Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر70: گزر گاہوں پرپاخا نہ کرنا

(1)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے حضرت سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی :” آپ نے ہميں ہر چيز کے بارے ميں شرعی احکام بيان فرما دئیے ہيں، اب ہميں قضائے حاجت کے بارے ميں بھی کچھ ارشاد فرمائيں۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا کہ ”ميں نے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :”جس نے مسلمانوں کے کسی راستے ميں پاخانہ کیا اس پر اللہ عزوجل، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔”         (المعجم الاوسط، الحدیث:۵۴۲۶،ج۴،ص۱۲۲)
(2)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو مسلمانوں کو ان کے کسی راستے کے معاملے ميں تکلیف ديتا ہے اس پر مسلمانوں کی لعنت واجب ہو جاتی ہے۔”
 (المعجم الکبیر،الحدیث:۳۰۵۰،ج۳،ص۱۷۹)
(3)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو کسی ايسی نہر کے کنارے پاخانہ کرے جس سے وضو کيا جاتا ہو يا پانی پيا جاتا ہو اس پر اللہ عزوجل ،ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(تاریخ بغداد،داودبن عبدالجبار۔۔۔۔۔۔الخ،الرقم : ۴۴۵۶،ج۸،ص۳۵۱،”حافۃ”بدلہ”ضفۃ”)
(4)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لعنت کے تين کاموں سے بچتے رہو۔” عرض کی گئی :”يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! لعنت کے وہ تين کام کون سے ہيں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”وہ يہ ہيں کہ تم ميں سے کوئی کسی سائبان، راستے يا جمع شدہ پانی ميں پاخانہ کرے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عباس۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۷۱۵،ج۱،ص۶۴۰)
(5)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”لعنت والے تين کاموں سے بچتے رہو يعنی بيٹھنے کی جگہوں، راستے کے کونوں اور سائے ميں پاخانہ مت کيا کرو۔”
(سنن ابی داؤد،کتاب الطہارۃ،باب المواضع،التی نھی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۶،ص۱۲۲۴)
(6)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لعنت والے دو کاموں سے بچو۔”عرض کی گئی:” يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! لعنت والے دو کام کون سے ہيں؟” توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ”وہ يہ ہيں کہ آدمی لوگوں کی گزرگاہوں اور سایہ دار جگہ ميں پاخانہ کرے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب النھی عن التخلی فی الطرق۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۱۸،ص۷۲۴)

وضاحت:

    امام خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ”سائے سے مراد مطلق سايہ دار جگہ نہيں بلکہ وہ سایہ ہے جسے لوگ آرام کرنے يا پڑاؤ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہيں کيونکہ سرکار مدينہ راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھجور کے درخت کے نيچے قضائے حاجت فرمائی اور لامحالہ وہ سايہ دار درخت تھا۔”
(7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”راستوں ميں لوگوں کے پڑاؤ کرنے اور نماز پڑھنے کی جگہوں سے بچتے رہو کيونکہ يہ کيڑے مکوڑوں اور درندوں کے ٹھکانے ہيں اوران پر قضائے حاجت کرنے والوں پر يہ جانور لعنت بھيجتے ہيں۔”
(سنن ابن ماجہ،ابواب الطہارۃ وسننھا،باب النھی عن الخلاء۔۔۔۔۔۔ الخ،الحدیث: ۳۲۹،ص۲۴۹۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:

    پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے تقاضا کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے کيونکہ لعنت کبيرہ گناہوں کی علامتوں ميں سے ہے، ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مابین اس بات ميں اختلاف ہے کہ يہ عمل صغيرہ گناہ ہے يا مکروہ ؟صحیح ترین قول يہ ہے کہ ايسا کرنا مکروہ ہے مگر يہ احاديثِ مبارکہ اس کی حرمت کو راجح قرار ديتی ہيں، بخاری و مسلم نے باب الشھادۃ ميں ان سے روايتيں نقل کیں اور انہيں برقرار رکھا اور بعض متاخرين نے اس پر اعتماد کيا ہے۔ الخادم ميں ہے کہ صاحب العدۃ کے نزديک اس اعتبارسے حرمت مراد ہے کہ ناحق راستے کو استعمال کرنے کی وجہ سے اس ميں مسلمانوں کی ايذاء پائی جا رہی ہے جبکہ يہ عمل قضائے حاجت کے آداب ميں سے ہونے کے اعتبار سے حرمت پر ختم نہيں ہوتا، لہٰذا ان کے اس قول ميں دو احتمال ہوئے اور يہ اسی صورت ميں ہے کہ جب صاحب العدۃ کے قول سے وہی مراد ہو جو امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سمجھے ہيں حالانکہ ظاہر اس کيخلاف ہے کيونکہ ان کی مراد يہ ہے کہ یہ ان کاموں ميں سے ہے جن کے سبب گواہی مردود ہو جاتی ہے اس وجہ سے کہ يہ عمل محض مروّت کيخلاف ہے نہ کہ اس کے حرام ہونے کی وجہ سے۔
error: Content is protected !!