Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پُر اسرار اَعرابی:

پُر اسرار اَعرابی:

ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشید نے حرمِ مکہ میں داخل ہو کر طواف شروع کیااور عام لوگوں کو طواف سے منع کر دیالیکن ایک اعرابی خلیفہ کے آگے آگے چلتے ہوئے اس کے ساتھ طواف کرنے لگا ، خلیفہ پر یہ بات ناگوار گزری، اپنے دربان کی طرف متوجہ ہوا گویا کہ یہ اشارہ تھاکہ اس کو منع کرے، دربان نے آگے بڑھ کر اس اعرابی سے کہا:” اے بدو! طواف نہ کرتاکہ مسلمانوں کا امیرطواف کرلے۔” اعرابی نے جواب دیا:”اس مقام اور بیتِ حرام میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب لوگ برابر ہیں۔ چنانچہ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

(15) سَوَآءَۨ الْعَاکِفُ فِیۡہِ وَالْبَادِ ؕ وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪25﴾

ترجمۂ کنزالایمان:کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اورپردیسی کااورجواس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔ (پ17،الحج،25)
جب ہارون الرشید نے اعرابی کا یہ جواب سنا تو دربان کو روکنے سے منع کردیا پھر بوسہ دینے کے لئے حجرِ اسود کے پاس آیا تو اعرابی نے اس سے پہلے بوسہ دے لیا،جب مقامِ ابراہیم پر نمازپڑھی تو اعرابی نے پھر آگے بڑھ کر اس سے پہلے نماز ادا کرلی ۔ جب ہارون الرشید نماز و طواف سے فارغ ہوا تودربان کو حکم دیا:”اعرابی کومیرے پاس لاؤ۔”دربان اعرابی کے پاس آیا اور کہنے لگا:” امیرالمؤمنین کے پاس چلو۔”اعرابی نے جواب دیا:”مجھے اس کی حاجت نہیں ،اگر اسے کوئی حاجت ہے تو وہ خود ہی پوری کرنے کی کوشش کرے ۔”دربان غصے میں پلٹااورخلیفہ کو اس کی بات بتائی۔ یہ سن کر ہارون الرشید نے کہا: ”اس نے سچ کہا ہے، ہم حاجت مند ہیں توہمیں ہی اس کے پاس جاناچاہے۔”پھرہارون الرشید اُٹھا جبکہ دربان اس کے سامنے کھڑاتھا اور اعرابی کے پاس جا کر اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا۔خلیفہ نے اس سے پوچھا:” اے عربی بھائی !کیا میں تمہاری اجازت سے یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟”تواعرابی نے بلاخوف وخطر جواب دیا: ” یہ گھر میرا نہیں، نہ ہی حرم میرا ہے، یہ گھر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہے اور حرم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا، یہاں ہم سب برابر ہیں۔ تُواگر چاہے تو بیٹھ جا اور چاہے تو لوٹ جا۔”
ہارون الرشید نے جب ایسی بات سنی جو اس کے ذہن میں کھٹکی بھی نہ تھی تو اسے انتہائی ناگوار گزرا، وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کوئی شخص میرے ساتھ یوں گفتگو کریگا۔بہرحال وہ اس اعرابی کے پہلو میں بیٹھ گیا اوراس سے پوچھنے لگا: ”اے اعرابی! میں تم سے تمہارے فرض کے متعلق پوچھتاہوں،اگرتم اسے بجالاتے ہو تو دیگرفرائض کو بھی اچھی طرح ادا کرتے ہو گے اور اگر اسے ہی ادا نہیں کرتے تو دیگر فرائض میں بھی کوتاہی کرتے ہو گے۔” اعرابی نے اُلٹاخلیفہ سے سوال کر دیا: ”تم یہ سوال سیکھنے کے

لئے کر رہے ہو یا شرارت کے لئے ؟” ہارون الرشیداس کے فوراً جواب دینے سے بہت حیران ہوا اورکہنے لگا:” نہیں،میں نے تو حصولِ علم کے لئے سوال کیا ہے ۔” یہ سن کر اعرابی بولا:”توپھر اٹھ اور سوال کرنے والے کے مقام پر بیٹھ جا۔” خلیفہ ہارون الرشیدکھڑا ہوا اور اعرابی کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا تو اعرابی نے کہا:”اب تو صحیح جگہ بیٹھااب جو پوچھنا ہے پوچھ ۔ ”تو ہارون الرشید نے سوال کیا:” مجھے اس کے متعلق بتائیے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ پر فرض کیا ہے۔” اعرابی کہنے لگا :” تم کس فرض کے متعلق پوچھ رہے ہو ؟ ایک فرض کے متعلق یا پانچ کے متعلق ؟ یا سترہ کے متعلق؟یا چونتیس کے متعلق؟ یا چورانوے کے متعلق ؟ یا چالیس میں سے ایک کے متعلق؟ یا زندگی بھرمیں ایک کے متعلق ؟یا دو سو میں سے پانچ کے متعلق ؟” ہارون الرشید بطورِ مزاح ہنس پڑا،پھر کہنے لگا:”میں نے تم سے صرف فرض کے متعلق پوچھا اور تم نے مجھے پورے زمانے کا حساب دے دیا۔” اعرابی بولا: ”اے ہارون! اگر دین میں حساب نہ ہوتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت تمام مخلوق سے حساب نہ لیتا ۔چنانچہ،
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے :

(16) فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیۡنَابِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِیۡنَ ﴿47﴾

ترجمہ کنزالایمان : تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہو گا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو ۔(پ17،الانبیآء:47)
جب اعرابی نے خلیفہ کو ”یا ہارون” کہہ کر مخاطب کیا اور ”یا امیر المؤمنین” نہ کہا توہارون الرشید کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہوگئے، اس کی حالت متغیر ہو گئی اور اسے سخت تکلیف پہنچی مگر اللہ عزَّوَجَلَّ نے غضب سے اس کی حفاظت فرمائی اور جب اس نے جان لیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس اعرابی کو اس کلام کی طاقت و توفیق عطافرمائی ہے تووہ اپنی حالت پر لوٹ آیا۔ پھر ہارون الرشید نے کہا: ”میرے آباء واجداد کی مِٹی کی قسم! اگرتونے اپنی بات کی وضاحت نہ کی تو صفا و مروہ کے درمیان میں تیری گردن مارنے کا حکم دے دوں گا۔” دربان نے گزارش کی: ”اے امیر المؤمنین!اس مقدس مقام کی عظمت کے پیشِ نظر اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے اسے معاف کر دیجئے۔” اعرابی ان دونوں کی بات سن کرہنسنے لگا حتی کہ وہ چِت لیٹ گیا،ہارون الرشید نے پوچھا: ”کیوں ہنس رہے ہو ؟”تواس نے جواب دیا:”تم دونوں پر حیرت کرتے ہوئے ہنس رہاہوں کہ ایک یقینی موت کو بخشوانا چاہتا ہے اوردوسرااس موت کے لانے میں جلدی کر رہاہے جس کا وقت نہیں آیا۔”جب ہارون الرشید نے اس کی یہ بات سنی تو دنیا کو حقیر سمجھنے لگا۔ پھر اس نے کہا:” میں تجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی بات کی وضاحت کر دے، میرا دل اس کی وضاحت سننے کے لئے بے چین ہے ۔”
تو اعرابی نے جواب دیتے ہوئے کہا: ” تم نے پوچھا تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے تو سنو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر کثیر امور فرض کئے ہیں۔ جومیں نے تمہیں ایک فرض کے متعلق کہاہے تووہ دینِ اسلام ہے ، پانچ فرائض سے مرادپانچ

نمازیں ہیں، سترہ فرائض سے مراد دن رات کی نمازوں کی سترہ رکعتیں ہیں،چو نتیس فرائض سے مراد ان رکعتوں کے چونتیس سجدے ہیں ،چرانوے فرائض سے مراد ان نماز کی تکبیرات ہیں اورچالیس میں سے ایک سے مراد چالیس دینار میں سے ایک دینار زکوٰۃ ہے اورزندگی بھرمیں ایک فرض، حج ہے اور دو سو میں سے پانچ سے مراد چاندی کی زکوٰۃ ہے۔” خلیفہ ہارون الرشید ان مسائل کی وضاحت اور اعرابی کی عمدہ گفتگو سے بہت خوش ہوا اوراس کو بہت ذہین سمجھا اوراعرابی اس کی نظر میں بہت عظیم ہوگیا۔پھر اعرابی نے کہا: ” تم نے مجھ سے سوال کیا، میں نے جواب دے دیا، اب میں سوال کرتاہوں اورتم جواب دو۔”
ہارون الرشیدنے کہا: ”آپ پوچھئے۔” اعرابی نے سوال کیا:”مسلمانوں کا امیر اس شخص کے متعلق کیا کہتا ہے جس پر صبح کے وقت ایک عورت کو دیکھناحرام ہو لیکن جب ظہر ہو تووہ عورت اس پرحلال ہو جائے اورجب عصر ہو تو پھرحرام ہو جائے، جب مغرب ہو تو حلال ہو جائے اورعشاء کے وقت پھر حرام ہو جائے اور فجرکے وقت پھرحلال،اسی طر ح ظہر کے وقت حرام، عصر کے وقت حلال، مغرب کے وقت حرام اور عشا ء کے وقت پھرحلال ہو جائے ؟” اعرابی کا سوال سن کر ہارون الرشید نے کہا: ”آپ نے مجھے ایسے سمندر میں ڈا ل دیا ہے جس سے آپ کے علاوہ کوئی نہیں نکال سکتا۔” اعرابی نے کہا: ”تم تو مسلمانوں کے امیر ہو،تم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتااورتمہیں کسی بات میں لاجواب نہیں ہونا چاہے پھر میرے سوال سے کیسے عاجز آگئے ہو؟”ہارون الرشید عرض کرنے لگا: ”آپ کے علم کی قدرومنزلت عظیم ہے اور آپ کا ذکر بلند ہے، اس بیت اللہ شریف کی عزت کا صدقہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ خود اس کی وضاحت فرما دیں۔” اس اعرابی نے کہا: ”میں بصدمحبت واحترام بیان کئے دیتا ہوں۔ میں نے ایک شخص کے متعلق سوال کیا کہ اس کاصبح کے وقت ایک عورت کو دیکھنا حرام ہے تو یہ وہ ہے جو غیرکی لونڈی کو دیکھے کہ یہ لونڈی اس پر حرام ہے اور جب ظہر ہو تو اس کو خرید لے، اب وہ اس کے لئے حلال ہو گئی لیکن جب عصر ہو تو آزاد کردے اب وہ اس پرحرام ہو گئی لیکن جب مغرب ہو تواس سے نکاح کر لے تووہ پھر اس پر حلال ہو گئی۔ جب عشاء ہو تو طلاق دے دے اب پھروہ حرام ہو گئی لیکن جب فجر ہوتو رجوع کرلے وہ دوبارہ حلال ہو گئی۔ جب ظہر ہو تو وہ شخص اسلام سے پھر جائے تو وہ ا س پرحرام ہو گئی لیکن جب عصر ہو تو توبہ کرکے عورت سے رجوع کرلے تو وہ اس کے لئے حلال ہو گئی۔ جب مغرب ہو تو عورت مرتد ہو جائے تووہ اس پر حرام ہو گئی لیکن جب عشاء ہو تو توبہ کرکے رجوع کرلے تو پھرحلال ہو گئی۔” ہارون الرشیداعرابی کے اس سوال اور پھر خود ہی جواب دینے سے انتہائی متعجب اورخوش ہوا پھراس نے اس اعرابی کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دیا جب وہ درہم لائے گئے تو اعرابی نے کہا: ”مجھے اس کی ضرورت نہیں۔”اور درہم واپس کردئیے۔ ہارون الرشید نے کہا: ”کیا آپ چاہتے ہو کہ میں آپ کا وظیفہ مقرر کردوں جو ساری زندگی آپ کو کافی ہو؟” تواعرابی نے کہا: ”جو ذات تمہیں روزی دیتی ہے و ہی مجھے بھی دیتی ہے۔” خلیفہ نے کہا:” اگر آپ پر کوئی

قرض ہو تو ہم ادا کردیتے ہیں۔ ‘ ‘ بہرحال اعرابی نے اس سے کچھ قبول نہ کیاپھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے :
” دنیا کے عطیات کئی سالوں سے لگاتار ہمارے پاس آرہے ہیں کبھی تو میلے کچیلے ہوتے ہیں اور کبھی لذت بخش ہوتے ہیں لیکن میں ان میں سے کسی بھی ایسی شئے کو قبول کرنے کو تیار نہیں جو میرے مرنے کے بعد باقی نہ رہے اورمیں کَل اسے اپنے وارثوں کے لئے چھوڑجاؤں، گویا قبر میں مجھ پر مِٹی ڈالی جارہی ہے اور میرے دوست احباب میرے ارد گرد کھڑے نوحہ کناں ہیں اورگویا وہ دن آچکا جس میں آگ کے شعلے بھڑک کر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اور وہ دن سننے والوں کو قسم دے رہا ہے کہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت وجلال کی قسم! میں تم سب سے ضرور انتقام لوں گا۔”
جب اعرابی اشعار کہہ چکا تو ہارون الرشید نے افسوس ناک آہ کھینچی اوراس سے اس کے گھر اور شہر کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ رضا بن جعفر صادق بن محمدبن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، دیہاتیوں کے لباس میں ملبوس رہتے ہیں اورزہد وورع کے پیکر ہیں۔یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید کھڑا ہوگیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا پھر(حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف نسبت کرتے ہوئے )یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:

(17)اَللہُ اَعْلَمُ حَیۡثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ

ترجمہ کنزالایمان :اللہ خوب جانتاہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔(۱)(پ8،الانعام: 124)
یہ ایسے برگزیدہ بندے ہیں جو لوگوں کے درمیان اپنی حالت مخفی رکھتے ہیں، وہ پراگندہ سر اور غبار آلود ہوتے ہیں، لوگ ان کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ ان کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بَہُت بلند مقام ہوتا ہے۔ یہ تو مقبول بندوں کی صفات ہیں تو اے راندۂ درگاہ!تیری کیسی صفات ہیں ؟ یہ تو مقرَّبین کی صفات ہیں تو اے رب کی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے شخص! تیری صفات کیسی ہیں ؟ یہ تو نیک بندوں کی صفات ہیں تو اے محروم شخص! اپنے نفس پر رو۔ اے مسکین !تیرا برا ہو کہ تو دن کے وقت بے کار کاموں میں مصروف رہتا اور رات سونے میں گزارتا ہے۔

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ” یعنی اللہ جانتا ہے کہ نبوّت کی اہلیت اور اس کا استحقاق کِس کو ہے، کس کو نہیں۔ عمر و مال سے کوئی مستحقِ نبوَّت نہیں ہوسکتا ۔”

error: Content is protected !!