Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر78: بغير منڈ ير کی چھت پر سونا

(1)۔۔۔۔۔۔شاہ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کسی ايسے مکان کی چھت پر رات گزاری جس کی منڈير (یعنی چاردیواری)نہ تھی تو اس سے ذمہ داری اٹھا لی گئی۔”
 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ، باب فی النوم علی سطح ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۵۰۴۱،ص۱۵۹۲)
 (2)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے لوگوں کو بغير منڈير کی چھت پر سونے سے منع فرمايا ہے۔”  ( جامع الترمذی ،ابواب الادب،الحدیث:۲۸۵۴،ص۱۹۳۷)
 (3)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے ہم پر شب خون مارا وہ ہم ميں سے نہيں اور جو بغير منڈير کی چھت پر سويا اور گر کر مر گيا اس کا خون رائیگاں گيا۔”
 ( المعجم الکبیر،الحدیث:۲۱۷،ج۱۳،ص ۶۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (4)۔۔۔۔۔۔حضرت ابو عمران جونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ ہم فارس ميں تھے، وہاں ايک شخص کو ہمارا امير مقرر کيا گيا تھا اس کا نام زہير بن عبد اللہ تھا، ايک مرتبہ اس نے کسی مکان پر يا بغير منڈير کی چھت پر کسی شخص کو ديکھا تو مجھ سے پوچھا :”کيا تم نے اس بارے ميں کوئی بات سنی ہے ؟” ميں نے کہا ”نہيں۔” تو اس نے کہاکہ مجھے ايک شخص نے خبر دی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے :”جس نے کسی مکان يا ايسی چھت پر رات گزاری جس کی منڈير نہ ہو جو اس کے قدموں کو لوٹا سکے تو اس سے ذمہ داری اٹھا لی گئی اور جو سمندر ميں طغيانی اور طوفان آنے کے باوجودسفر کرے اس سے بھی ذمہ داری اٹھا لی گئی۔”  ( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۲۰۷۷۵ ، ج ۷ ، ص ۳۸۹)
 (5)۔۔۔۔۔۔حضرت ابو عمران رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ مَيں حضرت زھيرشوّاء رحمۃ اللہ تعالیٰ کی معيت ميں ايک ايسے شخص کے قريب سے گزرا جو بغير منڈير والی چھت پر سو رہا تھا تو انہوں نے اس کے ہاتھ پر ٹھوکر ماری اور کہا :”اٹھو۔” پھر حضرت زھيررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمايا کہ حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشادفرمایا :”جو بغير منڈير والی چھت پر سويا اور گر کر مر گيا اس سے ذمہ داری اٹھا لی گئی۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( التر غیب والترھیب ،کتاب الادب ، باب الترھیب ان ینام ۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث ۴۷۱۷، ج۳ ، ص ۵۰۹)

تنبیہ:

    بہت سے متاخرين علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان احادیثِ مبارکہ سے استدلال کر کے بغير منڈير والی چھت پر سونے کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا ہے مگر يہ استدلال درست نہيں کيونکہ يہاں ذمہ داری اٹھا لينے سے وہ معنی مراد نہيں جسے ہم گذشتہ صفحات ميں بيان کر چکے ہيں۔
error: Content is protected !!