Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

آغازِ سخن

الحمد للہ رب العالمین، والعاقبۃ للمتقین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا محمدن النبی الأمیّ الأمین الحلیم الکریم وعلیٰ آلہٖالطیبین وصحابتہ المکرمین، أما بعد!
       اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بے پایاں اِحسان وکرم ہے کہ اس نے ہمیں دین اِسلام کی آغوش میں پناہ دی، اور تاجدارِ کائنات ﷺ کی غلامی کا شرف عطا کیا۔ نہ اسلام سے بڑھ کر کوئی دولت ونعمت ہے اور نہ غلامیِ مصطفےٰ سے بڑھ کر کوئی سعادت وعزت۔ لہٰذا وہ شخص بڑا خوش بخت ہے جو شجردین سے وابستہ  اورکتاب وسنت کے اَحکام پر پورے طور پر عمل پیرا ہے۔ 

   بلاشبہہ دینِ اسلام اللہ کا بتایا ہوا ایک سیدھا راستہ، آسان طریقہ اورمکمل دستورِ حیات ہے، جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے، جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں، اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ وخم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا،اوررسول پاکﷺکیمبارک زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات، معاملات، اخلاقیات، غرضیکہ جملہ شعبہ ہاے زندگی میں کتاب وسنت کی بھرپور رہنمائی ہمارے لیے موجود ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ہماری معاشی ومعاشرتی،سماجی وملی اور جسمانی وروحانی  جملہ مشکلات کا مداوا اِس دین فطرت کے اندر موجود ہے۔اور اللہ ورسول کی تعلیمات و ہدایات زندگی کے ہر موڑ پر ہماری بہترین رہنما ہیں۔ ان ہدایاتِ ربانی سے ہم نے جب بھی منہ موڑا اور روگردانی کی تو ہمیں منہ کی کھانی پڑی اور طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے خیروسعادت اسی میں ہے کہ اسلام اور پیغمبراسلام ﷺکی بتائی ہوئی  راہ پر ہم مقدور بھر جادہ پیما رہیں، اورزندگی کے لمحے لمحے کی قدر کرکے دنیا وآخرت دونوں کو خوشگوار بنانے میں اپنا مومنانہ کردار اَدا کریں۔
دُعا کی اہمیت:یہ ایک ناقابل انکار صداقت ہے کہ انسان کی زندگی میں بسا اَوقات کچھ ایسی گھڑیاں آجاتی ہیں، جب وہ دنیاوی ذرائع اور وسائل کی کثرت کے باوجود اپنے آپ  کو بے چین،پریشان،بے بس او ر مجبورِ محض پاتا ہے اور کسی ایسے سہارے کی تلاش میں ہوتا ہے جو اسے چین اورسکون کی دولت سے مالامال کردے۔اِسلامی تعلیمات جوزندگی کے ہر شعبے کو محیط ہیں ، بے کسی وبے بسی کے اس عالم میں انسانیت کی رہنمائی کرتی دکھائی  دیتی ہیں،اوربتاتی ہیں کہ دلوں کا اطمینان صرف یاد ِخداوندی میں مست ومشغول رہنے میں ہے اور مشکلات کا حل اسی صورت میں ممکن ہے جب بارگاہ ربّ العالمین میں دست التجا کو دراز کیا جائے کہ اس کے سوا کوئی مصائب ومشکلات کو ٹالنے والا نہیں،وہی سب کا فریاد رس، حاجت روا، اور مشکل کشاہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     ہرچندکہ دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی دعا  کا یہ تصور موجود رہا ہے؛ مگر حقیقیتِ دعا کو اسلام سے بہتر نداز میں کسی دوسرے مذہب نے پیش نہیں کیا؛کیوں کہ اسلام نے تودعا کومغز عبادت بلکہ مستقل عبادت کا درجہ عطا کیا ہے۔اور نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر کسی نے بھی اس کے آداب وضوابط اور کلمات وصیغے عطا نہیں فرمائے۔
دعا درحقیقت ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیتی۔ اللہ  سے بندہ جتنا بھی مانگے وہ خوش ہوتا ہے  اور اگر کوئی نہ مانگے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ اس لیے جب کبھی کوئی مشکل پیش آئے، پریشانی لاحق ہو یا مصیبت ٹوٹ پڑے تو اپنے ہاتھوں کو بارگاہ الہٰی میں اٹھائیں اورحضورِ قلب کے ساتھ دعائیں مانگیں اللہ ضرور انھیں شرفِ قبول عطا فرمائے گا۔
شریعتِ اسلامیہ میں عبادت‘دراصل اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مناجات کانام  اور بندے کا اپنے خالق سےقلبی تعلق کا اظہار ہے۔ایک مسلمان جب اپنی غمی،خوشی اور زندگی کے دیگر معاملات میں اللہ سےرہنمائی حاصل کرتا ہے تو اس کا یہ تعلق اپنے رب سے اور بھی گہرا ہوجاتا ہے ۔ عبادات کاایک حصہ ان دعاؤں پرمشتمل ہے جو ایک مسلمان چوبیس گھنٹوں میں مصطفیٰ جانِ رحمتﷺ کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق بجا لاتا ہے او ر یقیناً مومن کےلیے سب سے بہترین ذریعہ دعا ہی ہے جس کے توسل سے وہ اپنے رب کو منالیتا ہے اور اپنی دنیا وآخرت کی مشکلات سے نجات پالیتا ہے۔دعا بلا شبہہ مومن کی ڈھال اور شیطانی وسوسوں،حملوں اور نفسانی خواہشات کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔
کتاب وسنت میں مختلف اوراد و وظائف اور ادعیہ منقول ہیں ، جن کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے بلکہ اگر اللہ توفیق دے تو انھیں زبانی یاد بھی کرلینا چاہیے؛کیونکہ ذکر الہٰی  قلب وروح کے اطمینان کا باعث،قرب الہٰی کا وسیلہ،آفات و مصائب سے بچاو کا سبب اور بے پناہ اَجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔
ذکر کی اَہمیت:اللہ رب العزت نےروح کوجسم اِنسانی  کا حصہ بنایا ہے۔بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ ایک انسان اپنے جسم کی  غذا کا بندوبست  کرنے کے لیےتوصبح وشام سرگرداں دکھائی دیتا ہے؛ لیکن اپنی روح کی غذا کی کوئی فکر نہیں کرتا۔حالاں کہ جسم کی توانائی سے روح کی توانائی کہیں زیادہ اَہمیت کی حامل ہے۔ جس طرح  جسم کو غذا نہ ملے یا ناقص غذا ملے تو جسم بیمار ہوجاتاہے،اسی طرح  روح بھی  غذا نہملنے یا ناقص غذاملنے کے باعث بیمار ہوجاتیہے۔جسم کی بیماری صرف دنیا کی بربادی کا سبب ہوتی ہے، جب کہ روح کی بیماری دنیا و آخرت دونوں کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔جسم کا روگ طبیبوں کے نسخہ جات سے دور کیاجاتاہے، جب کہ قلب وروح کا روگ اہل اللہ کی توجہ اور ذکر اللہ کی مداومت سے دور ہوتا ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ۔(سورۂ رعد:۱۳؍۲۸)
(یقینا اللہ کےذکر سے دلوں کو اطمینان وسکون نصیب ہوتاہے)
     بلا شبہہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اطمینانِ قلب اور راحت جاں کا سبب ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار اپنے ارشادات سے نہ صرف ذکر اللہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ خود آپ کا اپنا معمول یہ تھا کہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بیان کرتی ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ۔
(صحیح بخاری:۳؍۷۲ حدیث:۱۹۔۔۔صحیح مسلم:۱؍۱۹۴حدیث:۸۵۲)
یعنی  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہروقت اورہر حال میں اللہ کا ذکر کیاکرتے تھے۔
 ذِکْرعربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معانی یاد کرنا ،یاد تازہ کرنا،کسی شئے کو بار بار ذہن میں لانا ،کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔ذکر الہٰی سے مراد یادِ الہٰی ہے۔ ذکر کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں، اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے معبودِ حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غفلت نہ برتے۔ 
ذکر الہٰی ہر عبادت کی اصل ہے۔ تمام جنوّں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادتِ الہٰی ہے اور تمام عبادات کا مقصودِ اصلی یادِ الہٰی ہے ۔اگر آپ غور وفکر سے کام لیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے خالی نہیں۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

غور فرمائیں کہ سب سے پہلی فرض عبادت نماز کا بھی یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو دوام حاصل ہو اور وہ ہمہ وقت جاری رہے ۔یوں ہی نفسانی خواہشات کو مقررہ وقت کے لیے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ جس کا مقصد دل کو ذکر الہٰی کی طرف راغب کرنا ہے ۔روزہ نفس انسانی میں پاکیزگی پیدا کرتا ہے اور دل کی زمین کو ہموار کرتا ہے تاکہ اس میں یاد الہٰی کا ظہورونفوذ ہو ۔
یوں ہی قرآن حکیم پڑھنا افضل ہے؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سارے کا سارا اسی کے ذکر سے بھرا ہوا ہے، اس کی تلاوت اللہ تعالیٰ کے ذکر کو تر و تازہ رکھتی ہے۔ معلوم ہوا کہ تمام عبادات کی اصل ذکرِ الہٰی ہے اور ہر عبادت کسی نہ کسی صورت میں یادِ الہٰی کا ذریعہ ہے۔مردِ مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ جب بھی کوئی نیک عمل کرے تو اس کا مطمعِ نظر اور نصب العین فقط رضاے الہٰی کا حصول ہونا چاہیے۔یوں ذکرِ الہٰی رضاے الہٰی کا زینہ قرار پاتا ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر قرآن و سنت میں جابجا ذکر الہٰی کی تاکید کی گئی ہے۔ کثرت ذکر‘ محبت الہٰی کا اوّلین تقاضا ہے ۔انسانی فطرت ہے کہ وہ اس چیز کو ہمیشہ یاد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا لگاو کی حدتک گہرا تعلق ہو۔وہ کسی صورت میں بھی اسے بھلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
لہٰذا ایک مردِمسلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت ذکر واذکار، اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرے نیز قرآن کی تلاوت میں خود کومشغول رکھے۔اگر ایک مسلمان اپنے روز وشب مسنون انداز میں گزارنے کی کوشش کرے تو ہر لحظہ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہے گا،اور بالآخر اس کا سونا جاگنا اور کھانا پینا بھی عبادت شمار ہوگا۔تجربات شاہد ہیں کہ مسنون اَدعیہ اور ذکر  اَذکار نہ صرف مصیبتوں اور بلاؤں سے محفوظ رہنے کا بہت بڑا سبب ہیں بلکہ شیاطین اور شریر جن و انس سے محفوظ رہنے کا ایک ایسا تعویذ ہیں جو مختلف مواقع پر انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

        مختصر یہ کہ اوراد واذکار مسلمان کا مضبوط قلعہ ہیں،جن کی بدولت انسان نفسانی خواہشات ،دلوں کی کجی اور شیطانی تسلط سے محفوظ رہتا ہے،نیز اوراد و اذکار اور روز مرہ دعاوں کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہوتا ہے،شیطانی تسلط کا زور ٹوٹتا ہے،بے لگام خواہشات کا خاتمہ ہوتا ہےاور دلوں کو روحانیت اورطمانیت کا نور حاصل ہوتا ہے۔اِنسانی اصلاح،تزکیۂ نفس اور تقویٰ وللہٰیت کے دوام واستحکام کے لیے کتاب وسنت میں ذکر  اورمسنون اَدعیہ کی خاص تاکید ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر ائمہ محدثین اور علماے سلف نے اذکار و ادعیہ کے ابواب کتب احادیث میں باقاعدگی سے قائم کیے ہیں اور اذکارواوراد کے حصول کی آسانی کے لیے الگ الگ تصانیف بھی یادگار چھوڑی ہیں۔
یہ ’کتاب الخیر‘ دراصل اسی سلسلہ خیر میں حصہ ڈالنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔ یہ کتاب اَصلاً کیپ ٹاؤن (ساؤتھ افریقہ) کے باشندوں کے لیے فقیر قادری نے انگریزی زبان میں لکھی  تھی، جسےہاتھوں ہاتھ لیاگیا، وظیفے میں رکھاگیا، اور اس کے ہزارہا ہزار نسخے چھپے بٹے۔ نوجوانوں کے اندراس کتاب کے حوالے سے خصوصیت کے ساتھ بیداری پائی گئی، اُن کے سینے قرآن کی منتخب اہم سورتوں کے فیضان سے منور ہوگئے، اور صبح وشام کے اَوراد واَذکاراُن کے معمولات کا حصہ بن گئے۔ اَمر واقعہ یہ ہے کہ آج شاید ہی کوئی گھر اور مسجد ایسی ہو جس میں اس کتاب کے چند ایک نسخے موجود نہ ہوں۔ 
 اس کتاب کی بحمد اللہ بے پایاں مقبولیت کو دیکھ کر خیال آیا کہ  اسے اُردو زبان میں بھی منتقل کرنا چاہیے؛ تاکہ ہمارے اردوداں نوجوان بھی اپنے سینہ ودل کو قرآن کی اِن منتخب سورتوں اور مسنون اوراد ووظائف سے  فیض یاب کرسکیں۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

        آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ ہر طرف اِلحاد وبے دینی کی تیز وتند ہوائیں چل رہی ہیں۔ دین پر جمے رہنا اتنا ہی مشکل ہوگیا ہے جتنا انگارے پر کھڑے رہنا۔ ایسے دور میں داعیانِ دین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ لوگوں کو بے دینی سے بچانے اور دینی اقدار پر جمائے رکھنے کیلیے مختلف اورمؤثر  اِقدام کریں۔ 
       چھوٹے  سائز میں کتاب لانے کامقصد یہ ہے کہ اسے ہمہ وقت ساتھ رکھا جائے، اس میں لکھی گئی سورتوں کو یاد کرلیا جائے اور زندگی کے ہر موڑ پر کام آنے والےاِن اذکارواَدعیہ کو حسب موقع ومحل ورد میں رکھا جائے۔ ہوسکے تواپنے عزیزواقارب  کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی اسے چھپواکر زیادہ سے زیادہ تقسیم کرایا جائے۔ 
            اللہ جل مجدہ الکریم اس حقیر کاوش کو محض اپنی رضا وخوشنودی کے لیے قبول ومنظور فرمائے۔ہمیں اپنی اور اپنے پیارے محبوب ﷺ کی خوشنودی کے حصول میں کوشاں، نیز زندگی کی گھڑیوں کو طاعت وبندگی کے انوار سے تاباں بنائے رکھے۔اس عاجزانہ کوشش کو میری، میرے والدین، میرے اَساتذہ اور میرے مخلص احباب کی نجات کا ذریعہ بنائے۔ اور بیش از بیش لوگوں کو اس سے فیض یاب ہونے کی توفیق بخشے۔آمین یارب العالمین بجاہ حبیبہ سیدنا محمد النبی الامین الحلیم الکریم علیہ وعلیٰ آلہ وصحابتہ اکرم الصلوٰۃ وافضل التسلیم۔

خادم کتاب وسنت

محمد افروز قادری چریاکوٹی

سہ شنبہ،۱۳؍ ذی الحجہ ۱۴۳۸ھ۔۔۔۵؍ستمبر۲۰۱۷ء

error: Content is protected !!