Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خود پسندی

(49)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”خود پسند ی (70)ستر سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔”
(50)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو سب سے بد صورت انسان ہوتا۔”
(جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال،الحدیث:۱۷۶۵۰،ج۵،ص۱۳۰)
(51)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر تم  گناہ نہ کرتے ہوتے تو تم پر گناہوں سے بڑی مصیبت ڈال دی جاتی جو کہ خود پسندی ہے۔”
(شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ،الحدیث: ۷۲۵۵،ج۵، ص۴۵۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(52)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :”حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کوہِ مروہ پر ملاقات ہوئی تو دونوں حضرات آپس میں گفتگو کرنے لگے، پھر جب حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لے گئے توحضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رونے لگے، لوگوں نے پوچھا: ”اے ابو عبد الرحمن! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”انہوں نے یعنی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے،جنہیں یقین ہے کہ انہوں نے مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :”جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا اللہ عزوجل ا سے منہ کے بل جہنم میں گرائے گا۔”
(شعب الایمان، باب فی حسن الخلق،الحدیث:۸۱۵۴،ج۶،ص۲۸۰)
(53)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اپنے فوت شدہ آباؤاجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آ جانا چاہے، کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں، یا وہ قومیں اللہ عزوجل کے نزدیک گندگی کے ان کیڑوں سے بھی حقیر ہو جائیں گی جو اپنی ناک سے گندگی کو کریدتے ہیں، اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرما دیا ہے، اب آدمی متقی و مؤمن ہو گا یا بدبخت وبدکار ، سب لوگ حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد ہیں اور حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (جامع الترمذی،ابواب المناقب،باب فی فضل الشام والیمن،الحدیث:۳۹۵۵،ص۲۰۵۵)
(54)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام نے ایک دن جن وانس، درندوں اور پرندوں کو باہر نکلنے کاحکم دیا تو دو لاکھ انسان اوردو لاکھ جِن حاضر خدمت ہوگئے، پھر آپ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام اتنےبلند ہوئے کہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے آسمانوں کے فرشتوں کی تسبیح کرنے کی آواز سن لی، پھر آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نیچے تشریف لائے یہا ں تک کہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم مبارک سمندر سے مل گئے کہ اچانک آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک آواز سنی،”اگر تمہارے ساتھی کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہوتا تو میں اسے اس سے بھی دورتک زمین میں دھنسا دیتا جتنا اسے بلندی پرلے گیا تھا۔”
(55)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔”
 (صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب من جر ثوبہ من الخیلاء، الحدیث۵۷۸۸،ص۴۹۴)
(56)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس حاضر ہوا تو حضرت سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے تومیں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ فرماتے ہوئے سنا :”بیٹا! اپنا تہبند اونچا کر لو کیونکہ میں نے مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :”اللہ عزوجل تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔”
(صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم جر الثوب خیلاء، رقم ۵۴۵۳، ص ۱۰۵۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(57)۔۔۔۔۔۔سیدناامام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا ہے اور اس میں حضرت سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قریب سے گزرنے کا ذکر نہیں۔” نیز امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی کی ایک روایت میں ہے :”گزرنے والا وہ شخص بنی لیث سے تھا جس کا نام مذکور نہیں۔”
(58)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک دن اپنا لعاب دہن اپنی مبارک ہتھیلی پر ڈالا پھر اس میں اپنی انگلی ڈال کر ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :”اے فرزند آدم! کیا تو مجھے عاجز کریگا؟حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا فرمایا ہے، یہا ں تک کہ جب میں نے تجھے درست اوربے عیب پیدا کیا تو تُو دو چادریں اوڑھ کر زمین پر اِترا کر چلنے لگا،تُو نے مال جمع کیا اور لوگوں سے روکے رکھا یہاں کہ جب تو اِنتہا کو جا پہنچا تو کہنے لگا :”میں صدقہ کروں گا۔”مگر اب صدقہ کا وقت کہاں؟”
(المستدرک،کتاب الرقاق،باب اشقی الاشقیاء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۹۸۴،ج۵،۴۶۰،بدون”بردین وللأرض منک وئید”)
(59)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :”جہنم سے ایک ایسا بچھو نکلے گا جس کے دو کان ہوں گے اور وہ ان سے سنتا ہو گا، دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک بولنے والی زبان ہو گی، اسے تین شخصوں پر مسلّط کیا جائے گا: (۱)ہر عناد رکھنے والے ظالم(۲)مشرک اور(۳) تصویر بنانے والے پر۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(جامع الترمذی،ابواب صفۃ جہنم،باب ماجاء فی صفۃ النار،الحدیث:۲۵۷۴،ص۱۹۱۱)
(60)۔۔۔۔۔۔تاجدار ِرسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” جنت اور جہنم میں مباحثہ ہو گیا تو جہنم نے کہا: ”مجھے متکبرین اور ظالموں سے ترجیح دی گئی۔” اور جنت نے کہا: ”مجھے کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ مجھ میں کمزور، عاجز اور گرے پڑے لوگ داخل ہوں۔” تو اللہ عزوجل نے جنت سے ارشاد فرمایا: ”تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔” اور جہنم سے ارشاد فرمایا :”تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور تم دونوں کو بھر دیا جائے گا۔”
(صحیح مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا،باب الناریدخلہا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱۷۳،ص۱۱۷۲)
(61)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جنت اور جہنم میں مباحثہ ہو گیا تو جہنم نے کہا :”مجھ میں ظالم اور متکبر لوگ ہیں۔” اور جنت نے کہا :”مجھ میں کمزور اور مسکین مسلمان ہیں۔” تو اللہ عزوجل نے ان دونوں کے درمیان یوں فیصلہ فرمایا :”اے جنت! تُومیری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور اے جہنم! تُو میرا عذاب ہے تیرے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمۂ  کرم پر ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا،باب الناریدخلہا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱۷۳،ص۱۱۷۲،بتغیرٍقلیلٍ)
(62)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بدتر ہے وہ بندہ جو بخل اور تکبر کرے اور بلند وبالا اور بڑائی والے (یعنی اللہ عزوجل) کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو ظلم وزیادتی کرے اور جبار عزوجل کو بھلا دے، بدتر ہے وہ بندہ جو غافل ہوا ور کھیل کو د میں پڑا رہے اورقبرستان اور اس میں بوسیدہ ہونے کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو سرکشی کرے اور حد سے بڑھ جائے اوراپنی اِبتدا اور اِنتہا کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو دین کو شہواتِ نفسانیہ سے فریب اور دھوکا دے، بدتر ہے وہ بندہ جس کا رہنما حرص ہو، بدتر ہے وہ بندہ جس کو خواہشات راہِ حق سے بھٹکا دیں، بدتر ہے وہ بندہ جس کا شوق اور رغبت اس کو ذلیل وخوار کر دے۔”
(63)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،باذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب فارس(ايران) وروم میری اُمت کے ماتحت ہوں گے اوروہ متکبرانہ چال چلے گی تو وہ ایک دوسرے پر ہی قبضہ جمائيں گے ۔”
(64)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اپنے آپ کو بڑا جانے یا متکبرانہ چال چلے وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عزوجل اس پر ناراض ہو گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ بن عمربن خطاب،الحدیث:۶۰۰۲،ج۲،ص۵۴۱)
(65)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں: (۱) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (۲)خواہش جس کی پیروی کی جائے (۳)بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔”
(مجمع الزوائد،کتاب الایمان،باب فی المنہیات والمہلکات،الحدیث:۳۱۳،ج۱،ص۲۶۹)
(66)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ، نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: ”جب نوح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلاکر ارشاد فرمایا :”میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتاہوں اور دوباتوں سے منع کرتا ہوں جن دو باتوں سے منع کرتا ہوں وہ شرک اور تکبر ہیں، اورجن دو باتوں کا حکم دیتا ہوں : (۱)ان میں سے پہلی لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ پر استقامت ہے، کیونکہ اگر زمین وآسمان اور ان کی ہر چیز ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائے اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تولَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ ان سب پر غالب آ جائے گا اور اگر زمین وآسمان ایک حلقہ ہو اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ کو اس پر رکھ دیا جائے تو یہ اس کوتوڑ دے گا اور(۲) دوسری چیز جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں وہ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھنا ہے کیونکہ یہی ہرچیز کی تسبیح ہے اور اسی کے سبب ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔”
(المسند للامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ بن عمروبن عاص،الحدیث:۷۱۲۳،ج۲،ص۶۹۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(67)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عیسٰی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں:”سعادت ہے اس کے لئے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب سکھائی اورپھر وہ شخص ظالم ہو کرنہ مرا۔”
(الزہدللامام احمدبن حنبل،بقیۃ زہد عیسٰی علیہ السلام،الحدیث:۴۷۲،ص۱۲۵)
(68)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بازار سے اس حالت میں گزرے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر پر لکڑیوں کی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا :”جب اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے بے نیاز کر دیا ہے تو پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گٹھڑی اٹھانے پرکس چیز نے آمادہ کیا؟” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”میں نے اپنے آپ سے تکبر دور کرنے کے لئے ایسا کیا ہے کیونکہ میں نے رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :”جس کے دل میں رائی برابربھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۰۰۰،ج۱۰،ص۷۵)
(69)۔۔۔۔۔۔اور ایک روایت میں ہے :”رائی کے ذرے برابربھی تکبر ہو گاوہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، الحدیث:۲۶۷،ص۶۹۴)
(70)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا کریب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو لے کر ابو لہب کی بھٹی کی طرف جا رہا تھا کہ انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ہیں؟” تو میں نے عرض کی کہ ”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب اس مقا م کے قریب پہنچ چکے ہیں۔” تو انہوں نے ارشاد فرمایا :”مجھے میرے والد عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: ”میں اس جگہ پر حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص دو چادریں اوڑھے متکبرانہ چال چلتا ہوا آیا، وہ اپنی چادریں دیکھتا ہوا اس پر اِترا رہا تھا کہ اللہ عزوجل نے اسے اِس جگہ زمین میں دھنسا دیااب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مسند ابی یعلی الموصلی، مسند العباس بن عبدالمطلب، الحدیث:۶۶۶۹،ج۶، ص۵)
(71)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ہر متکبر، اِترا کر چلنے والا، مال جمع کرنے اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے، جبکہ ہر کمزور ومغلوب شخص جنتی ہے۔”
(شعب الایمان، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التواضع، الحدیث:۸۱۷۰،ج۶،ص۲۸۴)
(72)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے(حضرت سیدناسراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ارشاد فرمایا: ”اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟”(آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ) میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ضرور بتائیے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث:۶۵۸۹،ج۷،ص۱۲۹)
(73)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بد اخلاق اورمتکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ کمزور اور ضعیف سمجھا جانے والا بوسیدہ لباس پہننے والا شخص ہے جسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھالے تو اللہ عزوجل اس کی قسم ضرور پوری فرمائے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند حذیفہ بن یمان، الحدیث: ۲۳۵۱۷،ج۹،ص۱۲۰،بدون”لایؤبہ لہ”)
(74)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”کیامیں تمہیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟(وہ) ہر کمزور یا کمزورسمجھا جانے والا وہ شخص ہے کہ جو اگر کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری فرمائے، کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہر سرکش، اِترا کر چلنے والا اور متکبر شخص جہنمی ہے۔”
(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب عقل بعد ذالک۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۹۱۸،ص۴۲۲)
(75)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے ”بے شک قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے نزدیک اور پسندیدہ شخص وہ ہو گا جو تم میں سے اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہو گا اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے قابل نفرت اور میری مجلس سے دوروہ لوگ ہوں گے جو واہيات بکنے والے ، لوگوں سے ٹھٹھا کرنے والے اور مُتَفَیْہِق ہیں۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! بے ہودہ بکواس بکنے والوں اورلوگوں سے ٹھٹھا کرنے والوں کو تو ہم نے جان لیا مگر یہ مُتَفَیْہِق کون ہيں؟ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد ہرتکبر کرنے والا شخص ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی معالی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۱۸،ص۱۸۵۳)
error: Content is protected !!