Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قبر کی دِل ہلا دینے والی کہانی:

قبر کی دِل ہلا دینے والی کہانی:

امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جنازے کے ساتھ قبرِستان تشریف لے گئے، جب لوگوں نے صفیں بنالیں توآپ سب سے پیچھے چلے گئے( وہاں ایک قَبْرکے پاس بیٹھ کر غور وفکر میں ڈوب گئے)، آپ کے دوستوں نے استفسار کیا: ”اے امیرالمؤمنین! آپ تو میت کے ولی ہیں اور آپ ہی پیچھے چلے گئے۔” کسی نے عرض کی، ” یا امیرَالمومنین! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تنہا کیسے تشریف فرما ہیں؟ فرمایا،”ابھی ابھی ایک قَبْر نے مجھے پُکار کربلایا اور بولی، اے عمر بن عبد العزیز( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں اپنے اندر آنے والوں کے ساتھ کیا برتاؤکرتی ہوں؟میں نے اُس قبر سے کہا ، مجھے ضَرور بتا۔ وہ کہنے لگی ، جب کوئی میرے اندر آتا ہے تَو میں اس کا کفن پھاڑ کرجِسْم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی اوراس کا گوشت کھا جاتی ہوں،کيا آپ مجھ سے يہ نہيں پوچھيں گے کہ ميں اس کے جوڑوں کے ساتھ کيا کرتی ہوں؟ميں نے کہا، ضَرور بتا۔ تو کہنے لگی، ” ہتھيلیوں کو کلائيوں سے ،گُھٹنوں کوپِنڈليوں سے اور پِنڈليوں کو قدموں سے جداکرديتی ہوں ”۔ اتنا کہنے کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہچکیاں لے کر رونے لگے ۔جب کچھ اِفاقہ ہوا تو کچھ اس طرح عبرت کے مَدَ نی پھول لٹانے لگے، ” اے اسلامی بھائیو! اِس دنیا میں ہمیں بَہُت تھوڑ ا عرصہ رہنا ہے ،جو اِس دنیا میں(سخت گنہگار ہونے کے باوُجُود) صاحِب اقتدارہے وہ (آخِرت میں) انتہائی ذلیل و خوا ر ہے۔ جو اس جہاں ميں مالدار ہے وہ (آخرت ميں) فقير ہوگا۔اِس کا جوان بوڑھا ہوجائے گا اور جو زندہ ہے وہ مرجائے گا۔ دنيا کا تمہاری طرف آنا تمہیں دھوکہ ميں نہ ڈال دے،کيونکہ تم جانتے ہو کہ يہ بہت جلد رخصت ہوجاتی ہے ۔ کہاں گئے تلاوتِ قراٰن کرنے والے ؟کہاں گئے بيتُ اللہ کا حج کرنے والے ؟کہاں گئے ماہِ رَمَضان کے روزے رکھنے والے ؟خاک نے ان کے جسموں کا کيا حال کرديا ؟قبر کے کيڑوں نے ان کے گوشت کا کيا انجام کرديا ؟ان کی ہڈِّيوں اور جوڑوں کے ساتھ کيا ہوا ؟اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!دُنيا ميں یہ آرام دِہ نرْم نرْم بستر پر ہوتے تھے ليکن اب وہ اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر راحت کے بعد تنگی ميں ہيں،ان کی بيواؤں نے دوسرے نکاح کرکے دوبارہ گھر بسالئے ،ان کی اَولاد گليوں ميں دربدر ہے، ان کے رشتہ داروں نے ان کے مکانا ت وميراث آپَس ميں بانٹ لی ۔واللہ!ان ميں کچھ خوش نصيب ہيں جو قبروں ميں مزے لوٹ رہے ہيں اورواللہ! بعض قبر ميں عذاب ميں گرفتار ہيں۔
افسوس صد ہزار افسوس، اے نادان! جو آج مرتے وَقت کبھی اپنے والِد کی ، کبھی اپنے بیٹے کی توکبھی سگے بھائی کی آنکھیں بند کر رہا ہے، ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ، کسی کو کفن پہنا رہا ہے، کسی کے جنازے کو کندھے پر اُٹھارہا ہے ، کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے، کسی کو قبر کے گڑھے میں اتارکردفنا رہا ہے۔ (یاد رکھ! کل یہ سبھی کچھ تیرے ساتھ بھی ہونے والا ہے) کاش!

مجھے علْم ہوتا! کون سا گال ( قبر میں) پہلے خراب ہوگا”پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزيز رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ايک ہفتہ کے بعد اس دنيا سے تشريف لے گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم !تمہاری بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آگیا ہے،تم کب تک اس غفلت کا شکار رہو گے؟ قیامت کی ہولناکیاں تمہارے سامنے ہیں کہ جس دن باپ اپنی اولاد سے بھاگے گا، تمہیں اس وقت انتہائی افسوس ہوگاجب تمہارے اعمال کا حساب ہوگا، تُم سوکھی ہوئی اس گھاس کی مانند ہو جاؤ گے جس کو ہوائیں اِدھر اُدھر پھینک رہی ہوتی ہیں۔ تم کب تک اس غفلت میں مبتلا رہوگے حالانکہ توبہ کی قبولیت کا علم تو ظاہر ہو چکا ہے۔اے خواہشات کے سمندر میں غرق ہونے والو! نجات کی کشتی پرسوارہوجاؤاور اپنے افعال سے برائیوں کا جڑسے خاتمہ کردو،اپنے نفس کو ندامت کے ساحل پر ڈال دو پھر تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بہت زیادہ کرَم فرمانے والاپاؤ گے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں ذِلّت اور عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلاؤ اور اس گھڑی گریہ وزاری کرتے ہوئے پکارو!اے وہ ذات جس کی نافرمانی کرنااس کو نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی جس کی اطاعت کرنااس کو کوئی فائدہ دیتی ہے! یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری خرابیوں کے بدلے درستی عطا فرما اور خسارے کے عوض نفع عطا فرما۔ اے وہ ذات جس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہے! اپنی رحمت سے ہمارے معاملے میں درگزرفرما۔

وَصَلَّی اللہُ علٰی سيِّدِنا محمَّدٍ وَاٰ لہٖ وصحبہٖ وسلَّم تَسْلِیْماً دَائِماً اِلٰی یَوْمِ الدِّیْن

error: Content is protected !!