Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پہلی قسم کی روایات:

 (12)۔۔۔۔۔۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ”کیامیں تمہیں اکبر الکبائریعنی سب سے بڑے تین کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹ بولنا ہے۔” 
    راوی فرماتے ہیں کہ یہ بات ارشاد فرماتے وقت دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بیٹھ گئے اور مسلسل اس کا تکرار کرتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگے کہ کاش! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سکوت اِختیار فرمالیں۔”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا،الحدیث:۲۵۹،ص۶۹۳)
    شیخین(یعنی امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ تعالیٰ) سے مروی ایک روایت میں پہلے دوگناہوں کو کبیرہ گناہوں میں بھی شمار کیا گیاہے پھر اس کے ساتھ قتل کو بھی ملادیاگیا، جبکہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات کرنے کو اکبر الکبائریعنی بڑے کبیرہ گناہوں میں شمار کیاگیاہے۔ 
(13)۔۔۔۔۔۔(حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ”کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”تم کسی کو اللہ عزوجل کا مدِمقابل ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا فرمایا ہے۔” تو میں نے عرض کی: ”بے شک یہ تو بہت بڑا  گناہ ہے۔” پھرعرض کی :”اس کے بعد کون سا  گناہ بڑا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس خوف سے اپنے بچے کو قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھایا کریگا۔” میں نے عرض کی کہ ”اس کے بعد کون سا  گناہ بڑا ہے؟”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زناکرو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (صحیح مسلم ،کتاب الایمان،با ب بیا ن کون الشرک۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۲۵۷،ص۶۹۳)
 (14)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”آدمی کا اپنے والدین کو گالیاں دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔” عرض کی گئی :”کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالیاں دے سکتاہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! جب آدمی کسی شخص کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالیاں دیتاہے۔”
  (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا،الحدیث:۲۶۳،ص۶۹۳)
 (15)۔۔۔۔۔۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ یہ آخری بات (یعنی والدین کو گالی دینا) بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ”
   (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب لایسب الرجل والدیہ،الحدیث :۵۹۷۳،ص۵۰۶)
 (16)۔۔۔۔۔۔بخاری شریف ہی کی ایک روایت میں شرک ، والدین کی نافرمانی، قتل، اور جھوٹی قسم کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔    (صحیح البخاری،کتاب الایمان والنذور،باب الیمین الغموس،الحدیث ۶۶۷۵،ص۵۵۸)
 (17)۔۔۔۔۔۔جبکہ دوسری روایت میں شرک، قتلِ ناحق ،یتیم کا مال کھانے ، سود کھانے، جنگ کے دن میدان جہاد سے بھاگنے اور سیدھی سادی، پاکدامن شادی شدہ عورتوں پرتہمت لگانے کو ہلاکت میں ڈالنے والے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
 (صحیح البخاری ،کتاب الوصایا،باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث ۲۷۶۶،ص۲۲۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (18)۔۔۔۔۔۔ایک صحیح روایت میں ان مذکورہ سات گناہوں، مسلمان والدین کی نافرمانی اور بیت الحرام کو حلال ٹھہرانے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الوصایا،باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال الیتیم،الحدیث:۲۸۷۵،ص۱۴۳۷)
    عنقریب کچھ روایات ایسی بھی آئیں گی جن میں پیشاب کے قطروں سے نہ بچنے کو بھی کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے۔ 
(19)۔۔۔۔۔۔ایک حدیث مبارکہ میں یہ اضافہ ہے کہ”ہجرت کے بعد اعرابیوں (یعنی دیہاتیوں)کی طرف لوٹ جانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔”
  (مجمع الزوائد،کتاب الایمان،باب فی الکبائر،الحدیث:۳۸۲،ج۱،ص ۲۹۱)
 (20)۔۔۔۔۔۔ایک روایت ابن لہیعہ سے ہے: ”ہجرت کے بعد اعرابی(یعنی دیہاتی ) بننا۔”
 (ا لمعجم ا لکبیر،الحدیث:۵۶۳۶،ج۶،ص۱۰۳)
 (21)۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک اورروایت میں ہے :”ہجرت کے بعد دیہاتی پن کی طرف لوٹنا۔”
 (المعجم الاوسط،الحدیث:۵۷۰۹،ج۴،ص۲۰۰)

شرحِ حدیث:

    اس حدیث کی شرح یہ بیان کی گئی ہے کہ کوئی شخص ہجرت کے لئے نکلے، اس کے بعد جب وہ مال غنیمت میں سے حصہ پالے اور پھر جب اس پر جہاد واجب ہو جائے تو وہ اس ذمہ داری کو اپنی گردن سے اُتار دے اور پہلے کی طرح اعرابی ہوجائے۔ بعض اسلاف نے اس کی شرح کے لئے اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان سے اِستدلال کیا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ ارْتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدْبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک وہ جواپنے پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی۔(پ26،محمد: 25)
(22)۔۔۔۔۔۔امام ابن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت سیدنا عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کردہ روایت بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے: ”ہجرت کے بعد اعرابی ہوجانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔”
(23)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عا لیشان ہے :”کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟وہ گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرناہے۔” نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ بات ارشاد فرماتے وقت حالتِ احتباء میں (یعنی گھٹنے کھڑے کر کے کپڑے کے ذریعے پیٹھ اور گھٹنوں کو باندھ کر) تشریف فرماتھے، یہ بات ارشاد فرمانے کے بعد نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ کپڑا کھول دیا پھر اپنی زبانِ حق ترجمان کو پکڑکر ارشاد فرمایا” سن لو اور جھوٹی بات کرنا بھی(کبیرہ گناہ ہے)۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مجمع الزوائد، کتاب الایمان، باب فی الکبائر، الحدیث: ۳۸۳، ج ۱، ص ۲۹۲)
(24)۔۔۔۔۔۔ رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ اللہ عزوجل کاشریک ٹھہراناہے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
وَمَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدِ افْتَـرٰۤی اِثْمًا عَظِیۡمًا ﴿48﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرا یا اس نے بڑا  گناہ کا طوفان باندھا۔( پ 5،النسآء :48)
پھر ارشاد فرمایا:”اور والد ین کی نافرمانی کرنا۔” اورپھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الْمَصِیۡرُ ﴿14﴾
ترجمۂ کنزالایمان :یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی(میرے) تک آناہے ۔(پ21،لقمٰن: 14)
یہ بات ارشا د فرماتے وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹیک لگا کر تشریف فرماتھے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم زانو پر سیدھے بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:”سن لو اورجھوٹی بات کہنا بھی(کبیرہ گناہ ہے)۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث:۲۹۳،ج۱۸،ص۱۴۰)
(25)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اوریہ کہ کوئی شخص جھوٹی قسم کھائے اورپھراُس کی مچھر کے پَر برابربھی خلاف ورزی کرے تو اللہ عزوجل اس کے دل میں ایک داغ بنادے گاجس کااثرقیامت تک رہے گا۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث عبداللہ بن انس ، الحدیث:۱۶۰۴۳،ج۵،ص۴۳۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (26)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، ضرورت سے زائد پانی سے دوسروں کو روکنا اور نر جانور کو جفتی سے روکنا۔”
      (البحرالزّخارالمعروف بمسندالبزّار، مسند بریدۃ بن حصیب، الحدیث:۴۴۳۷،ج ۱۰،ص۳۱۴)
(27)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بڑے گناہ یہ ہوں گے: (۱)اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا (۲)مسلمان کو ناحق قتل کرنا (۳)جنگ کے دن راہِ خدا عزوجل میں جہادسے فرار ہونا (۴)والدین کی نافرمانی کرنا (۵)پاکدامن عورتوں پر تہمت لگا نا (۶)جادو سیکھنا (۷)سود کھانا اور(۸)یتیم کا مال کھانا۔”
(صحیح ابن حبّان، ذکر کتبۃ المصطفی ،کتابہ الیٰ اھل یمن،الحدیث:۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸۰)
(28)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”خمر (یعنی انگورکی شراب) پینا سب سے بڑا گناہ اور بے حیائیوں کی جڑ ہے، جس نے شراب پی اس نے نماز چھوڑ دی اور گویا اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی کے ساتھ زنا کیا۔”
         (مجمع الزوائد،کتاب الاشربۃ ،الحدیث :۸۱۷۴،ج۵،ص۱۰۴)
(29)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔”
 (سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، الحدیث:۴۸۷۷،ص۱۵۸۱)
(30)۔۔۔۔۔۔امام احمد اورامام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کی یہ روایت اس کے موافق ہے:”مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سود کھانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔”
         (سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، الحدیث:۴۸۷۶،ص۱۵۸۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(31)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِلْعٰلَمِین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کسی عذر کے بغیر ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کیا بے شک وہ کبیرہ گناہوں کے ایک دروازے پر آیا۔”
(جامع الترمذی ،ابواب الصلوٰۃ ،باب ما جاء فی جمع بين الصلاتين فی الحضر،الحدیث :۱۸۸،ص۱۶۵۴)
(32)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سوال کیا گیا :”کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا  گناہ ہے۔”
(33)۔۔۔۔۔۔جبکہ سیدنا امام دار قطنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی روایت کے مطابق ” وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچا نا بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
   (سنن دارقطنی،کتاب الوصایا،الحدیث:۴۲۴۹،ج۴،ص۱۷۸)
error: Content is protected !!