Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مسائل کی چند اصطلاحیں

 یہ وہ اصطلاحی بولیاں ہیں کہ ان کو جان لینے سے اس کتاب کے سمجھنے میں مدد ملے گی اور مسائل کے سمجھنے میں ہر جگہ بہت ہی سہولت اور آسانی ہو جائے گی۔ اس لئے مسئلوں کو پڑھنے سے پہلے ان اصطلاحوں کو خوب سمجھ کر اچھی طرح یاد کرلو!
فرض:۔وہ ہے جو شریعت کی یقینی دلیل سے ثابت ہو اس کا کرنا ضروری اور بلا کسی عذر کے اس کو چھوڑنے والا فاسق اور جہنمی اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ جیسے نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ وغیرہ۔
    پھر فرض کی دو قسمیں ہیں ایک فرض عین’ دوسرے فرض کفایہ۔ فرض عین وہ ہے جس کا ادا کرنا ہر عاقل و بالغ مسلمان پر ضروری ہے جیسے نماز پنجگانہ وغیرہ۔ اور فرض کفایہ وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری نہیں بلکہ بعض لوگوں کے ادا کرلینے سے سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا اور اگر کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گنا ہگار ہونگے جیسے نماز جنازہ وغیرہ                 (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۷)
واجب:۔وہ ہے جو شریعت کی ظنی دلیل سے ثابت ہو اس کا کرنا ضروری ہے اور اس کو بلا کسی تاویل اور بغیر کسی عذر کے چھوڑ دینے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے لیکن اس کا
انکار کرنے والا کافر نہیں بلکہ گمراہ اور بد مذہب ہے۔
                (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۸)
سنت موکدہ:۔وہ ہے جس کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیشہ کیا ہو۔ البتہ بیان جواز کے لئے کبھی چھوڑ بھی دیا ہو اس کو ادا کرنے میں بہت بڑا ثواب اور اس کو کبھی اتفاقیہ طور پر چھوڑ دینے سے اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا عتاب اور اس کو چھوڑ دینے کی عادت ڈالنے والے پر جہنم کا عذاب ہو گا۔ جیسے نماز فجر کی دو رکعت سنت’ اور نماز ظہر کی چار رکعت فرض سے پہلے اور دو رکعت فرض کے بعد سنتیں۔ اور نماز مغرب کی دو رکعت سنت اور نماز عشاء کی دو رکعت سنت’ یہ نماز پنجگانہ کی بارہ رکعت سنتیں یہ سب سنت موکدہ ہیں۔
    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۸)
سنت غیر موکدہ:۔وہ ہے جس کو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی کبھی اس کو چھوڑ بھی دیا ہو۔ اس کو ادا کرنے والا ثواب پائے گا اوراس کو چھوڑ دینے والا عذاب کا مستحق نہیں۔ جیسے عصر کے پہلے کی چار رکعت سنت اور عشاء سے پہلے کی چار رکعت سنت کہ یہ سب سنت غیر موکدہ ہیں۔ سنت غیر موکدہ کو سنت زائدہ بھی کہتے ہیں۔
                    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۸)
مستحب:۔ہر وہ کام ہے جو شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہو اور اس کو چھوڑ دینا شریعت کی نظر میں برا بھی نہ ہو۔ خواہ اس کام کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے کیا ہو یا اس کی ترغیب دی ہو۔ یا علماء صالحین نے اسے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا ہو۔ یہ سب مستحب ہیں۔ مستحب کو کرنا ثواب اور اس کو چھوڑ دینے پر نہ کوئی عذاب ہے نہ کوئی
عتاب۔ جیسے وضو کرنے میں قبلہ رو ہو کر بیٹھنا’ نماز میں بحالت قیام سجدہ گاہ پر نظر رکھنا’ خطبہ میں خلفاء راشدین وغیرہ کا ذکر’ میلاد شریف’ پیران کبار کے وظائف وغیرہ’مستحب کو مندوب بھی کہتے ہیں۔
            (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۸)
مباح:۔وہ ہے جس کا کرنا اور چھوڑ دینا دونوں برابر ہو۔ جس کے کرنے میں نہ کوئی ثواب ہو اور چھوڑدینے میں نہ کوئی عذاب ہو۔ جیسے لذیذ غذاؤں کا کھانا اور نفیس کپڑوں کا پہننا وغیرہ۔
    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۹)
حرام:۔وہ ہے جس کا ثبوت یقینی شرعی دلیل سے ہو۔ اس کا چھوڑنا ضروری اور باعث ثواب ہے اور اس کا ایک مرتبہ بھی قصداً  کرنے والا فاسق و جہنمی اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔
                    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۹)
    خوب سمجھ لو کہ حرام فرض کا مقابل ہے یعنی فرض کا کرنا ضروری ہے اور حرام کا چھوڑ دینا ضروری ہے۔
مکروہ تحریمی:۔وہ ہے جو شریعت کی ظنی دلیل سے ثابت ہو۔ اس کا چھوڑنا لازم اور باعث ثواب ہے اور اس کا ایک مرتبہ بھی قصداً  کرنے والا فاسق و جہنمی اور گناہ کبیرہ حرام کے کرنے سے کم ہے۔ مگر چند بار اس کو کر لینا  گناہ کبیرہ ہے۔
                    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۹)
    اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ یہ واجب کا مقابل ہے یعنی واجب کو کرنا لازم ہے اور مکروہ تحریمی کو چھوڑنا لازم ہے۔
اسا ء ت:۔وہ ہے جس کا کرنا برا اور کبھی اتفاقیہ کر لینے والا لائق عتاب اور اس کو کرنے کی عادت بنا لینے والامستحق عذاب ہے۔
    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۹)
    واضح رہے کہ یہ سنت موکدہ کا مقابل ہے یعنی سنت موکدہ کو کرنا ثواب اور چھوڑنا برا ہے اور اساء ت کو چھوڑنا ثواب اور کرنا برا ہے۔
مکروہ تنزیہی:۔وہ ہے جس کا کرنا شریعت کو پسند نہیں مگر اس کے کرنے والے پر عذاب نہیں ہوگا۔ یہ سنت غیر موکدہ کا مقابل ہے۔
                    (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۹)
خلاف اولیٰ:۔وہ ہے کہ اس کو چھوڑ دینا بہتر تھا لیکن اگر کر لیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ مستحب کا مقابل ہے۔
           (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۹)
error: Content is protected !!