Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۵۰) حیاء

حدیث:۱
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَلْحَیَاءُ مِنَ الْاِیْمَانِ وَالْاِیْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِی النَّارِ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۷۱)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حیاء ایمان کی خصلتوں میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بے حیائی ظلم کی خصلتوں میں سے ہے اور ظلم جہنم میں ہے۔
حدیث:۲
     عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَاَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَدْنَاھَا اِمَاطَۃُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔متفق علیہ(1)
                        (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۲)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں تو ان میں سب سے افضل لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ہے۔ اور سب سے ادنیٰ کسی تکلیف کی چیزوں کو راستے سے ہٹادینا ہے اور حیاء ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تشریحات وفوائد

    صاحبِ مرقاۃ نے حیاء کی یہ تعریف کی ہے وَھُوَ خُلُقٌ یَّمْنَعُ الشَّخْصَ مِنَ الْفِعْلِ الْقَبِیْحِ بِسَبَبِ الْاِیْمَانِ(2) یعنی حیاء و ہ عادت ہے کہ آدمی کو برے کاموں سے ایمان کے سبب سے روک دے۔ایمانی حیاء ایک بہت ہی بلند مرتبہ خصلت ہے جو جنت  میں لے جانے والے بہت سے اعمال کا دارومدار ہے اسی لیے اس عنوان کی حدیث نمبر۲ میں فرمایا گیا کہ حیاء ایمان کی شاخوں میں سے ایک بہت بڑی شاخ ہے کیونکہ جس مؤمن میں ایمانی حیاء ہوگی وہ تمام گناہوں کے کاموں سے بچتا رہے گاپھر اس کے جنتی ہونے میں کیا شبہ ہے؟بہرحال حیاء جنت میں لے جانے والی خصلت ہے اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مؤمن کو ایمانی حیاء کی دولتِ لازوال سے مالا مال فرمائے۔
    اب رہا یہ سوال کہ آخر ”حیاء ” ایمان کی بہت بڑی شاخ اور بہت ہی اہم خصلت کیوں کراورکس طرح ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ اعمالِ اسلام کی دوہی قسمیں ہیں اوامر ونواہی یعنی اچھے کاموں کو کرو اور برے کاموں کو مت کرواورظاہرہے کہ جس مسلمان میں حیاء کی صفت ہوگی وہ تمام برے کاموں سے باز رہے گا توگویا ”حیاء” ایمان کی ایک ایسی خصلت ہوگی کہ اس کی و جہ سے بہت سی ایمانی خصلتیں پائی جائیں گی اس لیے یہ بلاشبہ درخت ایمان کی شاخوں میں سے نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑی شاخ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
error: Content is protected !!