Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر174: کسی جاندارکو آگ سے جلانا

(1)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”پہلے ميں نے تمہيں حکم ديا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ سے جلا دو لیکن اللہ عزوجل کے سوا کوئی کسی کو آگ کا عذاب دے یہ جائز نہیں ، پس اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہيں قتل کر دو۔”
 (جامع الترمذی ،ابواب السیر ، باب النہی عن الاحراق بالنار ، الحدیث: ۱۵۷۱ ، ص ۱۸۱۴)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چيونٹیوں کا ایک گھر ديکھا جسے ہم نے جلا ديا تھا، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا:”اسے کس نے جلايا ہے؟” ہم نے عرض کی:”ہم نے۔” توحضور رحمۃ للعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”آگ کے مالک (یعنی اللہ عزوجل) کے سوا کوئی آگ کا عذاب نہ دے۔”
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الآداب ، باب فی قتل الذر ، الحدیث: ۵۲۶۸، ص ۱۶۰۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:

    اس گناہ کومطلقاً کبيرہ گناہ شمار کيا گيا ہے ، خواہ اس جانور کا گوشت کھايا جاتاہو يا نہ کھايا جاتا ہو، چھوٹا ہو يا بڑا۔ ہاں علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے ا قوال کا خلاصہ يہ ہے کہ”اگر جلائے بغير قتل کرنا ممکن نہ ہو تو جلانا جائز ہے اور ظاہریہ ہوتا ہے کہ جب فواسق خمس (یعنی چوہا، چیل، کواّ، کاٹنے والا کتا( یا بچھو )اورسانپ) کے ضرر کو زائل کرنے کے لئے آگ سے جلانے کا طريقہ متعين ہوگيا تو آگ سے جلانامنع نہيں۔
    اور رہاان کے علاوہ آدمی اور حيوان کو آگ سے جلانا اگرچہ وہ حیوان کھایا نہ جاتا ہو تو یہ کبيرہ گناہ ہے کيونکہ،
(3)۔۔۔۔۔۔ حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ايک مرغی کوباندھ کر تيروں کا نشانہ بنايا ہوا تھا، جب انہوں نے حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ديکھا تو بکھر گئے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمايا:”يہ کس نے کيا ہے؟ بے شک مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس طرح کرنے والے پر لعنت فرمائی اورآگ سے جلانانشانہ بنا کرتير مارنے کی طرح یا اس سے بھی سخت ہے ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( صحیح مسلم ،کتاب الصید ، باب النہی عن صبر البھائم ،الحدیث:۵۰۶۲، ص ۱۰۲۷)
(4)۔۔۔۔۔۔مسلم شريف ہی کی ایک روايت میں ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”بے شک اللہ عزوجل انہيں عذاب دے گا جو دنيا ميں عذاب ديتے ہيں۔” (المرجع السابق، الحدیث: ۶۶۵۷، ص ۱۱۳۴)
(5)۔۔۔۔۔۔مسلم شریف کی دوسری روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے :”اللہ عزوجل انہیں عذاب دے گا جودنیا میں لوگوں کو عذاب ديتے ہيں۔”        (المرجع السابق،الحدیث:۶۶۵۸)
    راوی نے مذکورہ حدیثِ پاک اس وقت سنائی جب انہوں نے چند لوگوں کو دیکھا کہ انہیں دھوپ میں عذاب دیا جارہا ہے تو پھر آگ کے ساتھ جلانے والے کے بارے ميں تيرا کیا گمان ہے ۔
error: Content is protected !!