Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بخل کا سبب

 جو شخص اپنے دين اور عزت کی حفاظت کا ارادہ رکھتا ہو اس پر بُخْل کے مہلکات سے ڈرتے ہوئے اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے اور يہ اسی صورت ميں ممکن ہے جب اس کا سبب اور علاج معلوم ہو، اس کا سبب یا تو مال کی ایسی محبت ہے
جو لمبی اميد کے ساتھ ساتھ ان خواہشات کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جن کی تکميل مال ہی کے ذريعے ہو سکتی ہے کيونکہ جسے يہ معلوم ہو جائے کہ ايک دن کے بعد اس کا انتقال ہو جائے گا اس ميں بُخْل کا کوئی اثر باقی نہ رہے گا، يا پھر بُخْل مال کی محبت کی وجہ سے ہوتا ہے، اسی لئے آپ ديکھتے ہيں کہ جسے يہ يقين ہوتا ہے کہ اس کے پاس کفايت سے زائد مال ہے اگر وہ طبعی عمر تک زندہ رہے اور شاہ خرچياں کرتا رہے اور اس کا وارث بھی کوئی نہ ہو اور اس کے باوجود بُخْل کرے اور زکوٰۃ روکے پھر اس خزانے کو، يہ جاننے کے باوجود کہ مجھے مرنا ہے، زمين ميں دفن کر دے بلکہ بعض اوقات موت کے وقت اسے نگل جائے تو اس عارضے کا علاج بہت مشکل بلکہ محال ہے۔
error: Content is protected !!