Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

غناء کی مقدار میں بزرگوں کے اقوال :

سیدناامام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :”کبھی آدمی صحت مند ہونےکی صورت ميں ايک درہم سے غنی ہو جاتا ہے اور کبھی کمزوری اور کثرتِ عيال کی وجہ سے 1000درہم بھی اسے غنی نہيں کر سکتے۔” 
    حضرت سیدنا سفيان ثوری، سیدنا عبد اللہ بن مبارک، سیدنا حسن بن صالح، سیدنا امام احمد بن حنبل اور سیدنا اسحاق رحمہم اللہ تعالیٰ کی رائے يہ ہے :”جس کے پاس 50درہم يا ان کی ماليت کا سونا ہو اسے زکوٰۃ ميں سےکچھ نہ ديا جائے گا۔” 
    حضرت حسن بصری اور سیدنا ابو عبيدہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما فرمايا کرتے تھے :”جس کے پاس 40درہم ہوں وہ غنی ہے۔” جبکہ احناف کا کہنا ہے:”جو نصاب سےکم ماليت رکھتا ہو اگرچہ تندرست ہو اور کمانےکی صلاحيت رکھتا ہو اسے زکوٰۃ دينا جائز ہے۔” اوراس کے ساتھ ان کا يہ قول بھی ہے :”جس کے پاس ايک دن کی غذا موجود ہو اس کے لئے سوال کرنا جائز نہيں۔”
(25)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ايک انصاری نے سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بيکس پناہ ميں حاضر ہو کر سوال کيا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے ارشاد فرمايا :”کيا تمہارے گھر ميں کوئی چيز نہيں؟” اس نے عرض کی،”کيوں نہيں! ايک کمبل اور ايک بڑا پيالہ ہے جس ميں پانی پيا جاتا ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”وہ دونوں چيزيں ميرے پاس لے آؤ۔” وہ انصاری دونوں چيزيں لےکر حاضر ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہيں اپنے دستِ مبارک ميں پکڑ کر ارشاد فرمايا :”يہ دونوں چيزيں کون خريدے گا؟” ايک شخص نے عرض کی،”ميں ايک درہم ميں خريدتا ہوں۔” شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے 2يا3مرتبہ ارشاد فرمايا :” کون ايک درہم سے زيادہ کرتا ہے۔” ايک شخص نے عرض کی،”ميں 2درہم ميں خريدتا ہوں۔” تو رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ دونوں چيزيں اسے عطا فرما کر 2درہم لے لئے اور اس انصاری کو عطا فرما تے ہوئے ارشاد فرمايا :”ايک درہم سے اپنے گھر والوں کو کھانا کھلاؤ اور دوسرے درہم سے ايک کلہاڑی خريد کر ميرے پاس لے آؤ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     وہ انصاری کلہاڑی لےکر حاضر ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس ميں لکڑی کا دستہ لگايا اور ارشاد فرمايا :” جاؤ، لکڑياں کاٹ کر بيچو اور ميں 15دن تک تمہيں نہ ديکھوں۔” اس نے ايسا ہی کيا پھر حاضر ہوا تو 10درہم کما چکا تھا، اس نےکچھ رقم سےکپڑے اور کچھ سےکھانا خريدا تو نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :”يہ تمہارے لئے اس بات سے بہتر ہےکہ قيامت کے دن تمہارے چہرے پرسوال کرنےکا داغ ہو، کیونکہ سوال کرنا 3شخصوں کے علاوہ کسی کے لئے درست نہيں: (۱)ذلت آميز فقر والا (۲)قباحت ميں حد سے بڑھے ہوئے قرض ميں گھِرا ہوا شخص اور (۳)مجبور کردینے والے خون میں پھنساہوا شخص۔”
(سنن ابی داؤد،کتاب الزکاۃ،باب ماتجوزفیہ المسئلۃ، الحدیث:۱۶۴۱،ص۵ ۱۳۴)
 (26)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جسے اسلام کی ہدايت دی گئی اور اس کا رزق حاجت کے مطابق ہو او روہ اس پرقناعت کرے۔”
(المسند للاما م احمد بن حنبل، مسند فضالۃ بن عبید الانصاری، الحدیث: ۲۳۹۹۹،ج۹،ص۲۴۶)
 (27)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ نبی کريم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے مجھے ارشاد فرمایا:”اے ابو ذر!کيا تم مال کی کثرت ہی کو غنا سمجھتے ہو؟” ميں نے عرض کی،”جی ہاں، يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”کيا تم مال کی قلت ہی کو فقر سمجھتے ہو؟” ميں نے عرض کی،”جی ہاں، يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”غنا تو دل کی غنا ہے اور فقر تو دل کا فقر ہے۔”
 (المستدرک ،کتاب الزکاۃ،باب انما الغنی غنی القلب ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۹۹۹،ج۵،ص۴۶۶)
 (28)۔۔۔۔۔۔رسول اکرم، شفيع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مسکين وہ نہيں جسے ايک يا دو لقمے اور ايک يا دو کھجوريں دربدر کر ديں بلکہ مسکين تو وہ ہے جونہ تو ايسی غنا پائے جو اسے بے نياز کر دے اور نہ کسی کو اپنی مجبوری سمجھا سکےکہ وہ اس پر صدقہ کرے اور نہ ہی کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کر سکے، غنا مال کی کثرت سے نہيں ہوتی بلکہ غناتو نفس کی غنا کا نام ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ ،باب المسکین الذی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۹۳/۲۳۹۴،ص۸۴۱،بد ون”لیس الغنی عن کثرۃ العرض ”)
 (29)۔۔۔۔۔۔ایک شخص نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں عرض کی”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھےکوئی مختصر نصيحت فرمائیں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا”لوگوں کے مال سے خود پر مايوسی لازم کر لو اور لالچ سے بچتے رہو کيونکہ يہ فورًا لاحق ہونے والا فقر ہے اور ايسےکام سے بچتے رہو جس کا عذر پيش کرنا پڑے۔”
 (المستدرک ، کتاب الرقاق، باب ایاک والطمع فانہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۹۹۸،ج۵،ص۴۶۵)
 (30)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”قناعت لازوال خزانہ ہے۔”
 (الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،باب الترہیب من المسألۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۲۳۹،ج۱،ص۳۹۸)
error: Content is protected !!