Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کھاناکھلانے،پانی پلانے اور سلام کو عام کرنے کی فضیلت:

(37)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے دریافت کیا گیا :”کون سا اسلام افضل ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”يہ کہ تم بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور جسے جانتے ہو يا نہ جانتے ہو سب کو سلام کرو۔”
(صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب اطعام الطعام من الاسلام ، الحدیث: ۱۲،ص۳)
(38)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے ہر شئے کی حقيقت کے بارے میں بتائیے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”ہر چيز کو پانی سے پيدا کيا گيا ہے۔” ميں نے پھر عرض کی،”مجھے ايسا کام بتائيے جسے کرنے سے ميں جنت ميں داخل ہو جاؤں۔”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا”کھانا کھلاؤ، سلام عام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات ميں جبکہ لوگ سو رہے ہوں نماز ادا کیا کرو سلامتی کے ساتھ جنت ميں داخل ہو جاؤ گے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المستدرک ، کتاب البر والصلۃ ، باب ارحموا اھل الارض یرحمکم۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۷۳۶۰، ج۵، ص۲۲۲)
(39)۔۔۔۔۔۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”رحمن عزوجل کی عبادت کرو، بھوکوں کو کھانا کھلاؤاور سلام عام کرو سلامتی کے ساتھ جنت ميں داخل ہو جاؤ گے۔”
    (جامع الترمذی، ابواب الاطعمۃ ، باب فی فضل اطعام الطعام، الحدیث: ۱۸۵۵،ص۱۸۴۰)
(40)۔۔۔۔۔۔حضورنبی پاک،صاحب لولاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مسکين مؤمن کو کھانا کھلانا رحمت ثابت کرنے والا عمل ہے۔”
(الترغیب والترھیب،کتاب الصدقات،باب ترغیب المرأۃفی الصدقۃ…..الخ،الحدیث:۱۴۰۴،ج۱،ص۴۴۴)
(41)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے اپنے بھائی کو کھانا کھلايا يہاں تک کہ وہ شکم سيرہو گيا اور پانی پلايا يہاں تک کہ وہ سير ہو گيا تو اللہ عزوجل اسے جہنم سے 7خندقوں کی مقدار دور فرما دے گا جن ميں سے ہردو خندقوں کے درميان 500برس کی راہ ہو گی۔”
(المستدرک، کتاب الاطعمۃ ، باب فضیلۃ اطعام الطعام،الحدیث:۷۲۵۴،ج۵،ص۱۷۸)
(42)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل قيامت کے دن ارشاد فرمائے گا:”اے ابن آدم! مَیں بيمار ہوا مگر تُو نے ميری عيادت نہيں کی۔” بندہ عرض کریگا: ”ميں تيری عيادت کيسے کرتا تُو تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے؟” اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ”کياتجھے معلوم نہ تھا کہ ميرا فلاں بندہ بيمارہے، پھر بھی تو نے اس کی عيادت نہ کی؟ کيا تو نہيں جانتا کہ اگر تو اس کی عيادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا؟ اے ابنِ آدم! ميں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تُو نے مجھے نہيں کھلايا۔” بندہ عرض کریگا:”يا رب عزوجل! ميں تجھے کھاناکيسے کھلاتا توُتو رب العالمين ہے؟” اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا:”کيا تُو نہيں جانتا کہ ميرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا مگر تو نے اسے کھانا نہيں کھلايا؟ کيا تو نہيں جانتا کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا اَجر ميرے پاس پاتا؟ اے ابنِ آدم! ميں نے تجھ سے پانی مانگامگر تُونے مجھے نہيں پلايا۔” بندہ عرض کریگا:”يا رب عزوجل! ميں تجھے پانی کيسے پلاتا توتو رب العالمين ہے؟۔” اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا:”کيا تو نہيں جانتا کہ ميرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا مگر تو نے اسے نہيں پلايا؟ کيا تو نہيں جانتا کہ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اس کا ثواب ميرے پاس پاتا؟”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح مسلم، کتاب البر،باب فضل عیادۃ المریض، الحدیث: ۶۵۵۶،ص۱۱۲۸)
(43)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ جہانِ فانی سے کوچ فرما گئیں تو انہوں نے مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری والدہ محترمہ وصيت کئے بغير وفات پا گئی ہيں، اگر ميں ان کی طرف سے ايصالِ ثواب کروں تو کیا وہ صدقہ انہيں نفع دے گا؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا”ہاں اور تمہیں چاهئے کہ پانی صدقہ کرو۔”      (المعجم الاوسط،الحدیث: ۸۰۶۱،ج۶،ص۷۷)
(44)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کے محبوب،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ بابرکت میں عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کون سا صدقہ افضل ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”پانی پلانا۔” (صحیح ابن حباب،کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ التطوع ،الحدیث:۳۳۳۷،ج۵،ص۱۴۵)
(45)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کنواں کھدوايااس ميں سے جوپیاسے جگروالاجن،انسان ياپرندہ پئے گااللہ عزوجل قيامت کے دن اسے اَجرعطافرمائے گا۔”
(صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصلاۃ،باب فی فضل المسجد۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۲۹۲،ج۲،ص۲۶۹)
(46)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنے گھٹنے پرموجود7سالہ ناسور کے بارے ميں پوچھا کہ ميں بہت سے طبيبوں سے علاج کرا چکا ہوں تو آپ نے اسے ايسی جگہ کنواں کھدوانے کا حکم ديا جہاں لوگ پانی کے محتاج ہوں اور اس سے ارشاد فرمايا:”مجھے اُميد ہے کہ جيسے ہی اس سے چشمہ پھوٹے گا تمہارا خون بند ہو جائے گا۔”
(شعب الایمان،کتاب الصلاۃ،باب فی الزکاۃ،فصل فی اطعام الطعام۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۳۸۱،ج۳،ص۲۲۱)
(47)۔۔۔۔۔۔سیدناامام بيہقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ روایت کرتے ہیں کہ ميرے استاذ حاکم ابو عبد اللہ”صَاحِبُ الْمُسْتَدْرِک”کے چہرے پر ايک پھوڑا نکل آيا، سال بھر علاج معالجہ جاری رہا مگر کوئی فائدہ نہ ہواتوعاجزآکراستاذابوعثمان صابونی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے درخواست کی کہ وہ جمعہ کے دن اپنی مجلس ميں ميرے لئے دعا فرمائيں، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دعا فرمائی توکافی لوگوں نے اس پر آمين کہی، اگلے جمعہ کو ايک عورت نے مجلس ميں ايک خط بڑھايا اس ميں لکھا تھا کہ ميں نے گھر لوٹنے کے بعد اس رات حاکم کے لئے خوب دعاکی تو خواب ميں مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو گويا ارشاد فرماتے ہوئے سنا :”ابو عبد اللہ سے کہو کہ وہ مسلمانوں پر پانی کی وسعت کرے۔” پھر وہ رقعہ حاکم کے پاس لايا گيا تو انہوں نے اپنے گھر کے دروازے پر حوض بنانے کا حکم ديا جب مزدور اس کی تعمير سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس ميں پانی بھرکر برف ڈال دی اور لوگ اس ميں سے پينے لگے ابھی ايک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ شفاء کے آثار ظاہر ہونے لگے اور وہ ناسور ختم ہو گیا اور ان کا چہرہ پہلے سے زيادہ خوب صورت ہو گيا اس کے بعد آپ کئی سال تک زندہ رہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المرجع السابق،ج۳،ص۲۲۲)
 (48)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”7عمل ايسے ہيں جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتے ہيں جبکہ وہ اپنی قبر ميں ہوتا ہے: (۱)جس نے علم سکھايا (۲)نہر جاری کی (۳)کنواں کھدوايا (۴)درخت لگايا (۵)مسجد بنائی(۶)ترکے ميں قرآن يا(۷)نيک بچہ چھوڑا جو اس کی موت کے بعد اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہے۔”
 (مجمع الزوائدو منبع الفوائد، کتاب العلم، باب فیمن سن خیراًاو غیرہ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۷۶۹،ج۱،ص۴۰۸)
(49)۔۔۔۔۔۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس ميں حاضر ہو کر عرض کی”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری والدہ محترمہ فوت ہو گئی ہيں لہٰذا کون سا صدقہ افضل ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”پانی۔” تو انہوں نے ايک کنواں کھدوايا اور کہا:”ھٰذِہٖ لِاُمِّ سَعْدٍیعنی يہ کنواں سعد کی والدہ ماجدہ (کے ایصالِ ثواب ) کے لئے ہے۔” ۱؎
(سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ ، باب فی فضل سقی الماء ، الحدیث: ۱۶۸۱،ص۱۳۴۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(50)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کوئی صدقہ پانی سے زيادہ اجر والا نہيں۔”
(شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، فصل فی اطعام الطعام وسقی الماء، الحدیث: ۳۳۷۸،ج۳،ص۲۲۱)
    يعنی جس جگہ پانی کی احتياج زيادہ ہو وہاں پانی سے زيا دہ اجر والا کوئی صدقہ نہيں۔يہ مضمون ديگر احادیثِ مبارکہ سے ليا گيا ہے اور اگر وہاں پانی سے زيادہ کسی اور چيز کی حاجت ہو تو اسے صدقہ کرنا افضل ہے۔
۱؎:امیر اہلِ سنت امیر دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطاؔرقادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ ناز کتاب” نماز کے احکام ”میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہيں:” میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا کہ یہ کنواں ام سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لئے ہے ، اس کے معنٰی یہ ہیں کہ یہ کنواں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایصال ثواب کے لئے ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا گائے یا بکرے وغیرہ کو بزرگوں کی طرف منسوب کرنا مثلاًیہ کہنا کہ ”یہ سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کابکرا ہے۔”اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے مراد بھی یہی ہے کہ یہ بکرا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایصال ثواب کے لئے ہے۔”(تفصیلی معلومات کے لئے دیکھئے:”نمازکے احکام،فاتحہ کاطریقہ،ص۴۷۲تا۴۹۲)
error: Content is protected !!