کراماتِ اولیاء کا ثبوت

کراماتِ اولیاء کا ثبوت

حمد ِباری تعالیٰ:

سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اہلِ محبت( یعنی اپنے اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم ) کے لئے عبادت کا دروازہ خاص کر دیاجس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ جب مخلوق سو جاتی ہے تووہ ان کو اپنے دروازے کی طرف لے آتاہے اور وہ اس کی بارگاہ میں قیام و سجود میں رات بسر کرتے ہیں۔ وہ رات کے ابتدائی حصے میں کتنے اچھے انداز میں عبادت کرتے ہیں اور آخری حصے میں کتنے پیارے انداز میں نادم ہوتے ہیں۔ اگر تو اُن کو دیکھے گا تواس حال میں پائے گاکہ اُن کے لئے دروازے کھول دیئے گئے اور پردے ہٹا دیئے گئے اور انہیں ذاتِ الٰہی کے مشاہدے کا انعام عطا کیا گیا۔
یاد رکھو! اولیاءِ کرام کی سب سے بڑی کرامت اطاعتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ پر ہمیشگی کی توفیق اور معصیت ومخالفتِ شرع سے محفوظ رہناہے اور قرآنِ مجید میں حضرت سیِّدَتُنَامریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ کراماتِ اولیاء کے اظہار پر شاہد ہے۔ حالانکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول یا نبی نہ تھیں۔چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :

کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزْقًا ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنۡدِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿37﴾

ترجمۂ کنزالایمان :جب زکریااس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے،کہا اے مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیابولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔ (۱)(پ3،اٰل عمران:37)
اور اللہ عزَّوَجَلَّ حضرت سیِّدَتُنَا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشادفرماتا ہے:

وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا ﴿۫25﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکّی کجھوریں گریں گی۔ (پ16، مریم:25)
انہی کرامات میں سے ایک یہ بھی ہے جوحضرت سیِّدُنا خضر علیہ السلام سے ظاہر ہوئی یعنی آپ علیہ السلام نے دیوار کو سیدھا کردیا اور اس کے علاوہ دیگر کئی عجائبات جن کی معرفت حضرت سیِّدُناخضرعلیہ السلام کو حاصل تھی اور حضرت سیِّدُنا موسٰی علیہ السلام پر
وہ امور عادتاً مخفی تھے۔یہ سب کرامات حضرت سیِّدُناخضرعلیہ السلام کے ساتھ خاص تھیں حالانکہ آپ علیہ السلام نبی نہیں بلکہ ولی تھے۔ (2)

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:”حضرت مریم نے صِغرسِنی میں کلام کیا جبکہ وہ پالنے( جُھولے) میں پرورش پارہی تھیں جیسا کہ ان کے فرزند حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ ُوالسلام نے اسی حال میں کلام فرمایا۔ مسئلہ: یہ آیت کراماتِ اولیاء کے ثبوت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارِق ظاہر فرماتا ہے۔ حضرت زکریا نے جب یہ دیکھا تو فرمایا: جو ذاتِ پاک مریم کو بے وقت، بے فصل اور بغیر سبب کے میوہ عطا فرمانے پر قادر ہے وہ بے شک اس پر قادر ہے کہ میری بانجھ بی بی کو نئی تندرستی دے اور مجھے اس بڑھاپے کی عمر میں اُمید منقطع ہوجانے کے بعد فرزند عطا کرے بایں خیال آپ نے دعا کی جس کا اگلی آیت میں بیان ہے۔”

 

2۔۔۔۔۔۔مجدّدِ اعظم ،امامِ اہلسنت ،حضرت سیدنا امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”سیدنا خضر علیہ السلام جمہور کے نزدیک نبی ہیں۔” (فتاوی رضویہ، ج ۲۶،ص ۴0۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!