Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

گدڑی میں لعل:

گدڑی میں لعل:

حضرت سیِّدُنا محمد بن منکدر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں مسجد نبوی شریف علٰی صاحبھا الصلٰوۃ والسلام میں رات کے وقت ایک ستون کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ایک سال اہلِ مدینہ قحط میں مبتلاہو گئے۔بارش کے لئے دعا کرنے سب شہر سے باہر نکل پڑے لیکن پھر بھی بارش نہ ہوئی۔ جب رات ہوئی تو میں عشاء کی نماز کے بعد حسبِ عادت ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسی اثناء
میں ایک شخص جس کے چہرے پر زردی غالب تھی، چادر اوڑھے ہوئے ستون کی جانب بڑھا۔ میں اس ستون کے پیچھے ہو گیااور اس کو خبر نہ ہوئی۔ اس نے دورکعت نماز اداکرنے کے بعدبیٹھ کر دعا مانگتے ہوئے عرض کی: ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تیرے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حرم والے بارش کی دعاکے لئے نکلے لیکن بارش نہ ہوئی،اے مولیٰ! تجھے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت کا واسطہ! بارش برسا دے۔”
حضرت سیِّدُنا ابن منکدر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس نے ابھی اپنے ہاتھ نہ ہٹائے تھے کہ میں نے بجلی کے گرجنے کی آواز سنی اورساتھ ہی آسمان سے بارش برسنے لگی حتّٰی کہ میراگھر واپس لوٹنا بھی مشکل ہو گیا۔ جب اس کو بارش کا علم ہوا تو اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایسی حمدوثناء کی جیسی میں نے آج تک نہ سنی تھی۔پھر وہ کھڑا ہو گیااور نمازپڑھتا رہا حتّٰی کہ فجر کا وقت قریب ہو گیا۔ پھر اس نے وتر ادا کئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔پھر نماز کی اقامت کہی گئی۔ لوگوں نے نماز اداکی۔ اس نے بھی ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھی۔ جب امام صاحب نے سلام پھیرا تو وہ جلدی سے باہر کی طرف چل پڑا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیایہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے تک پہنچ گیااور چادر ہٹا کر بارش کے پانی میں غوطہ زن ہو گیا۔ میں اسے حسرت وچاہت کی نگاہوں سے دیکھتا رہ گیا۔معلوم نہیں کہ اس کے بعد وہ کہاں گیا۔”
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہرمسافر حاجی نہیں ہوتا، نہ ہر گھر مکۂ مکرمہ ہے،نہ ہر زادِ راہ مقصود تک پہنچاتا ہے، نہ ہر پہاڑ عرفات ہے اور نہ ہی عرفات میں ٹھہرنے والا ہر شخص وقوفِ عرفہ کرتا ہے ۔

error: Content is protected !!