مردے کو بیٹیوں کی رِقَّت انگیز دعا کام آگئی:

مردے کو بیٹیوں کی رِقَّت انگیز دعا کام آگئی:

حضرتِ سیِّدُنا حارِث بن نبہان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں: ”میں قبرستان جایا کرتا، قبر والوں کے لئے رحم کی دعا مانگتا اور غوروفکر کرتا، ان کے احوال سے نصیحت حاصل کرتا۔ میں انہیں دیکھتاکہ وہ خاموش ہیں،کلام نہیں کرتے اور نہ ہی ان (مرنے والوں) کے پڑوسی ان کی ملاقات کو آتے ہیں، زمین کا پیٹ ان کا بچھونا ہے اور زمین کی پیٹھ ان کا اوڑھنا ہے اور میں انہیں پکارا کرتا: ”اے قبر والو! دُنیا سے تمہارے نام ونشان مٹ چکے ہیں لیکن تمہارے گناہ نہیں مٹے۔ تم نے بوسیدہ گھروں میں ڈیرے لگا لئے ہیں پس تمہارے پاؤں ورم زدہ ہیں۔” پھر میں بہت زیادہ روتا اور اس کے بعدایک گنبد کی طر ف چلاجاتا جس میں ایک قبر تھی اوراس کے سائے میں سو جاتا۔ ایک مرتبہ میں ایک قبر کے پاس سویا ہوا تھا کہ اچا نک صاحب ِ قبر کو دیکھاکہ اس کی گردن میں زنجیر تھی، آنکھیں نیلی اور چہرہ سیاہ ہوچکاتھا اور کہہ رہا تھا: ”ہائے !میری بربادی و ہلاکت ! اگر دنیاوالے مجھے دیکھ لیں تو کبھی بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہ کریں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھ سے ان لذات اور ان خطاؤں کے متعلق پوچھا گیا جنہوں نے مجھے ان زنجیروں میں جکڑوایا اور مجھے غرق کر دیا ہے، تو ہے کوئی میری فریاد سننے والا؟ یا میرے گھر والو ں کو میری اس حالت کی خبر دینے والا؟”
حضرتِ سیِّدُناحارث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں: ”جب میں بیدارہوا توبہت خوف زدہ تھاقریب تھا کہ اس ہولناک منظر سے میرا دل نکل جا تاجو میں نے دیکھا تھا، میں گھر گیا، اور ساری رات اسی کے متعلق غور وفکر کرتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو گھر والوں کو کہا: ”میں کل جہاں گیا تھا مجھے دوبارہ وہا ں جانے دو، شاید! کوئی قبر کی زیارت کرنے کے لئے آئے تو جو میں نے دیکھا اس کو بتاؤں۔” جب میں وہاں گیا تو کسی کو نہ پایا، میں سو گیا، میں نے پھر دیکھا کہ قبر والے کو چہرے کے بل گھسیٹا جا رہا ہے اوروہ کہہ رہا ہے:”ہا ئے ہلاکت! دنیا میں میرے اعمال برے اور عمر طویل تھی، مجھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ سخت ناراض ہے، اگر رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر رحم نہ کيا اور مجھے عذاب سے نہ بچایاتو میرے لئے ہلاکت وبربادی ہے۔” جب میں بیدار ہوا تو اس آنکھوں دیکھے عبرتناک واقعے کی وجہ سے خوف زدہ تھا، بہرحال میں گھرواپس آگیااور رات بسرکی، جب صبح ہوئی تو میں پھرقبر کے پاس چلا گیاکہ شاید! کوئی قبر کی زیارت کے لئے آیا ہو تو میں اس کو یہ سارا واقعہ سناؤں لیکن میں نے قبر کی زیارت کرنے والے کسی شخص کو نہ پایا۔مجھے نیند آگئی، تو میں نے اس دفعہ صاحب قبر کو دیکھا کہ اس کے دونوں قدموں کو باندھا جا رہا ہے اور وہ کہہ رہا ہے: ”دنیاوالے مجھ سے کتنے بے خبر ہو چکے ہیں، مجھ پر عذاب بڑھایا جا رہا ہے، اسبا ب اورحیلے سب منقطع ہوگئے، رب عَزَّوَجَلَّ مجھ سے ناراض ہے، مجھ پر ہر سمت سے (رحمت کے)دروازے بند ہيں، ہلاکت ہے میرے لئے! اگر رب عَزَّوَجَلَّ مجھ پر رحم نہ کرے۔”
حضرتِ سیِّدُناحارث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں: ”میں خوف کے عالم میں نیندسے بیدار ہوا، میں نے لوٹنے کا ارادہ ہی

کیا تھاکہ چاند جیسی تین لڑکیاں آئیں، میں اُن سے دور ہو گیا اور قبر کی آڑمیں چھپ گیا تاکہ میں ان کی گفتگو سن سکوں۔ ان میں سے سب سے چھوٹی لڑکی آگے بڑھی اور قبرکے پاس رک کر کہا: ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ آپ پرسلامتی ہو۔” اے اباجا ن! آپ نے صبح کیسے کی؟ آپ اپنی آرا م گاہ میں کیسے ہيں؟ اور آپ کا اپنے ٹھکانے میں ٹھہرنا کیسا ہے؟ آپ ہما رے پا س اپنی محبت چھو ڑ کر چلے گئے اور آپ کی خبرگیری کرناہم سے منقطع ہوگئی، آپ پر ہمیں بہت زیادہ غم ہے اور آپ سے ملنے کا بہت شوق ہے۔” پھر وہ بہت زیادہ روئی۔ اس کے بعد دوسری دونوں لڑکیاں آگے بڑھیں، سلام کرکے کہنے لگیں: ”یہ ہمارے اس باپ کی قبر ہے جو ہم پر بہت شفیق اور بہت مہربان تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کواپنی رحمت سے خوش رکھے، آپ کو اپنے عذاب کے شر اور سزا سے بچائے ۔ اے ابا جان! ہمیں آپ کے بعد ایسی تکالیف اور غم لاحق ہوئے کہ اگر آپ انہیں دیکھ لیتے تو غمگین ہو جاتے اور اگر آپ ان سے آگاہ ہو جا تے تو وہ آپ کورنجیدہ خاطر کردیتے۔ مَردوں نے ہمارے چہروں کو بے پردہ کر دیا ہے جنہیں آپ ڈھانپا کرتے تھے۔”
حضرتِ سیِّدُناحا رث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”ان کی یہ باتیں سن کر مجھے رونا آگیا پھر میں تیزی سے ان کے پاس گیا اورسلام کرنے کے بعدکہا:” اے لڑکیو! بے شک بعض اوقا ت اعمال قبول کئے جا تے ہیں اور بعض اوقات رد کر دیئے جاتے ہیں، میں اس قبرمیں رہنے والے تمہارے باپ کے اعمال کو دیکھ کر دکھ میں مبتلا ہوگیا ہوں اور برے اعمال کے سبب اس کی عبرت ناک حالت نے مجھے مزید غمزدہ کردیاہے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں کہ جب ان لڑکیوں نے میری گفتگو سنی تو کہنے لگیں: ”اے اللہ عزَّوَجَلَّ کے نیک بندے! آپ نے کیا دیکھا؟ میں نے بتایا: ”میں تین دن سے بار بار یہاں آرہا ہوں اور لوہے کے گُرْز اورزنجیروں کی آواز سنتا ہوں۔” جب انہوں نے یہ سنا تو کہنے لگیں: ”اس سے بڑھ کر بھی کوئی دکھ اور مصیبت ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی حاجات کو پورا کرنے اور گھروں کو آباد کرنے میں مشغول ہیں جبکہ ہمارے باپ کو آگ کا عذاب دیا جا رہا ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! ہمیں چین آئے گا،نہ نیند اور نہ ہی صبر یہا ں تک کہ ہم اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گریہ وزاری کریں گی، شاید! وہ ہمارے باپ کو آگ سے آزاد کر دے۔” پھر وہ اپنی چادروں میں گرتی پڑتی چلی گئیں۔
حضرتِ سیِّدُناحارِث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”میں گھر لوٹا اور را ت گزاری۔ جب صبح ہوئی تو میں پھرقبر کے پاس چلا گیا اور اسی شخص کی قبر کے پاس بیٹھ کراس کے حال کے متعلق غور وفکر کرنے لگاکہ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا، میں نے قبروالے کوحسین وجمیل صورت میں دیکھا، اس کے پاؤں میں سونے کے جوتے ہیں اور اس کے پاس خُدَّام اورغلام ہیں۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو سلام کیا اور کہا: ”اللہ عزَّوَجَلَّ آپ پر رحم کرے ،آپ کون ہیں ؟”اس نے جواب دیا: ”میں وہی شخص ہوں جس کے معاملہ کو دیکھ کرآپ غمگین ہو گئے تھے، اللہ عزَّوَجَلَّ آپ کوجزائے خیر عطا فرمائے ( آ مین ) ۔”

میں نے پوچھا: ”آپ کا یہ حا ل کیسے ہوا؟” تو اس نے کہا: ”جب آپ نے مجھے دیکھا تھا اور کل میری بیٹیوں کو میرے بارے میں بتایاتھاتو وہ اپنے گھروں کو جا کر آنسو بہانے لگیں، بالوں کو بکھیر دیا، اپنے رخساروں کو زمین پررکھ دیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرنے لگیں اور میرے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بخشش کی دعا مانگنے لگیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے گناہوں کی بخشش فرما کر مجھے آگ سے آزاد کر دیااور مجھے دلوں کے چین، سرور کونین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا پڑوس عطا فرمایا۔ جب آپ میری بیٹیوں سے ملیں تو ان کو میری اس حالت کے متعلق بتا دیں تاکہ وہ غمگین نہ ہوں۔ ان کو بتائیں کہ میں باغات ومحلات، حور و غِلماں، مُشک وکافور اور فرح وسرور میں ہوں اور یہ بھی بتا دیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے معا ف فرما دیا ہے۔”
حضرتِ سیِّدُناحا رث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں :”پس جب میں بیدارہواتواس منظرسے بہت خوش تھا گھر واپس آیا، رات گزاری، جب صبح ہو ئی توپھرسوئے قبرستان چل پڑا، وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکیا ں ننگے پاؤں موجود ہیں اور ان کے اوپر غم کے آثار نما یا ں ہیں۔ میں نے ان کو سلا م کیا اور کہا: ”تمہیں مبارک ہو! میں نے تمہارے باپ کو بہت بڑی بھلائی اور وسیع مُلک میں دیکھاہے، اور تمہارے باپ نے مجھے بتایا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمہاری دعا قبول فرما لی اورتمہاری کوششوں کو رد نہیں کیا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہا ر ی خاطرتمہا رے با پ کو بخش دیا ہے۔ لہٰذا تم اس کی حقدا ر ہو کہ اس کا شکریہ ادا کرو۔”یہ سنتے ہی ان میں سب سے چھوٹی لڑکی نے دعا شروع کردی: ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اے دلوں کو خوش کرنے والے! عیبوں کو چھپا نے والے! ہمارے غموں کو دور کرنے والے! گناہوں کوبخشنے والے! غیبوں کے جاننے والے! تومیری حاجت کواسی طرح جانتاہے جس طرح تنہائی میں میرے گناہوں سے معافی مانگنے کو جانتاہے، تو میرے ارادے، میری نیت اوردل کو بہتر جانتاہے۔ توہی میرا مالک ومولیٰ ہے، میری پکڑفرمانے والی ذات بھی تیری ہی ہے، میری مصیبتوں کاحاجت روا بھی تو ہی ہے، میری تنہائی کا مونس وغمخوار، میری لغزشوں کومٹانے والا اور میری دعاؤں کو قبول فرمانے والا بھی تو ہی ہے۔اگر میں اپنی طاعت میں کوئی کوتاہی کروں اور تیرے منع کردہ کاموں کا ارتکاب کر بیٹھوں تو اپنا فضل وکرم کرتے ہوئے مجھے محفوظ رکھ اور میری پردہ پوشی فرما۔ اے سب سے بڑے کریم! اے مانگنے والوں کی آخری اُمید اور روزِ جزاء کے مالک! تو اچھی طرح جانتاہے جو میں اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہوں، اگر تو نے محض اپنے فضل وکرم سے میری حاجت کوقبول فرمایاہے اور میرے باپ کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما لیاہے تو میری روح بھی قبض فرما لے کہ تو ہر چاہے پر قادر ہے۔” پھر اس نے ایک زوردار چیخ ماری اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔
پھر دوسری آگے بڑھی، اس نے بھی بلند آواز سے پکارا: ”اے اللہ عزَّوَجَلَّ! اے گردنوں کو آگ کے عذاب سے آزاد کرنے والے! میری مصیبت بھی دور کردے، میرے دل سے تمام شکوک وشبہات مٹا دے ، اے وہ ذات جس نے مجھے سہارا دیا جب میں لڑکھڑا گئی، اور میری رہنمائی فرمائی جب میں حیرانی کے عالم میں سرگرداں تھی اور مصیبت وتنگدستی کے وقت میری دستگیری

فرمائی، اگر تو نے میری دعا کو قبول فرما لیاہے، اورمیری حا جت پوری کردی ہے اور میرے دل کو اپنے ذکرسے آباد کر ديا ہے تو مجھے بھی میری بہن سے ملا دے ۔” اس نے بھی ایک زوردارچیخ ماری اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔
پھر تیسری آگے بڑھی اس نے بھی بلند آوازسے دعا کی: ” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو ہر ایک کی خاموشی اور گفتگو کو جاننے والا ہے اور تو ہی فضلِ عظیم کا مالک ہے، عزت والا وہی ہے جس کو تو عزت دے، ذلت والا وہی ہے جس کو تو ذلت کا لباس پہنا دے، شرافت اسی کا خاصہ ہے جس کو تو عطا کرے، سعادت مندی وبدبختی اسی کے حصے میں ہے جس کے مقدر میں جو تو لکھ دے، قرب کی لذات وہی حاصل کر سکتا ہے جس کو توقرب عطا فرمائے، دوری وجدائی کا غم وہی جانتاہے جس کو تو اپنی رحمت سے دور کر دے، تیرے فضل وکرم سے وہی محروم ہو سکتاہے جسے توخود محروم رکھے، جس کو تونوازدے وہ نفع حاصل کرنے والا اور جس کو نہ نوازے وہ نقصان اٹھانے والا ہوجاتاہے۔ میں تجھ سے تیرے اس اسم اعظم کے واسطے سے سوال کرتی ہوں کہ جس کو تو نے رات پر رکھا تو وہ تاریک ہوگئی، دن پر رکھا تووہ روشن ہوگیا، پہاڑوں پررکھاتو وہ گر کرہموار ہوگئے، ہواؤں پررکھاتو وہ چلنے لگیں، آسمانوں پر رکھا تو وہ بلند ہوگئے، زمین پر رکھا تو وہ بچھونا بن گئی، اور فرشتوں پر رکھاتو وہ سجدہ ریز ہو گئے۔ اے اللہ عزَّوَجَلَّ! اگر تونے میری حاجت پوری کر دی ہے اورمیری دعا قبول فرمالی ہے تو مجھے بھی میری بہنوں سے ملا دے۔” پھر اس نے ایک زوردار چیخ ماری اور اس کی روح بھی قفسِ عُنصُر ی سے پرواز کر گئی ۔ حضرتِ سیِّدُنا حارث رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے ان کے احوا ل سے اور ان کی موت کے اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہونے سے تعجب ہوا۔
سبحان اللہ عزَّوَجَلَّ! ان لوگوں کو دیکھو! جن کو حکم دیا گیا توانہو ں نے اطاعت کی اور عمل کئے تو ان کے اعمال قبول کئے گئے، انہیں اپنی مراد ملی، انہوں نے وصال طلب کیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کو اپنی محبت کی رسی سے وصال عطا فرمایا، دعا کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی دعا قبول فرمائی، وہ اس کی بارگاہ میں قولاًفعلاً مخلص رہے، اس کی اطاعت میں فرائض و نوافل پورے پورے ادا کئے، انہوں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی ملاقات پسندکی تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھی ان سے ملنا پسند کیا اوران کو قرب ووصل عطا فرما کر ان پر بڑا احسان فرمایا پس وہ اس کے پیارے دین پر انتقا ل کر گئے کیونکہ وہ اسی کے اہل تھے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍنَّبِیِّکَ الْعَظِیْمِ وَرَسُوْلِکَ الْکَرِیْمِ وَالدَّاعِیْ اِلَی الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْم

One thought on “مردے کو بیٹیوں کی رِقَّت انگیز دعا کام آگئی:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *