Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر74: بلا ضرورت سترکھولنا جیسے حمام ميں تہبندوغیرہ سے ستر پوشی کئے بغير داخل ہونا۔

 (1)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”دو شخص پاخانہ کرتے وقت باہم سرگوشی نہ کيا کريں اس طرح کہ وہ ايک دوسرے کی شرمگاہ کو ديکھتے ہوں کيونکہ اللہ عزوجل اس بات کوسخت ناپسند فرماتاہے۔”
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ وسننھا،باب النھی عن الاجتماع علی الخلاء،الحدیث:۳۴۲،ص۲۴۹۸)
 (2)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”دو افراد پاخانہ کے لئے اس طرح نہ نکليں کہ بے پردہ ہو کر باتيں کریں کيونکہ اللہ عزوجل اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔”  (سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ،باب کراہیۃ الکلام۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۵،ص۱۲۲۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (3)۔۔۔۔۔۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”دو افراد پاخانہ کے لئے اس طرح مت جائیں کہ وہ دونوں اپنے ستر کھولے ہوئے بیٹھ کر باتیں کرتے ہوں کیونکہ اللہ عزوجل اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔”  (المعجم الاوسط،الحدیث: ۱۲۶۴،ج۱،ص۳۴۸)
 (4)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب دو مرد قضائے حاجت کرنے لگيں تو ايک دوسرے سے چھپ جائيں۔”
 (تاریخ بغداد،باب العین، حرف الیاء من آباء العین، الرقم : ۶۵۷۴،ج۱۲،ص۱۲۲)
 (5)۔۔۔۔۔۔ رحمت عالم ،نورمجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اپنی بيوی ياکنيز کے علاوہ دوسروں سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔” عرض کی گئی :”جب قوم آپس ميں مل کر بيٹھی ہو تو کيا کريں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ ديکھ سکے تو کوئی نہ ديکھے۔” عرض کی گئی: ”اگر ہم ميں سے کوئی تنہا ہو تو کيا کرے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل اس بات کا زيادہ حقدار ہے کہ لوگوں سے زيادہ اُس سے حيا کی جائے۔”  (سنن ابی داؤد،کتاب الحمام، باب فی التعری،الحدیث:۴۰۱۷،ص۱۵۱۷)
 (6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”بے شک اللہ عزوجل حياء والا اور مخفی ہے، حيا ء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم ميں سے کوئی غسل کرنے لگے تو پردہ کرليا کرے۔”
 (سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب النھی عن التعری،الحدیث:۴۰۱۷۲،ص۱۵۱۶)
 (7)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا جبار بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :”ہميں اس بات سے منع کيا گيا ہے کہ ہماری شرمگاہيں نظر آئيں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (المستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضوان اللہ،باب مناقب جبار بن صخر رضی اللہ عنہ ، الحدیث: ۵۰۳۷،ج۴، ص۲۳۸)
 (8)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :”مجھے اس بات سے منع کیا گیا کہ میں برہنہ یعنی کپڑوں کے بغیر چلوں۔”
  (البحرالزخار،بمسندالبزار،مسند العباس بن عبدالمطلب،الحدیث: ۱۲۹۵،ج۴،ص۱۲۵)
 (9)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”عريانی سے بچتے رہو کيونکہ تمہارے ساتھ وہ (یعنی فرشتے)ہوئے ہيں جو صرف پاخانہ کرتے وقت اور آدمی کے اپنی اہليہ کے پاس جاتے وقت جدا ہوتے ہيں، لہٰذا ان سے حياء کرو اور ان کا اکرام کرو۔”
(جامع الترمذی،کتاب الادب ،باب ماجاء فی الاستتارعند الجماع،الحدیث:۲۸۰۰،ص۱۹۳۳)
 (10)۔۔۔۔۔۔شاہ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل حياء والا، علم والا اورپوشیدہ ہے، لہٰذا جب تم ميں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر ليا کرے اگرچہ ديوار کی آڑ ہی ميں ہو۔”  (کنزالعمال، کتاب الطہارۃ،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۶۶۰۰،ج۹،ص۱۶۸)
 (11)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اللہ عزوجل حياء والاہے حياء کو پسند فرماتا ہے، مخفی ہے پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم ميں سے کوئی غسل کرنے لگے تو پردے ميں ہو جايا کرے۔”
 (مصنف عبدالرزاق،کتاب الطہارۃ، باب ستر الرجل اذا اغتسل،الحدیث: ۱۱۱۱،ج۱،ص۲۲۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (12)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اے لوگو! تمہارا رب عزوجل حیاء والا اور کریم ہے لہذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لیا کرے۔”
 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۶۷۰،ج۲۲،ص۲۶۰)
 (13)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے :”پردہ کئے بغير پانی ميں داخل مت ہوا کروبے شک پانی کی بھی دو آنکھيں ہوتی ہيں۔”
        (فردوس الاخبارللدیلمی،باب اللام،الحدیث:۷۵۳۵،ج۲،ص۴۱۴)
 (14)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن جريج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ مجھ تک يہ بات پہنچی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم باہر تشريف لائے تو ديکھا کہ آپ کا مزدور ننگا نہا رہا تھا، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا :”ميں تمہيں اللہ عزوجل سے حياء کرنے والا نہيں پاتا، اپنی مزدوری پکڑ، ہميں تمہاری کوئی حاجت نہيں۔”
 (مصنف عبدالرزاق،کتاب الطہارۃ، باب ستر الرجل اذا اغتسل،الحدیث:۱۱۱۲،ج۱،ص۲۲۳)
error: Content is protected !!