Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بخل کا علاج:

 (۱)۔۔۔۔۔۔پہلے عارضے يعنی خواہشات کی محبت کا علاج بقدرِ کفايت رزق پر قناعت اور صبر کے ذريعے ہو سکتا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔لمبی اميدوں کا علاج موت کو کثرت سے ياد کرنے اور اطراف ميں واقع ہونے والی اموات اور ان کے مال جمع کرنے کی مشقت اور پھر ان کے بعد اس مال کے قبیح گناہوں میں ضائع ہونے ميں غور و فکر کرنے سے ممکن ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اولاد کی طرف توجہ کا علاج گذشتہ صفحات میں بیان کردہ اس حدیثِ پاک کو پيش نظر رکھنے سے ممکن ہے جس ميں صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”بے شک بد ترین آدمی وہ ہے جو اپنے ورثاء کو خوشحالی ميں چھوڑ کر مرے اور اپنے رب عزوجل کے پاس برائی کے ساتھ حاضر ہو۔”  (فردوس الاخبار،باب الواؤ،الحدیث:۷۴۶۵،ج۲،ص۴۰۸،بتغیر)
    نيز اگر وہ يہ بات پيش نظر رکھے کہ اللہ عزوجل نے اس کی اولاد کے لئے رزق مقرر فرما ديا ہے اس ميں نہ کمی ہو گی نہ زيادتی۔ بہت سے لوگ جن کے والدين ان کے لئے ايک پائی بھی چھوڑ کر نہيں مرتے پھر بھی وہ غنی ہو جاتے ہيں اور بہت سے لوگ جن کے والدين خزانے چھوڑ کر مرتے ہيں جلد ہی فقير بن جاتے ہيں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اسی طرح بخيلوں کے احوال ميں غور و فکرکرے کہ وہ کس طرح اللہ عزوجل کی ناراضگی ميں مبتلا اور ہربھلائی سے دور ہيں، اسی وجہ سے آپ نے ديکھا ہو گا کہ لوگ اس قسم کے افراد کو برا سمجھتے اور ان سے نفرت کرتے ہيں يہاں تک کہ بعض بخيل لوگ دوسروں کے کثرتِ بخل کو بھی برا سمجھتے ہيں جبکہ بخیل اپنے ساتھيوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور اس بات سے غافل رہتا ہے کہ وہ خود بھی لوگوں کے دلوں پر اتناہی گراں اور ان کے نزديک اتنا ہی برا ہے جتنا دوسرے بخيل اس کے نزديک ہيں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۵)۔۔۔۔۔۔ان منافع پر غور کرے جن کی وجہ سے وہ مال جمع کر رہا ہے، لہٰذا بقدرِ حاجت مال جمع کرے اور زائد مال کو اللہ عزوجل کے پسنديدہ کاموں ميں صرف کر کے اس کے پاس اپنی آخرت کے لئے ذخيرہ کرے۔
    جو ان ادويہ (دوا کی جمع) ميں غور کریگا اس کی فکر چمک اٹھے گی، اسے شرح صدر حاصل ہو گا اور وہ اپنی استعداد کے مطابق بُخْل اور اس کی تمام انواع يا بعض انواع سے پہلو تہی اختيار کر لے گا اور ايسی صورت ميں اسے چاہے کہ جيسے ہی اس کے دل ميں راہِ خدا عزوجل ميں سفر کرنے کا خيال آئے فوراً اس پر عمل کر ڈالے کيونکہ بعض اوقات شيطان نفس کو اس خيال سے رک جانے کو اچھا بنا کر پيش کرتا ہے۔
    اسی لئے بعض اکابر کہتے ہيں کہ حضرت سيدنا ابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب اپنے کپڑے صدقہ کرنے کا خيال آيا اس وقت آپ غسل خانے ميں تھے، چنانچہ فورًا باہر تشريف لائے اور کپڑے صدقہ کر دئيے پھر واپس لوٹ گئے، پھر جب غسل خانے سے باہر نکلے تو اس کے بارے ميں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گيا اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :”مجھے خوف ہوا کہ کہيں شيطان ميرے ارادے کو متزلزل نہ کردے۔”
    بُخْل کی صفت بتکلف خرچ کرنے سے ہی زائل ہوتی ہے جيسا کہ عشق ،معشوق کے محل کی جانب سفر کرنے سے ہی زائل ہوتا ہے۔
error: Content is protected !!