Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر202: مکروفریب اوردھوکاد ینا

    اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا یَحِیۡقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ  اِلَّا بِاَہۡلِہٖ ؕ
ترجمۂ کنز ا لايمان:اوربُراد ا ؤں (فريب) اپنے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے۔(پ22،فاطر:43)
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شفيع مُعظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”جس نے ہم سے دھوکا کيا وہ ہم ميں سے نہيں اور مکر اوردھوکاجہنم ميں ہے۔” (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۲۳۴،ج۱۰،ص۱۳۸)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مرسلاً مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مکر، دھوکا اور خيانت جہنم ميں ہے۔”
(المستدرک ، کتاب الاھوال، باب تحشر ھذہ الامۃ علی۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۸۸۳۱،ج۵،ص۸۳۳)
(3)۔۔۔۔۔۔حضورنبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان عبرت نشان ہے :”دھوکے باز جنت ميں داخل نہ ہو گا اور نہ ہی بخيل اور احسان جتلانے والا۔”
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث:۲ ۳،ج۱،ص۲۷)
(4)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مؤمن سيدھا سادہ، کرم کرنے والا جبکہ فاسق مکار، کمينہ ہے۔”
   (جامع الترمذی،ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی البخل،الحدیث: ۱۹۶۳،ص۱۸۴۹)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اللہ عزوجل منافقين کے بارے ميں فرماتاہے:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ ۚ
ترجمۂ کنز الايمان:بيشک منافق لوگ اپنے گمان ميں اللہ کو فريب ديا چاہتے ہيں اور وہی انہيں غافل کر کے مارے گا۔(پ5، النساء:142)
    یعنی جس طرح وہ اپنے گمان میں اللہ عزوجل کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں تو اسی کی مثل قیامت کے دن انہیں بھی اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اس طرح کہ پہلے انہیں ایک نور دیا جائے گا جس طرح کہ بقیہ تمام مؤمنین کو دیا جائے گا، جب وہ اسے لے کر پل صراط سے گزرنے لگیں گے تو وہ نور بجھا دیا جائے گا اوروہ تاریکی میں ہی بھٹکتے رہیں گے۔
(5)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”پانچ قسم کے لوگ جہنمی ہيں۔” ان ميں اس آدمی کا بھی ذکر کيا جو صبح و شام تيرے اہل يامال ميں تجھ سے دھوکا کرتاہے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ والنعیم،باب الصفات التی یعرف بھا۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۷۲۰۷،ص۱۱۷۴)

تنبیہ:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس کو کبيرہ گناہ قرار ديا گيا ہے جس کی بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے وضاحت کی ہے اور جو سابقہ ملاوٹ کی احادیثِ مبارکہ اور ان موجودہ احاديث مبارکہ سے بھی ظاہر ہے، کيونکہ مکر اور دھوکے کے جہنم ميں ہونے سے مراد يہ ہے کہ مکر کرنے والااور دھوکا دينے والا جہنم ميں جائے گا اور يہ ایک سخت وعيد ہے۔
error: Content is protected !!