Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

متفرق مسائل

مسئلہ:۔مردوں کو عمامہ باندھنا سنت ہے خصوصاً نماز میں کیونکہ جو نماز عمامہ باندھ کر پڑھی جاتی ہے اس کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے۔                 (بہار شریعت،ج۳،ح۱۶،ص۵۵)
مسئلہ:۔عمامہ باندھے تو اس کا شملہ دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے اور شملہ زیادہ سے زیادہ اتنا بڑا ہونا چاہے کہ بیٹھنے میں نہ دبے۔ (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع فی اللبس مایکرہ ۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۳۰)
    بعض لوگ شملہ بالکل نہیں لٹکاتے یہ سنت کے خلاف ہے اور بعض لوگ شملہ کو اوپر لا کر عمامہ میں گھرس لیتے ہیں یہ بھی نہیں چاہے خصوصاً نماز کی حالت میں تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔   (بہار شریعت،ج۳،ح۱۶،ص۵۵)
مسئلہ:۔عمامہ کو جب پھر سے باندھنا ہو تو اس کو اتار کر زمین پر پھینک نہ دے بلکہ جس طرح لپیٹا ہے اسی طرح ادھیڑنا چاہے۔ (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع فی اللبس مایکرہ ۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۳۰)
مسئلہ:۔ٹوپی پہننا بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع فی اللبس مایکرہ ۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۳۰)
    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہم میں اور مشرکین میں یہ فرق ہے کہ ہم عماموں کے نیچے ٹوپی رکھتے ہیں اور وہ صرف پگڑی باندھتے ہیں اور اس کے نیچے ٹوپی نہیں رکھتے چنانچہ ہندوستان کے کفار و مشرکین بھی پگڑی باندھتے ہیں تو اس کے نیچے ٹوپی نہیں پہنتے ۔                 (بہار شریعت،ج۳،ح۱۶،ص۵۶)
مسئلہ:۔رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا چھوٹا عمامہ سات ہاتھ کا اور بڑا عمامہ بارہ ہاتھ کا تھا لہٰذا بس اسی سنت کے مطابق عمامہ رکھنا چاہے بارہ ہاتھ سے زیادہ بڑا عمامہ باندھنا سنت کے خلاف ہے۔         (مرقاۃ المفاتیح،کتاب اللباس،الفصل الثانی،ج۸،ص۱۴۸)
مسئلہ:۔اولیاء و صالحین کے مزاروں پر غلاف و چادر ڈالنا جائز ہے جب کہ یہ مقصود ہو کہ صاحب مزار کی عظمت و رفعت عوام کی نظروں میں پیدا ہو اور عوام ان اﷲ والوں کا ادب کریں
اور ان سے فیوض و برکات حاصل کریں اور وہاں باادب حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کریں۔     (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،ج۹،ص۵۹۹)
     وہابی اور بد عقیدہ لوگ جن کے دلوں میں اولیاء اور بزرگان دین کی محبت و عقیدت نہیں ہے اس کو ناجائز و حرام بتاتے ہیں ان لوگوں کی بات ہرگز ہرگز نہیں ماننی چاہے ورنہ گمراہی کا خطرہ ہے۔
مسئلہ:۔گلے میں تعویذ پہننا یا بازو پر تعویذ باندھنا اسی طرح بعض دعاؤں یا آیتوں کو کاغذ پر یا رکابی پر لکھ کر شفا کی نیت سے دھو کر پلانا بھی جائز ہے یاد رکھو کہ بعض حدیثوں میں جو گلے میں تعویذ لٹکانے کی ممانعت آئی ہے اس سے مراد زمانہ جاہلیت کے وہ تعویذات ہیں جو مشرکانہ منتروں سے بنائے جاتے تھے ایسے جنتروں کا پہننا آج کل بھی حرام ہے لیکن قرآن کی آیتوں اور حدیثوں کے تعویذات ہمیشہ اور ہر زمانے میں جائز رہے ہیں اور اب بھی جائز ہیں ۔     (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،ج۹،ص۶۰۰)
مسئلہ:۔بچھونے یا مصلی یا دستر خوان یا تکیوں یا مسندوں یا رومالوں پر اگر کچھ لکھا ہوا ہو تو ان کو استعمال کرنا جائز نہیں یہ لکھاوٹ خواہ کپڑوں میں بنی ہوئی ہو یا کاڑھی ہوئی ہو یا روشنائی سے لکھی ہوئی ہو الفاظ ہوں یا حروف ہوں ہر صورت میں ممانعت ہے کیونکہ لکھے ہوئے الفاظ اور حروف کا ادب و احترام لازم ہے ۔     (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،ج۹،ص۶۰۰)
مسئلہ:۔نظر سے بچنے کے لئے ماتھے یا ٹھوڑی وغیرہ میں کاجل وغیرہ سے دھبہ لگا دینا یا کھیتوں میں کسی لکڑی میں کپڑا لپیٹ کر گاڑ دینا تاکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے
اور بچوں اور کھیتی کو کسی کی نظر نہ لگے ایسا کرنا منع نہیں ہے کیونکہ نظر کا لگنا حدیثوں سے ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا حدیث شریف میں ہے کہ جب اپنی یا کسی مسلمان کی کوئی چیز دیکھے اور وہ اچھی لگے اور پسند آجائے تو فوراً یہ دعا پڑھے
تَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ ؕ
    (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،ج۹،ص۶۰۱)
یا اردو میں یہ کہہ دے کہ اﷲ برکت دے اس طرح کہنے سے نظر نہیں لگے گی ۔
مسئلہ:۔جس کے یہاں میت ہوئی ہے اسے اظہار غم کے لئے کالے کپڑے پہننا 38u4جائز نہیں ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع فی اللبس ۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۳۳)
     اسی طرح اظہار غم کے لئے کالے بلے لگانا بھی ناجائز ہے اول تو یہ سوگ کی صورت ہے دوم یہ کہ یہ نصرانیوں کا طریقہ ہے اسی طرح محرم کے دنوں میں پہلی محرم سے بارھویں محرم تک تین قسم کے رنگ والے کپڑے نہیں پہنے جائیں کالا کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے سبز کہ یہ بدعتیوں یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے اور سرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے کہ وہ معاذ اﷲ اظہار مسرت کے لئے سرخ لباس پہنتے ہیں ۔                 (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۵۳)
مسئلہ:۔علماء اورفقہاء کو ایسا لباس پہننا چاہے کہ وہ پہچانے جائیں تاکہ لوگوں کو ان سے مسائل پوچھنے اور دینی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے اور علم دین کی عزت و وقعت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو ۔
مسئلہ:۔عمامہ کھڑے ہو کر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے جس نے اس کا الٹا کیا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوگا جس کی دوا نہیں ۔     (خلاصۃ الفتاوی،رسالہ ضیاء القلوب فی لباس المحبوب،ج۳،ص۱۵۳)
مسئلہ:۔پاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عمامہ کا بھی تکیہ نہ بنائے                 (بہارشریعت،ح۱۶،ج۳،ص۲۵۸)
error: Content is protected !!