Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مال کی مذمت قرآن وحدیث میں

مال کی مذمت

( اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

”ترجمہ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔”(پ30، التکاثر)

حمدِباری تعالیٰ

سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی پختہ وحدانیت کے ثبوت پر ظاہری و باطنی موجودات کے دلائل کے ساتھ اپنی قدرتِ کاملہ کو دلیل بنایااور کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں میں غوروفکر کرنے والے انسان کے لئے پُرحکمت دلائل اور مختلف اشیاء کے ایجاد و اختراع کو منہ بولتا ثبوت بنایا۔ قضاء کے قاصد نے تقدیر کے قلم سے تیزی سے گزرنے والے موجودات پر لکھ دیاہے کہ ان کے اسرار ورموز کو سوائے ارواحِ طیبہ کی زباں کے کوئی نہیں پڑھ سکتا۔ عقل مندوں کی آنکھوں کے لئے فہم وادراک کے ستارے جگمگائے تو انہوں نے قرآنِ حکیم میں جبَّار وقہَّارکے عجائب وغرائب کا مشاہدہ کیا۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :

مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنْیَا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ ترجمۂ کنزالایمان:تم میں کوئی دنیاچاہتاتھااورتم میں کوئی آخرت چاہتا تھا۔”(پ۴،اٰل عمران:۱۵۲)
اللہ عزَّوَجَلَّ نے عقل کو عجز کے نشے سے مدہوش کیا اور اس کے لئے حرکات و سکنات کی بساط پرپردۂ غیب کے پیچھے سے خیالات کے ایسے خاکے ظاہر کئے جن کا باطن مغلوب اور ظاہرغالب ہے ،پھر فکر کی زمین پر عقل کے پیروکار کو کھلا چھوڑ دیاتاکہ وہ ادراک کے شہر تک پہنچ جائے۔ لیکن اچانک تقدیر کے گھوڑے نے اس پرچڑھائی کر دی اور اس کو اس حد پر روک دیا جہاں تک عقل کی رسائی ہے،تو اس پیروکار نے جان لیا کہ اس کے ظاہری ذرائع حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے عقل کو رفعت عطا فرمائی، آنکھوں کو بصارت سے نوازا اور انسان نے مراتب ِ افلاک میں فرشتوں کے درجات کا مشاہدہ کیا تو وہ ہیبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے سربسجود ہو گیا اور عظمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ دیکھ کر کھڑ اہوگیا، قدرت کے ساتھ قائم ہو گیا، محبت میں دیوانہ ہو گیا اور احکامِ خداوندی کی بجا آوری کے لئے کمر بستہ ہو گیا۔
اللہ عزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو آئینۂ عبرت دِکھایا پس کائنات کی صورتیں عدم سے وجود میں آگئیں،تاکہ انسان اپنی کوتاہیوں پر نادِم ہو،اس سے باہم متضاد ومخالف طبیعتوں کے ذریعے دلائل قائم کرنے سے تخلیقِ خداوندی کے راز ظاہر ہوگئے پس ہم نے مشاہدہ کیا کہ حیوان میں حرارت و برودت کو یوں جمع کیا گیا ہے کہ حرارت ٹھنڈک سے نہیں بچاتی اور ٹھنڈک حرارت سے نہیں بچاتی۔ اللہ ُ قدیر عَزَّوَجَلَّ کی قدرت مقدورات میں بالکل ظاہر وباہر ہے ۔ ایک ہی غذا کے اجزاء کی تقسیم کاری نے عقل والوں کو

حیرت میں ڈال دیا کہ کس طرح ایک ہی غذا سے گرم طبیعت والے کو گرم اور سرد طبیعت والے کو ٹھنڈی غذا ملتی ہے۔اور ہر غذا اپنی مطلوبہ مقدار کے برابر ہی حاصل ہوتی ہے۔جبکہ پانی بھی ایک ہے اور غذا بھی ایک ہے۔اور اس تقسیم میں مختلف راز ہیں جنہیں دیکھنے والی نگاہیں نہیں دیکھ سکتیں ۔اللہُ حکیم عَزَّوَجَلَّ نے اپنی حکمت کے ساتھ عقل کے کانوں کو ندا فرمائی: اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿۴۹﴾ ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔”(پ۲۷،القمر:۴۹)
”ہر چیز” سے مراد رزق ،مدتِ حیات ،سعادت و شقاوت اور قرب و بعدہیں۔ کاش! میں اس آیت مبارکہ کا حقیقی معنی جان لیتا؟ اور ان چیزوں سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے ؟ اللہُ قادر عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کی حکمت کا دامن خامیوں سے پاک ہے، ہلاکت کی انگلیاں اس کی بے نیازی میں تبدیلی نہیں کر سکتیں، کوئی اس کے کلمات کو بدلنے کی خواہش نہیں کر سکتا۔ انسانی عقل اس کی مشیئت کے اسرار کی حجت سمجھنے سے قاصر ہے اور اگر سمجھنے کی کوشش کرے تو جہالت کی تاریکی میں حیران ہو کر رہ جائے۔ اس نے لوحِ محفوظ کی لگام اپنی تقدیر کے ہاتھ میں دے دی۔اور تقدیر کے قلم کے ساتھ قضا لکھنے والے کو اپنے مقبول و مردود بندوں کے اسرارلکھنے کا حکم صادر فرمایا۔ وہ بے نیاز رب عَزَّوَجَلَّ بغیر کسی سبب کے اپنا قرب عطا فرما سکتاہے اوراپنی بارگاہ سے دور کر دیتا ہے اور اس نے اس بات کو اپنے اَزَلی فیصلے سے لکھ دیا ہے پس کبھی یہ فیصلہ ظاہر ہوجاتا ہے اور کبھی پوشیدہ رہتا ہے، وہ مٹاتا اور لکھتا ہے،منسوخ اور ثابت فرماتا ہے،دُور اور قریب کرتا ہے،ہدایت دیتا اور گمراہ کرتا ہے اورعزت وذلت دیتا ہے۔
اور اس نے فہموں اور عقلوں کو ان رموز کے سمجھنے کا حکم دیا مگر عقلوں کی بصیرت ان کا ادراک کہاں کر سکتی ہے؟ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے میرے اسلامی بھائی! اس کی بارگاہ میں کیسا حیلہ اور کونسا سبب؟ تقدیریں کیوں بنائی گئیں؟ اپنے اعمال سے نفع کس کو ہوا؟ اور کس نے اپنے اعمال سے نقصان اٹھایا؟ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے ظاہری نظامِ کائنات کے پردوں کے ساتھ دیکھنے والوں کی نگاہیں اسرارِ خداوندی کا مشاہدہ کرنے سے بند کر دِیں، اور طبائعِ انسانی شرعی پابندیوں کے خیموں کے ساتھ چھپا دی گئیں تو وہ ہمیشہ کے لئے رسول کی محتاج ہو گئیں۔
میں اس ذاتِ وحدہ، لاشریک کی حمد کرتا، اس پر ایمان لاتا اوراسی پر توکُّل کرتا ہوں اورہر قوت وطاقت میں اس عاجز بندے کی طرح بری ہوں جواپنی نافرمانیوں کا معترف ہے اوراللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ یکتا ہے اس کاکوئی شریک نہیں۔ وہ کمِّیت وکیفیت،سمت ، زمان و مکاں، جزء وکل، دائیں بائیں،اوپر نیچے اور آگے پیچھے کی صفات سے مُنَزَّہ ومُبَرَّہ ہے،کیو نکہ یہ تو فانی اجسام کی صفات ہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت سیِّدُنا محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں، وہ اولین و آخرین اور تمام مرسلین کے سردار ہیں، صدیقین کے سلطان، خاصانِ بارگاہِ الٰہیہ کے امام اور روشن و چمک دار پیشانی والوں کو ان ابدی نعمتوں میں لے جانے والے ہیں جن کے

بارے میں اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾ ترجمۂ کنزالایمان:کچھ منہ اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے۔” (۱)(پ۲۹،القیامۃ:۲۲۔۲۳)
اللہ عزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ، صحابہ واہلِ بیت ،ازواجِ مطہّرات اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر رحمت نازل فرمائے (آمین)جو اس وقت ہمارے دلوں کی حفاظت فرمائے گا جب تو دیکھے گا کہ قیامت کی ہولناکیوں سے دل خوف کے عالم میں اُڑ رہے ہوں گے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ذرا ان لوگوں کے متعلق توبتاؤ جو ساری زندگی مال و دولت جمع کرتے رہے لیکن ان کے جمع شدہ مال نے مرنے کے بعد انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ کیا وہ سب کے سب قبروں میں اکٹھے نہیں ہوگئے؟وہ لوگ جنہوں نے ساری زندگی خواہشاتِ نفسانیہ کی پیروی میں بسر کی مگر پھر بھی سیر نہ ہوئے، اب وہ کہاں چلے گئے ؟کیا تم ان کودیکھ کریہ خیال کرتے ہو کہ وہ بڑی اچھی جگہ پر ہیں یا پھر وہ قید کر دئیے گئے ہیں کہ واپس نہیں لوٹیں گے۔کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں دنیا نے دھوکے میں مبتلا رکھا؟ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ محض شہوات کی و جہ سے ذلیل و رسوا ہوئے۔ کہاں ہیں وہ جن کی خاطر اسباب نے غفلت کے جال بُنے یہاں تک کہ وہ ان میں پھنس گئے؟ جب ان کے پاس پیاروں میں جدائی ڈالنے والا(موت کا فرشتہ) آیا تو وہ اس کی ہیبت سے لڑکھڑا کر عجزوانکساری کرنے لگے،لیکن پھر بھی اس نے ان کے درد والم کی کوئی پرواہ نہ کی اورانہیں ان کے اہل و عیال سے دُور کر دیا تو ان کے گھر والے اور دوست ان پر رونے لگے۔ افسوس ان پر کہ خو د تو زندگی پانے میں کامیاب ہو گئے لیکن ان کو ان کے اعمال کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا اور انہیں بھلا دیا، سارے رشتے ناطے توڑڈالے تو مرنے والے نے حسرت کی زبان سے اپنے ان احباب کو پکارا: ”اے کاش! تم سن لو اور اس انسان پررحم کرو جو قبر میں دفن ہے، جس کے پاس نہ تو کوئی ایسا عمل ہے جو اس کی نجات کا باعث ہو اور نہ ہی کوئی غمگسار کہ اس کے غم کا مداوا کرے۔”
انہیں افسوس و ندامت کا جام گھونٹ گھونٹ کرکے پینا پڑا،کیڑوں نے ان کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اب وہ دنیا میں واپس آنے کی تمنا کرتے ہیں تا کہ دن کو روزہ رکھیں اور رات بھر جاگ کر بارگاہ ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں حاضر ہوں۔ ہائے، افسوس! وہ اپنے بوئے ہوئے اعمال کی کھیتی کاٹ رہے ہیں۔

پیارے اسلامی بھائیو!اللہ عزَّوَجَلَّ تمہارے حال پر رحم فرمائے! جلدی کرو، تمہارے سامنے پل صراط اور حساب و کتاب کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔نزع کی سختیاں سر پہ کھڑی ہیں،وہ دن آیا چاہتاہے جس میں تمام رشتے ختم ہو جائیں گے، نہ اہل و عیال نفع دیں گے، نہ ہی مال ودولت اور کوئی دوسرے اسباب۔ یاتو جنت کی نعمتیں ملیں گی یا پھر جہنم کا عذاب۔ہر ایک زبانِ حسرت سے پکار رہا ہو گا: ہائے افسوس !یہ کیسا نامۂ اعمال میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا ہے۔اے وہ شخص جس کو شہواتِ نفسانیہ نے گڑھوں میں دھکیل دیا ہے،اور اے وہ شخص جس نے اپنے ظاہروباطن کو حرام اشیاء سے آلودہ کر دیا ہے اور اے وہ شخص جس کے نامۂ اعمال کو دیکھنے سے آنکھیں بھی کتراتی ہیں ۔اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

(2) اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے ،یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(۱)(پ30، التکاثر:1۔2)
” اَلْھٰکُمْ ”کا معنی ہے، تمہیں غافل کردیا اور”تَکَاثُرْ” کا معنی ہے، زیادہ طلبی۔اس کا معنی یہ بھی ہے کہ نسب، مال اور اولاد میں کثرت کے سبب ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ مال جمع کرنے والوں اور باہم فخر کرنے والوں کو ارشاد فرمارہا ہے:

اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(پ30، التکاثر:1۔2)
یعنی جس مال کی وجہ سے تم ایک دوسرے پرفخر کرتے ہو اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔اور یہاں پر احتمال ہے کہ یہ قَسم کے قائم مقام تاکید ہے اوریہ بھی احتمال ہے کہ مال کی زیادہ طلبی اور ایک دوسرے پر فخر کرنے پر زجر وتوبیخ کی گئی ہے۔

(2) کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ﴿3﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ہاں!ہاں!جلدجان جاؤگے۔(پ30، التکاثر:3)
یعنی قیامت کے دن مال کے متوالوں کا محاسبہ ہونے کے بعدتم جان لوگے۔

(3) کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ﴿3﴾

ترجمۂ کنزالایمان:پھرہاں!ہاں!جلدجان جاؤ گے۔(پ30، التکاثر:4)

(4)کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوۡنَ عِلْمَ الْیَقِیۡنِ ؕ﴿5﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ہاں!ہاں!اگریقین کاجانناجانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے۔(پ30، التکاثر:5)
اے لوگو! اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں تمہاری حیثیت کیا ہو گی جب سکراتِ موت کا ظہور ہو گااور نامۂ اعمال پھیلا دیا جائے گا جو نہ کسی چھوٹے گناہ کو چھوڑے گا نہ بڑے کو۔ ”عِلْمَ الْیَقِیْن” سے مراد دلوں کااس چیزپراطمینان حاصل کر نا ہے جس سے شک دور ہو جاتا ہے۔

(5) لَتَرَوُنَّ الْجَحِیۡمَ ۙ﴿6﴾

ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ضرور جہنم کو دیکھو گے۔(پ30، التکاثر:6)
اس سے مراد یہ ہے کہ قبر میں ہر آدمی کو جہنم میں اس کاٹھکانہ دکھایا جاتا ہے، اگر وہ سعادت مند ہو تواسے وہ ٹھکانہ دکھا کر اس سے نجات کی خوشخبری دی جاتی ہے اور اگر بدبخت وشَقِیُّ الْقَلْب ہو تو اس کے لئے جہنم کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

(6)ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الْیَقِیۡنِ ۙ﴿7﴾ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿8﴾

ترجمۂ کنزالایمان:پھربے شک ضروراسے یقینی دیکھنادیکھو گے، پھربے شک ضروراس دن تم سے نعمتوں کی پُرسِش ہوگی۔(۱)(پ30، التکاثر:7۔8)
یعنی بروزِ قیامت صحت اورفراغت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ حضرات مجاہد و قتادہ رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”نعیم میں ہروہ چیز داخل ہے جس سے لُطف اندوز ہوا جائے۔”
اے وہ شخص جس پر لوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے ہیں اور وہ خواہشات میں گھرا ہوا پیچھے رہ گیا ہے! جس نے اپنی عمر ٹالَمْ ٹَول کرتے ہوئے اور بیہودہ کاموں میں گزار دی۔ اے وہ شخص گناہوں پر جس کا دل سخت ہو چکا ہے اور جس کی آنکھوں سے خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ سے آنسو نہیں بہتے! اے وہ شخص جس کے بال سفید ہوگئے پھر بھی وہ نافرمانیوں پر ڈٹا ہوا ہے! کتنی ہی بار تو نے علاَّمُ الغیوب ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرکے اس کامقابلہ کیا؟ تیری غفلت کے متعلق اللہ عزَّوَجَلَّ یوں ارشاد فرماتا ہے :

اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(پ30، التکاثر:1۔2)
حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ”جس نے حرام مال کمایا پھر اس کو صدقہ کیا یا اس کے ساتھ صلہ رحمی کی یاراہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خرچ کیا تو اس کا یہ سارا مال جمع کر کے اس کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔”

(مراسیل ابی داؤد، باب زکوٰۃ الفطر، ص۹۔بتغیرٍقلیلٍ)

حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ”بندہ مالِ حرام میں سے جو بھی کمائے اور اسے خیرات کرے تو وہ قبول نہیں ہوتا اوراسے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی اوراسے اپنے بعد والوں کے لئے چھوڑے تووہ اس کے لئے آگ کا توشہ ہوگا۔”

(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن مسعود،الحدیث۳۶۷۲،ج۲ ،ص۳۳،بتغیرٍقلیلٍ)

حضرت سیِّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے : ”اے لوگو!تم میں سے ہر گز کوئی موت کا شکار نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنا مکمل رزق نہ پا لے لہٰذا تم رزق کے متعلق تنگ دل نہ ہو اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرواور عمدہ طریقے سے رزق طلب کرو، اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی حلال کردہ چیزیں لے لو اور حرام کردہ چھوڑ دو۔”

(المستدرک،کتاب الرقاق، باب الحسب المال والکرم التقوی، الحدیث۷۹۹۴،ج۵، ص۴۶۴)

افسوس، تعجب ہے تجھ پر! جب بھی اللہ عزَّوَجَلَّ نے نعمتوں کی بِساط بچھائی تو تو نے نافرمانی کرکے اس کا مقابلہ کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”اے میرے بندے! کتنی ہی بار ہم نے دیکھا کہ تو نے ہماری محفل چھوڑ کر شیطان کی مجلس اپنائی، میں نے تجھ پر کتنے احسانات و انعامات فرمائے اور میں منَّان ہوں۔ اے میرے بندے! میں تو تجھے اپنے وصال کی دولت سے نوازنا چاہتا ہوں اور تو ہے کہ ہجروفراق کو محبوب رکھتا ہے،اس وقت تیرے پاس کیا حیلہ ہو گاجب تجھ پرمیرا غضب ہو گا اور تیرے اہل و عیال بھی تجھ سے دور بھاگ رہے ہوں گے۔” اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(پ30، التکاثر:1۔2)
حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار ارشاد فرماتے ہیں کہ” میں ایک سال حج کی سعادت سے بہرہ مند نہ ہو سکا، اور کوفہ کی ایک تنگ گلی میں ٹھہر گیا۔ ایک اندھیری رات میں گھر سے باہر نکلاکہ اچانک رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی ایک تیز آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، کوئی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محو ِ التجا تھا:”اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!تیرے عزت و جلال کی قسم! میں نے گناہوں سے تیری مخالفت مول لینے کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ جب میں نے یہ گناہ کئے تھے تو میں تیرے مقام و مرتبے سے ناواقف تھا لیکن جب میں نے گناہ کئے اورمیرے نفس نے مجھے برائی کو اچھائی ظاہر کرکے دھوکا دیا اور میری بدبختی مجھ پر غالب آگئی پھر بھی تیری رحمت نے میری پردہ پوشی کی اور تیری اس پردہ پوشی سے میں دھوکا کھا گیااور اپنی جہالت کی وجہ سے تیری نافرمانی کرنے لگا اور محض اپنی بدبختی کی وجہ سے تیری مخالفت کی لیکن اب تو میں جان چکا ہوں کہ مجھے تیرے عذاب سے نجات دلانے والا کوئی نہیں؟ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو نے مجھے اپنی رحمت سے دور کردیا تو مجھے کو ن سنبھالے گا؟ہائے حسرت و افسوس! میری عمر

بڑھنے کے ساتھ ساتھ میرے گناہوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ ہلاکت و بربادی ہو مجھ پر! کتنی ہی مرتبہ میں نے توبہ کی پھر توڑ دی۔ اب وقت ہے کہ میں علاَّمُ الغیوب پروردْگار عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کروں۔
؎ کرکے توبہ پھر گناہ کرتا ہے جو میں وہی بدکار ہوں کر دے کرم
پھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:
”افسوس! میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی پس جب میرا نامۂ اعمال ظاہر ہو گاتو میرے پاس کون سا عذرہو گا؟ جب مجھے اس کی بارگاہ میں ذلیل کھڑ اکیا جائے گا تو گناہوں کا ارتکاب کرنے پر کیا عذر پیش کروں گا؟ اے تمام لوگوں سے بے نیاز اور میرے تمام کرتوتوں پر خبردار! میرے پاس اپنے ان گناہوں اور جرموں کاکوئی عذر نہیں،مولیٰ ! بس اپنی رحمت سے میری خطائیں معاف فرما دے۔ اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ!تونے مجھے سیدھے راستے پر چلنے کاحکم دیا اور گمراہی کے راستے سے منع فرمایا اورتُویہ بھی جانتا تھا کہ میں اس راستے سے بھاگ نہیں سکتا تھا خیر و شرمیں سے جوتُو نے میرے لئے مقدَّر کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں بلا اختیار اسی پر چل پڑاکیونکہ بندہ تومحکوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میری توبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور اپنے گناہوں کااعتراف کرنے والے بندے سے در گزر فرما۔”
حضرت سیِّدُنا منصوربن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ” میں اس کلام کو سن کر رونے لگا اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی تلاوت کرنے لگا :

(7) قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿53﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ! اے میرے وہ بندوجنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامیدنہ ہو،بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے، بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ24،الزمر:53)
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”اچانک میں نے انتہائی اضطراب کی حالت میں کسی کے گرنے کی آواز سنی۔جب صبح کے وقت میں اسی دروازے کے پاس سے گزراتو میں نے دیکھا کہ ایک شخص کا جنازہ رکھا ہوا ہے اور ایک عورت گھر کے اندر اور باہر آ جارہی ہے اور یہ کہہ رہی ہے: ” اے میرے بیٹے!اے غموں کے مارے ہوئے بیٹے!اے قرآن سن کر شہید ہونے والے بیٹے!” میں نے اس کے قریب ہو کر پوچھا : ”اے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بندی ! ذرا یہ تو بتاکہ مرنے والا کون ہے؟” تو وہ بولی،”یہ میرا بیٹا اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔یہ کھجور کے پتے بیچا کرتا تھا اور اس کمائی میں سے ایک تہائی مجھے دیتا، ایک تہائی اپنی ضرورت کے لئے رکھتا اورایک تہائی صدقہ کر دیتا۔ آج اس کے پاس سے کوئی شخص گزرا اور اُس نے قرآنِ پاک کی ایک آیتِ مبارکہ تلاوت کی جس کو سُنتے ہی اس کی روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرگئی۔اب میرے پاس کوئی حیلہ وتدبیر نہیں ۔”

پیارے اسلامی بھائیو!کیا مسافر کے لئے اپنا زادِ راہ تیار کرنے کا وقت نہیں آیا؟ کیاابھی وہ وقت نہیں آیا کہ نافرمان مرنے سے پہلے توبہ کر لے؟ تم پر افسوس!تمہارا کتنا برا حال ہے! کل تمہیں اہل و عیال اور مال ودولت کوئی نفع نہ دیں گے تو پھر کب تک اس غفلت و نیند کا شکار رہو گے؟تمہاری جوانی کے دن گزر چکے ہیں پھر بھی تمہارے اعمال پر تمہارامددگارکوئی نہیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔
حضرت سیِّدُنا خلیل عصیری علیہ رحمۃاللہ القوی فرمایا کرتے تھے کہ” ہم میں سے ہر ایک کو موت کا یقین ہے پھر بھی ہم اس کے لئے تیار نظر نہیں آتے، ہم سب کو جنت کا پختہ یقین ہے مگرپھر بھی اپنے آپ کو اس کے لئے عمل کرتا ہوا نہیں پاتے اور دوزخ کا پختہ یقین ہے لیکن اپنے آپ کو اس کے عذاب سے ڈرتا ہوا نہیں دیکھتے۔
پیارے اسلامی بھائیو! کس چیز کی بنا پر تم راہِ حق سے منہ موڑے ہوئے ہو ؟کس بات کا انتظار کر رہے ہو؟موت اللہ عزَّوَجَلَّ کی جانب سے تمام خیر و شر کے ساتھ سب سے پہلے تم پر وارد ہو گی۔ اے بھائیو! اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اچھے انداز سے حاضری کی تیاری کرو۔ کب تک تم اسی طرح لہو و لعب میں مبتلا ہو کر ہنستے رہو گےـ؟ عنقریب لوگ تمہاری موت پر افسوس کرتے ہوئے رو رہے ہوں گے۔ تم پرافسوس!کتنی دفعہ تم وعظ ونصیحت کے اجتماعات میں حاضر ہوئے لیکن تمہارا دل غائب رہا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ سے بخشش طلب کرتے رہے لیکن پیٹ حرام سے بھرتے رہے۔ اگر آج پھر اس اجتماع سے یونہی چلے گئے اور توبہ نہ کی توکہیں بہت بڑ انقصان نہ اٹھالو۔ یاد رکھو! اس وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اورتوبہ قبول کرنے والا پرودگار عَزَّوَجَلَّ پکار رہا ہے، ”ہے کوئی توبہ کرنے والا؟” تواے اسلامی بھائیو!جلدی کرو! توبہ کر لواس سے پہلے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے اور چُھپی ہوئی باتوں کی پوچھ گچھ شروع ہوجائے ۔ہماری غفلت کو قرآنِ پاک یوں بیان فرماتا ہے:(پ30، التکاثر:1۔2)

اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔ (پ30، التکاثر:1۔2)
اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میری حسرت کتنی بڑی ہے کہ میں دوسروں کو تو تجھے یاد کرنے کا درس دیتا ہوں لیکن خود غافل ہوں۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میری مصیبت کتنی شدید ہے کہ میں دوسروں کو تو غفلت کی نیند سے جگا رہا ہوں لیکن خود سو رہا ہوں۔اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میرا معاملہ کتنا عجیب ہے کہ میں دوسروں کی رہنمائی کر رہا ہوں جبکہ خود حیران وپریشان ہوں۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! مجھ پر عفو و کرم کی برسات برسا۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!جب میں

سالکینِ راہِ حق کوتیری بارگاہ تک پہنچنے کا صحیح راستہ بتاؤں اور وہ میرے اس وعظ کو سن کرتیری بارگاہ تک پہنچ جائیں تو کیا تو ان لو گوں کو قبول کر لے گا کہ جن کی رہنمائی کی گئی ہے اور رہنمائی کرنے والے کو دھتکار دے گا؟اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!اگر میرا یہ کلام خالص تیری رضا کے لئے نہیں تو اس اجتماعِ پاک میں کوئی تو ایسا ہو گا جو صرف تیری رضا کا طالب ہو گالہٰذا اپنے وجہ ِکریم کے واسطے میری کوتاہیوں کے متعلق اس کی سفارش قبول فرمااوراے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!ہم سب پر اپنا خاص رحم وکرم فرما۔ (آمین)

وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”یہ مؤمنین کا حال ہے۔انہیں دیدار الٰہی کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا۔ مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدارِ الٰہی میسّر آئے گا۔ یہی اہلِ سنت کا عقیدہ و قرآن و حدیث و اجماع کے دلائلِ کثیرہ اس پر قائم ہیں اور یہ دیدار بے کیف اور بے جہت ہوگا۔”

 

2۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”اس سے معلُوم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص اور اس پر مفاخرت (یعنی ایک دوسرے پر فخر کرنا) مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی سعادتِ اُخرویہ سے محروم رہ جاتا ہے۔ یعنی موت کے وقت تک حرص تمہارے دامن گیر خاطر رہی۔ حدیث شریف میں ہے، سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”مردے کے ساتھ تین ہوتے ہیں، دو لوٹ آتے ہیں، ایک اس کے ساتھ رہ جاتا ہے۔ ایک مال، ایک اس کے اہل و اقارب۔ ایک اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔ باقی دونوں واپس ہوجاتے ہیں۔”

error: Content is protected !!