
کام نہ لیا،ساتھ ہی اپنے جملہ اساتذہ و معاونین کے لیے بھی تشکر و امتنان کے جو
جذبات درونِ دل چھپے ہیں شاید اُن کی تعبیر سے حرف  وصوت آشنا نہ ہوسکیں،شکرو سپاس کے رسمی الفاظ کسی
طور اُن حضرات کی خدمتوں کا صلہ نہیں ہوسکتے، ان کی بہترین خدمات کابس اللہ ہی انھیں
بہتر اَجر دے۔ آمین۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انوارِ ساطعہ اپنی سلاست و
سادگی،عبارت کی دل نشینی و پختگی اور تحقیق کی ندرت و عمدگی کے اعتبارسے آج بھی ایک
مفید اور زندہ و تابندہ کتاب ہے۔ہاں !اس کے بعض الفاظ و فقرے ضرور تشریح طلب تھے،نیز
فاضل مصنف کے زمانے کا طریق اِملا کچھ اور تھا، خصوصاً علامات اوقاف کے استعمال کا
تو پہلے کوئی دستور ہی نہ تھا، پھر بعد میں طریق اِملا  تدریجاً اصلاح پاتا رہا، لہٰذا ضروری تھا کہ قدیم
طریق اِملا چھوڑ کر جدیدرسم املا اختیار کیا جاتا اور جا بجا اوقاف لگا دیے جاتے
تاکہ عبارت عام فہم بن جائے اور کتاب کی افادی حیثیت بڑھ جائے۔ ہم نے  بحمد اللہ   اس کتاب کے اندر تحقیق و تخریج کی بابت جہاں عالم
عرب کا اسلوب جدید اپنایا ہے وہیں تسہیل و تجدید کے سلسلے میں فاضل مصنف کے عہد کا
طریق اِملا چھوڑ کر مروجہ طریق اِملا بھی اختیار کیا ہے۔مثلاً :
٭        فاضل
مصنف کے زمانے میں بعض الفاظ ملا کر لکھنے کا دستورتھاجیسے: ’’جانکر‘‘، ’’تمکو‘‘
وغیرہ، پیش نظر کتاب میں ہر لفظ جدا جدا لکھا گیا ہے۔’’جان کر‘‘،’’تم کو‘‘۔
٭        فاضل
مصنف کے دور میں ’’ہو‘‘ اور ’’جائے‘‘ کو ’’ہووے‘‘ اور ’’جاوے‘‘ لکھا جاتا تھا۔پیش
نظر کتاب میں موجودہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
٭        پوری
کتاب میں جا بجا اوقاف لگا دیے گئے ہیں تاکہ فقرے اور جملے ممتاز رہیں، اس سلسلے میں
بعض مقامات سے ’’ اور ‘‘یا اس قسم کے دوسرے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں جو دراصل
الٹے واؤ(کاما) اور وقفے (ڈیش) کا بدل تھے۔
            ہمارے
نزدیک ان میں سے کسی بھی چیز کو متن میں تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا، اسے صرف طریق
املا کا فرق کہنا چاہیے۔
٭        جن
الفاظ یا فقرات کا مفہوم توضیح طلب تھا ان کی توضیح حاشیے میں کر دی گئی ہے یا متن
میں قوسین کے اندر ایک لفظ یا چند الفاظ بڑھا دیے گئے ہیں۔
٭        جو
احادیث متن میں جزوی طور پر نقل تھیں انھیں حاشیے میں مکمل کر دیا گیا ہے،نیز حدیث
کا اصل متن بھی لکھ دیا گیا ہے۔
٭        فاضل
مصنف نے بعض آیات کے ترجمے میں صرف مطالب قرآنی اور اپنا مقصد پیش نظر رکھا ہے اور
بعض چھوڑ دی ہیں،ہم نے ہر جگہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ  کا ترجمہ قرآن کنز الایمان درج کر دیا ہے۔
تسہیل و تجدید،تہذیب و تذہیب اور تخریج و تحقیق کی یہ
حقیر کاوش آپ کے سامنے ہے۔ بساط بھر کوشش کی گئی ہے کہ کتاب کا مطالعہ زیادہ سے زیادہ
سہل وآسان اور قلب و نظر کی جاذبیت کا سامان ہو جائے۔اب اپنے مقصد میں ہم کتنے کامیاب
ہوئے ہیں اس کا فیصلہ تو با ذوق اہل علم ہی کریں گے۔ ہاں !  اس سلسلے میں ملنے والی کامیابی کو ہم اللہ  سبحانہ و تعالیٰ  کے فضل بے کراں کا کرشمہ تصور کرتے ہیں، اور کہیں
فروگزاشت ہوئی ہو تو اسے اپنے فکرو  نظر کی
لغزش سمجھتے ہوئے قارئین کرام سے معذرت خواہ ہیں۔
ہماری اس کوشش کا مقصد اس کے سواکچھ نہیں کہ فاضل مصنف
رحمہ اللہ کے اس اہم علمی اور تحقیقی
کارنامے سے استفادے کا دائرہ وسیع سے وسیع ت رہو جائے، اور امت مسلمہ پامردی کے
ساتھ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر جادہ پیما ہو جائے کیوں کہ ہماری ہر کامیابی انھیں کے
قدموں کی برکتوں کا استعارہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ‘ معلم کائنات صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کے نعلین پاک کے صدقے ہمیں کتاب و سنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے،
کدورت و نفرت کے اندھیروں کو اُلفت  و محبت
کے اُجالوں سے بدل دے اور دارین کی سعادتوں والے کام سر انجام دینے کی توفیق ہمارے
رفیق حال کر دے۔
آمین بجاہِ حبیبک سیّد المُرسَلین::علیہ
أفضَل الصَّل
ٰوۃ وَأکرم التَّسْلیم
ناکارۂ جہاں  :محمد
افروز قادری چریاکوٹی

پروفیسر: دلاص یونیورسٹی۔کیپ ٹاؤن،جنوبی افریقہ، ایڈیٹر:
ماہنامہ چراغِ اُردو، کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ

error: Content is protected !!