Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر188:ذخيرہ اندوزی کرنا

(1)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:”جس نے کھانا ذخيرہ کيا وہ نافرمان ہے۔”
( صحیح مسلم ،کتاب المساقاۃ ، باب تحریم الاحتکار فی الاقوات ، الحدیث: ۴۱۲۲،ص۹۵۷،بدون” طعام”)
(2)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”سوائے خطاکار کے کوئی بھی ذخيرہ نہيں کرتا۔”
       (جامع الترمذی ،ابواب البیوع ، باب ماجاء فی الاحتکار ، الحدیث: ۱۲۶۷ ، ص ۱۷۷۹)
(3)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ عبرت نشان ہے:”جس نے 40راتوں تک کھانا ذخيرہ کيا وہ اللہ عزوجل سے اور اللہ عزوجل اس سے بری ہے اور جس گھر کے افراد میں سے ایک آدمی بھی بھوک کی حالت میں صبح کرے تو ان سب سے اللہ عزوجل کا ذمہ ختم ہو گيا۔”
( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب ، الحدیث: ۴۸۸۰،ج۲، ص۲۷۰)
(4)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مال کو ايک شہر سے دوسرے شہر لے جانے والا مرزوق (یعنی جس کو رزق دیا گیا ہو) اور ذخيرہ کرنے والا ملعون ہے۔”
( سنن ابن ماجہ ،ابواب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ، الحدیث: ۲۱۵۳ ، ص ۲۶۰۶)
(5)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”جس نے مسلمانوں پر ان کا کھانا روک ليا اللہ عزوجل اسے کوڑھ اور افلاس ميں مبتلا کر دے گا۔”
        (المرجع السابق، الحدیث: ۲۱۵۵ ، ص ۲۶۰۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(6)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدناعمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں منقول ہے:”ايک دفعہ کچھ کھانا مسجد کے دروازے کے پاس رکھا ہوا تھا، جب امير المؤمنين حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر نکلے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا:”يہ کھانا کيسا ہے؟”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”يہ کھانا شہر کے باہر سے ہمارے پاس لايا گيا ہے۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل اس کھانے میں اور اس کو ہمارے شہر میں لانے والے میں برکت عطافرمائے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ موجود کسی نے کہا:”اے امير المؤمنين رضی اللہ تعالیٰ عنہ! يہ ذخيرہ کيا گيا ہے۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا: ”کس نے ذخيرہ کيا ہے؟”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”فَرُّوخ(حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اور فلاں نے، جوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام ہے۔” 
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا بھيجا، وہ دونوں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”تمہيں مسلمانوں کے کھانے کو روکنے کا اختيار کس نے ديا ہے؟” انہوں نے عرض کی:”اے امير المؤمنين رضی اللہ تعالیٰ عنہ!ہم اپنے اموال سے خريدتے اور بيچتے ہيں۔” حضرت سيدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:ميں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو يہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”جس نے مسلمانوں پر ان کا کھانا روک ليا اللہ عزوجل اسے کوڑھ اور افلاس ميں مبتلا کردے گا۔” پس اسی وقت حضرتِ سیدنا فروخ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”اے امير المؤمنين رضی اللہ تعالیٰ عنہ! ميں اللہ عزوجل سے اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی کھانے کو ذخیرہ نہ کروں گا۔” لہٰذا انہوں نے اسے مصر کی طرف بھيج ديا جبکہ حضرت سيدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام نے کہا:”ہم اپنے اموال سے خریدتے اور بیچتے ہیں۔” بہرحال حضرت ابو یحیی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ (اس روایت کے راوی) فرماتے ہیں :”میں نے حضرت سيدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس غلام کو کوڑھ کی حالت میں دیکھا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عمر بن الخطاب،الحدیث: ۱۳۵ ، ج۱ ،ص ۵۵)
error: Content is protected !!