Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر84: سترے کے باوجود نمازی کے آگے سے گزرنا

(1)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا اپنے گناہ کو جانتا ہوتاتو اس کے لئے چالیس (سال یادن)تک کھڑا رہنانمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا۔”
( صحیح البخاری ،کتاب الصلاۃ ، باب اثم المار بین یدی المصلی ، الحدیث ۵۱۰ ، ص ۴۲)
(2)۔۔۔۔۔۔اور ایک روایت میں ہے :”تو وہ 40سال تک کھڑا رہتاکہ یہ اس کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا ۔”
( مجمع الزوائد،کتاب الصلوۃ ، باب فیمن یمر بین یدی المصلی، الحدیث:۲۳۰۲،ج۲،ص۲۰۲)
(3)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم ميں سے کسی کا 100سال تک کھڑے رہنا اپنے نماز پڑھتے ہوئے بھائی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔”
( جامع الترمذی ،ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ المرور۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۳۳۶ ، ص ۱۶۷۳)
(4)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر تم ميں سے کوئی جان لے کہ رب عزوجل سے مناجات کرنے والے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے سے گزرنے ميں کيا (سزا) ہے تو اسے اس جگہ 100سال تک کھڑے رہنا اس کے سامنے دوقدم چلنے سے زيادہ پسندہوتا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث ۸۸۴۶ ، ج۳ ، ص ۳۰۴)
(5)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب تم ميں سے کوئی شخص کسی ايسی چيز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہا ہو جو ا سے لوگوں سے چھپاتی ہے پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اپنے سامنے سے ہٹا دے اگر گزرنے والانہ مانے تو اس سے جھگڑا کرے کيونکہ وہ شيطان ہے۔”
( صحیح البخاری ،کتاب الصلوۃ،باب یرد المصلی من مر بین یدیہ ، الحدیث ۵۰۹ ، ص ۴۲)
(6)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”نمازی کو چاہے کہ کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے اگر وہ نہ مانے تو اس سے جھگڑا کرے کيونکہ وہ اپنے قرين یعنی شيطان کی اطاعت کر رہا ہے۔”
 ( صحیح مسلم ،کتاب الصلوۃ ، با ب منع المار بین یدی المصلی ، الحدیث:۱۱۳۰، ص ۷۵۷)
(7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آدمی کا راکھ ميں پناہ چاہنا جان بوجھ کر نمازی کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہے۔”
( التمھیدلابن عبدالبر،ابوالنضرمولی عمر بن عبیداللہ ، تحت الحدیث۵۹۶ /۱،ج۸ ، ص ۴۷۸)
تنبیہ: 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسے کبيرہ گناہ قرار ديا ہے، شايد ان کی نظر ہماری بیان کردہ احادیثِ مبارکہ پر تھی کيونکہ ان ميں سخت وعيديں ذکر کی گئی ہيں، ان احادیثِ مبارکہ سے يہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی حرمت اس وقت ثابت ہو گی جب وہ سترے کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو گا(یعنی نمازی اور سترے کے درمیان سے گزرے)اور ہمارے نزديک سترہ ديوار، ستون، زمين ميں گڑا ہوا عصا يا جمع شدہ سامان ہے، اگر نمازی اس سے عاجز ہو تو اسے پھيلا دے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو اپنے دائيں بائيں لمبائی ميں ايک خط یعنی لکیر کھينچ دے اس صورت ميں نمازی کا اس خط کے قريب ہونا شرط ہے، يعنی اس کی ايڑيوں اور خط کے درميان تین ہاتھ سے زيادہ فاصلہ نہ ہو اور ان تین ميں سے پہلے کی لمبائی دوتہائی ہاتھ يا اس سے زيادہ ہو، نیز وہ راستے ميں بھی کھڑا نہ ہو جيسے مطاف وغيرہ ميں کسی کے طواف کرتے وقت نماز نہ پڑھے۱؎اور اس کے سامنے اگلی صف ميں کشادگی نہ ہو اگرچہ وہ اس سے دور ہی کيوں نہ ہو، اگر ہماری بيان کردہ شرائط ميں سے ايک بھی شرط نہ پائی گئی تو نماز ی کے آگے سے گزرنا حرام نہ ہو گابلکہ مکروہ ہو گا،اورایک قول یہ بھی ہے کہ نمازی کے سجدہ کرنے کی جگہ سے گزرنا حرام ہے اور ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ايک جماعت اسی کی قائل ہے۔”۲؎
۱؎ ليکن احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک” مسجد حرام شريف ميں نماز پڑھتا ہو تو اس کے آگے طواف کرتے ہوئے لوگ گزر سکتے ہيں۔”(بہار شريعت،ج ۱،حصہ ۳، ص ۸۱))
۲؎احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک” نمازی کے آگے سترہ بقدر ايک ہاتھ اونچااور انگلی برابر موٹا ہو اور زيادہ سے زيادہ تين ہاتھ اونچا ہو تو اس کے بعد سے گزرنے ميں کوئی حرج نہيں۔ ”(بہار شريعت،ج ۱،حصہ ۳، ص ۸۱)
error: Content is protected !!