Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جامعہ نظامیہ دینی وعصری علوم کے تناظر میں

جامعہ نظامیہ 
دینی وعصری علوم کے تناظر میں

از:  مولانا محمد جسیم الدین نظامی (فاضل جامعہ نظامیہ)

یہ ایک حقیقت ہے کہ حق تبلیغ وہدایت بہت اہم کام ہے ۔ لیکن یہ جتنا اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکل ودشوار ہے۔ اسکی ترویج واشاعت کے لئے پرخار وادیوں سے گذرنا پڑتاہے۔ طرح طرح کے مصائب وآلام کو گلے لگانا پڑتاہے۔ تب کہیں جاکر تبلیغ کا کما حقہ حق ادا ہوتاہے۔ لیکن ان تمام کھٹنائیوں سے گذر کر اس اہم فریضے کو انجام دینا صرف انہی حضرات کا نصیبہ ہے جنکو اللہ نے مخصوص صلاحیت اورہمت سے نوازا ہو۔ پر وردگار عالم اس اہم کا م کیلئے اپنے مخصوص بندوںکو منتخب کرلیتا ہے۔ انہی مخصوص بندوں میں سے ایک روشن وتابندہ نام، حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ مولانا محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ والرضوان کاہے۔ جنہوں نے ایسے وقت دعوت واصلاح کا بیڑہ اٹھا یا جب دکن میں اسلام کی نبض ڈوب رہی تھی۔ نباض فطر ت نے آپ کو ایسا نبـض شنا س بناکر بھیجا تھاکہ جب بھی قوم کسی روحانی مرض میں مبتلا ہوئی، آپ نے فوراً اس کی رگ پہ ہاتھ رکھ کر مسیحائی کی ۔ یوں تو دکن کی سرزمین ہمیشہ سے دینی علوم وفنون کا مرکز رہی ہے۔ لیکن جیسے جیسے اسلامی حکومتیں غلط روی کا شکارہوئیں، عام مسلمانوں میں دینی فقدان بڑھتا گیا ، دینی تعلیم برائے نام رہ گئی او رغلط رسم ورواج نے فرض کی جگہ لے لی تھی، لادینیت اپنے پیر جمانے لگی تھی، پامالئی حقوق شیوئہ زندگی بن چکاتھا ایسے پر آشوب حالات میں اللہ کے مقد س رسول ﷺ نے بحکم خدا بانی جامعہ علیہ الرحمہ کواہل دکن کی داخلی اور خارجی اصلاح کیلئے منتخب فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے جن امور کیلئے آپ کو منتخب فرمایا تھا یقنی طور پر اس سفیر انبیاء نے آخر وقت تک ان امور کی انجام دہی میں ذرہ برابر کوتاہی نہ فرمائی ، آپ نے ایک منظم طریقے سے اصلاحی نظام قائم فرمایا ، اصول وقوانین مرتب فرمائے ، اور اصلاحی نظام کی ایک ایسی مستحکم بنیاد ڈالی ، جو آپ کے وصال کے بعد بھی قائم ہے، اور انشاء اللہ تاقیامت قائم رہے گی یوں توآپ کے سینکڑو ں کارنامے ہیں مگر آپ کے کارناموں میں جو سب سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے وہ یہ کہ آپ نے دین اسلام کی ترویج واشاعت کیلئے ۱۸۷۵ء میں جامعہ نظامیہ قائم فرماکر امت مسلمہ پر ایک عظیم احسان فرمایا ’’طلب العلم فریضۃ ‘‘ کے تحت ،علوم دینیہ کا حصول ہر دور میں لازمی اور ضروری سمجھاتارہاہے۔ لیکن ایسے وقت میںجبکہ مسلمانوں کے اذہان وقلوب سے خوف خدا اور عشق نبی کریم ﷺ ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ مغربی تعلیم کے ذریعہ مغربی تہذیب کو مسلمانوں میں پھیلایاجارہاہوتو ایسے وقت دینی تعلیم کی اہمیت وفرـضیت اور بڑ ھ جاتی ہے ۔ ایک طرف انگریزوں کی گھناؤ نی سازش کے ذریعہ ’’فرنگی تخیلات‘‘ کو مسلمانوںکے ذہن وفکر میں اتار نے کی ناکام کوشش ، تو دوسری طرف مسلم نما افراد کی جانب سے ’’روح محمد اس کے بدن سے نکال دو‘‘ کے مصداق رسول ﷺ کی عظمت کو مسلمانوں کے قلوب سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تھی۔ انہی حالات کے پیش نظر بانی جامعہ علیہ الرحمۃ الرضوان نے ایک خالص ’’دینی ادارہ ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ جس کا بنیادی مقصد ڈاکٹر صوفی افسرؔالحق دہلوی سابق استاذ جامعہ نظامیہ کی زبان میں تھا۔ 
درس ِحدیث وفقہ مقصود مدعاہے
تحصیلِ علم قراں ہے مشغلہ ہمارا 
توحید کی اشاعت تفویض ہے ہمارے
تکذیبِ کفر و باطل ہے ضابطہ ہمارا
آپ کے اس بر وقت اقدام سے باطل افکار ونظریات کے پردے چاک ہونے لگے ، او رشب وروز’’قال اللہ وقال الرسول‘‘ کی صدائیں گونجنے لگی ۔ آپ نے درس نظامی (جو حدیث ، فقہ ، تفسیر ، عقائد کلام ، منطق وفلسفہ ، اور عربی ادب پر مشتمل ہے) کو تعلیمی نصاب قراردیا۔ درس نظامی کی تکمیل کے لئے آپ نے جو درجے مرتب فرمائے وہ آج بھی جاری ہیں۔ مگر حالات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ارباب جامعہ نے نصاب تعلیم میں ترمیم کی ہے وہ آگے بیان کروںگا۔ سردست میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ درس نظامی (۱۶سالہ کورس) کوچار مرحلوںمیں تقسیم کیاگیا
(۱)تحتانی 
(۲)وسطانی 
(۳)فوقانی 
(۴)علیا 
۱)تحتانی درجے میں بنیادی تعلیم مثلا اردو زبان کی نوشت وخواند، ناظرہ قرآن مجید ، اور بنیادی مسائل شرعیہ وغیر۔ ۲)وسطانی درجہ میں دینیات اخلاقیات ، سماجیات ، صرف نحو عربی اور فارسی کے علاوہ حساب تاریخ جغرافیہ اور سائنس وغیرہ ۳)تیسرا مرحلہ فوقانیہ درجے کا ہے جس میں تفسیر، حدیث ، فقہ ،اصول فقہ، عقائدکلام ، وعربی ادب منطق او فلسفہ وغیرہ پڑھایاجاتاہے۔ ۴)آخری مرحلہ علیاکا ہے اس میں تفسیرحدیث ، فقہ کلام عربی ادب تاریخ اسلام میں سے کسی ایک مضمون پر طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ تحفیظ القرآن الکریم سے بھی طلباء کی ایک کثیر تعداد استفادہ کرتی ہے۔اس سلسلے کی ایک کڑی ’’شعبہ اہل خدمات شرعیہ‘‘ ہے۔ جس میں مختلف موضوعات پر متعلقہ طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔ ا س تعلیمی سفر کے دوران طلباء کوا ن مراحل سے گذاراجاتا ہے جس کی ضرورت عصرحاضر کو ہے۔ طلباء نظامیہ کو مختلف مراحل سے گذارکر اس قابل بنادیتے  ہیں کہ وہ اپنے  Theoryکو Practiclزمانہ کے سامنے پیش کرسکے یعنی طلبا ء کو تعلیمی کورس کے علاوہ تربیتی مراحل مثلا… دارالتقریر ، المنتدی العربی ، دعوت وارشادجیسے شعبہ جات میں تربیت دی جاتی ہے کہ وہ قوم کے سامنے حق کانقیب بنکر اپنے مافی الضمیر کو ادا کرسکیں ۔ اس سلسلہ کی اہم کڑی دعوت وارشاد ہے۔ جس کے تحت علماء جامعہ نظامیہ اور وہ طلباء جو مذکورہ بالا شعبہ میں ٹریننگ حاصل کئے ہوں شہراور اضلاع میں وعظ ونصیحت اور ترویج دین اسلام کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ارباب جامعہ کی ان تمام تر کاوشوں کا لازمی نیتجہ یہ نکلاکہ ہر سال سینکڑوں کی تعدداد میں ایسے علماء وفضلاء صلحاء ومبلغین اسلام او ر صحافی حضرات نکلے جس سے عالم اسلام کی ایک کیثر تعداد فیضیاب ہورہی ہے۔ یہ تھی دینی تعلیم وتربیت کی ایک جھلک ۔
جامعہ نظامیہ چونکہ اسلامی یونیورسٹی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے لہٰذا جامعہ نظامیہ میں اسلامی ریسرچ سنٹر بھی قائم ہے۔ جس میں کامل کامیاب طلباء جنہیں عربی زبان میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔ مختلف موضوعات پر مقالے تحریر کرتے ہیں۔ یہ مقالے منتخب علماء وشیوخ کے زیر نگرانی دوسال کی مدت میں تکمیل کئے جاتے ہیں ، مقالہ کی تصحیح تنقیح اور زبانی امتحان کے بعد جامعہ کی جانب سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری دی جاتی ہے۔ جامعہ کے اسلامی سنٹرسے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والوں میں مولانا شیخ حسین صرصُور (کویت) مولانا محمدیاسرالقضمانی (کویت )ڈاکٹرفوادالبرازی(ڈنمارک)محترمہ شفاء بنت فضیلۃ الشیخ حسن ہیتو الجیلانی شامل ہیں۔ اور اب اختصار کے ساتھ عصری علوم کا تذکرہ پیش خدمت ہے ۔ 
دنیا چونکہ اب ۲۱ویں صدی میں داخل ہوچکی ہیں، اور اب اس دور میں وہی قوم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتی ہے جواپنے آپ کو حالات کے مطابق کرنے کا فن جانتی ہو۔ کوئی قوم جب اپنے اندر حالات سے مطابقت رکھنے کی قوت نہ رکھتی ہو ترقی پذیر قوموں میں شامل نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ دور چونکہ سائنس اور ٹکنالوجی کادور ہے۔ 
تاریخ شاہد ہے کہ نبض شناس علماء نے حالات کو ہمیشہ ملحوظ نظررکھا ۔ خود حضور ﷺ نے جب عیسائیوں تک اسلام کو پہنچانے کے معاملے میں ضروری محسوس کی توصحابہ کرام کو عبرانی زبان سکھنے کی تلقین فرمائی ، لہذا ارباب جامعہ نے وقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے عصری تعلیم کو ایک منظم انداز سے شامل نصاب کیا ہے ۔ مثلا تحتانی  وسطانی جماعتوں میں سوشل اسٹیڈیز ، جنرل سائنس اور حساب لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل نصاب ہے۔ او رفوقانی جماعتوں میں شعبہ انگلش کا قیام ہے جس میں بااخلاق اور باصلاحیت اساتذہ کے زیر نگرانی انگریزی پڑھنے اور لکھنے کے علاوہ اسپوکن انگلش کی بھی مشق کروائی جاتی ہے ۔ مہارت حاصل کے بعد کامل کے لئے کمپیوٹر لیب کا انتظام ہے تاکہ وہ عصر حاضر کے تمام لوازمات سے لیس ہو کر مذہب وملت کی صحیح خدمات انجام دے سکیں ۔ ارباب جامعہ نظامیہ عصری علوم کے ایسے امتزاج کے قائل نہیں جو بنیادی مشن کومتاثر کردے۔ 
بہر حال جامعہ نظامیہ دینی وعصری علوم وفنون کے ایک عظیم مرکز کی حیثیت سے جانا جاتاہے ۔ اور یہ مرکز عظیم اس محسن قوم و ملت کے خوابوں کا شرمندہ تعبیر ہے جنھوں نے اپنی پو ری زندگی اس کی ترقی کیلئے وقف کردیا تھا جامعہ کے درودیواراس بات کی گواہی پیش کرتے ہیں کہ بانی جامعہ علیہ الرحمہ حکومت کے اعلی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ایک لمحہ بھی جامعہ سے غافل نہ ہوئے ،شب وروزاس کی ترقی کیلئے کوشاں رہے۔
آپ کی اس بے لوث جدوجہد کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس چمن علم وعمل میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں پھول کھلے جو نہ صرف مہکنا بھی جانتے ہیں بلکہ مہکانا بھی جانتے ہیں اس چمن میں کھلا ہوا ایک پھول ’’ایک مستقل چمن ‘‘کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا جسے ایک ’’فرد‘‘ سمجھتی ہے حقیقت میں وہ انجمن ہے۔ 
٭٭٭
error: Content is protected !!