Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مَدنی آقاصلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ظا ہری وباطنی فیصلوں کے متعلق احاد یثِ مبارکہ

 نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے  ظاہری و باطنی فیصلوں کے متعلق بکثرت احادیثِ مبارکہ موجودہیں۔
پہلی حدیثِ پاک
    امام بخاری۱؎،امام مسلم ۲؎ ،امام ابو داؤد ، امام نسائی ۳؎اورامام ابن ماجہ رحمۃ للہ تعالیٰ علیہم ۴؎نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کیا ہے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص اورحضرت سیدناعبدابن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ایک نوجوان لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا ۔ حضرت سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے:”یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کی صورت تودیکھئے (عتبہ سے ملتی ہے)۔”حضرت سیدناعبدابن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے:”یا رسولَ اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! یہ میرا بھائی ہے جو میرے باپ کے بسترپراس کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔”آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:” اے عبدابن زمعہ!یہ تیرابھائی ہے اس لئے کہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے ہاں وہ پیدا ہواورزانی کے لئے پتھرہے ۔”(یعنی اسے پتھر وغيرہ سے سنگسار کيا جائے گا )اور عتبہ کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے حضرت سيدتنا سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے فرمايا: ”اے سودہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)!اس سے پردہ کرو۔”پس حضرت سيدتنا سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے پھر کبھی نہ دیکھا۔
(صحیح البخا ری،کتاب الفرائض،باب الولد للفراش۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۴۹،ج۴،ص۳۲۱،بتغیرقلیل)
    بخاری و ابو داؤدشریف میں اس طرح کے الفاظ ہیں۔”اے عبد ابن زمعہ! وہ تیرا بھائی ہے ۔”
(صحیح البخاری،کتاب المغازی،الحدیث:۴۳۰۳،ج۳،ص۱۰۹)
    اوریہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ”اس لڑکے نے اپنے وصال تک حضرت سيدتناسودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نہ دیکھا ۔”
(صحیح البخا ری،کتاب الفرائض،باب الولد للفراش۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۴۹،ج۴،ص۳۲۱)
    مسلم شریف کے الفاظ اس طرح ہیں کہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :”اللہ عزوجل کی قسم!اس لڑکے نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پھر کبھی نہ دیکھا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا وصال ہوگيا۔”
(صحیح مسلم،کتاب الرضاع، باب الولد للفراش۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۴۵۷،ص۷۶۷،ملخصاً)
    شیخ سراج الدین ابن الملقن۱؎(804-723ھ)اورعلامہ حافظ ابنِ حجر رحمہمااللہ تعالیٰ ۲؎ (852-773ھ) فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ حاکم کا ظاہر کے مطابق فیصلہ کر دینا حقیقت میں اس کام کو حلال نہیں کرتا۔صحیح اسناد کے مطابق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس قول ”ھُوَاَخُوْکَ یَاعَبْدُ” کے ساتھ اسے عبد ابن زمعہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا بھائی ہونے کا فیصلہ ارشادفرمایا۔پس جب ثابت ہوگیا کہ وہ عبد کا بھائی ہے تو پھر یہ بات بھی پایہ ـ  ثبوت تک پہنچ گئی کہ وہ حضرت سيدتناسودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی بھائی ہے پھر اس کے بعدحضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کاحکم ارشاد فرمایا، اگر ظاہر کا حکم  باطن کے حکم کو حلال قرار دیتا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کاحکم کبھی بھی نہ فرماتے ۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری،باب الولد للفراش۔۔۔۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۶۷۵۰،ج۱۲،ص۳۱)
    علامہ ابن الملقن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرماياکہ بعض حنفیہ نے کہا:” یہ جائز نہیں ہوسکتاکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پہلے اُسے زمعہ کابیٹاقراردیں پھراس کی بہن کو اس سے پردے کاحکم فرمائیں پس یہ محال ہے ۔”
    علامہ ابن الملقن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ محال نہیں بلکہ اس کی ایک وجہ ہے اوروہ بخاری شریف، کتاب المغازی (الحدیث:۴۳۰۳،ج۳،ص۱۰۹) میں حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان ہے: ”اے عبدابن زمعہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) !وہ تیرا بھائی ہے۔”
(التمھیدلابن عبدالبر،محمدبن شھاب الزھری،تحت الحدیث:۱۷۳،ج۳،ص۵۷۰)
    اور مسندِ احمد اور سننِ نسائی شریف میں اس طرح آیا ہے:” اے سودہ!(رضی اللہ تعالیٰ عنہا) اس سے پردہ کرو اس لئے کہ وہ تمہارابھائی نہیں ۔”
(سنن النسائی،کتاب الطلاق،باب الحاق الولدبالفراش۔۔۔۔۔۔الخ،ج۶،ص۱۸۱)
    اس روایت کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے ضعیف قرار دیا۔علامہ حافظ منذری علیہ رحمۃاللہ القوی (656-581ھ)نے کہا :” یہ حدیثِ پاک میں اضافہ ہے جو ثابت نہیں ،جبکہ سیدنا امام حاکم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ (405-321ھ)نے اسے اپنی مستدرک میں روایت کیا اور کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہیں۔
     علامہ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ مجاہدکے علاوہ اس روایت کی سند کے تمام راوی صحیح ہیں ۔شیخ مجاہدکانام یوسف ہے جو آلِ زبیر کا غلام ہے ۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۱؎(458-384ھ) نے اس کی سند پر طعن کیا اورفرمایا کہ اس میں جریرنام کاایک راوی ہے جسے سوء حفظ کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ اور اس میں یوسف بھی ہے جو غیر معروف ہے ۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کی گرفت اس طر ح کی گئی کہ اس جریر کو سوء حفظ کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ۔ شاید جریر ابن حازم کے ساتھ اس جریر کے اشتباہ کی وجہ سے مغالطہ ہوگیا ہے اور یہ فر مایا کہ یوسف آلِ زبیر کے غلاموں میں سے معروف ہیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب یہ اضافہ ثابت ہو گیا تو پھر اس لڑکے کے حضرت سیدتنا سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھائی نہ ہونے کی تاویل بھی متعین ہوگئی۔
    علاّمہ ابن عربی علیہ رحمۃ اللہ القوی۲؎(543-468ھ) نے سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الوافی (204-150ھ)کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی تاویل یوں فرمائی:”اگر وہ حقیقت میں ثابت شدہ نسب سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا  بھائی ہوتا تو رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن،خاتَم المُرسَلِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہیں پردے کا حکم نہ فرماتے جس طر ح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان کے رضاعی چچا سے پردہ نہ کرنے کا حکم فرمایاتھا۔”
(فتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب الفرائض،باب الولد للفراش وللعاھرالجحر،تحت الحدیث:۶۷۵۰،ج۱۲،ص۳۱)
    اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کی روسے ظاہرکے مطابق فیصلہ فرماتے ہوئے اسے عبدبن زمعہ کابھائی قرار دیا اس لئے کہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے ہاں وہ پیدا ہو اور باطن اور حقیقت پر آگاہ ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کے حضرت سیدتنا سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھائی ہونے کی نفی فرمائی پس یہ ایسافیصلہ تھا جوامام الانبیاء حضورنبئ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہر اورباطن دونوں کے مطابق ایک ساتھ فرمایا۔ 
۱ ؎ حافظ الحدیث،المحدث،الفقیہہ،حبر الاسلام،ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ البخاری،الجعفی (256-194ھ) 13 شوال المکرم کو بخارا میں پیدا ہوئے اور عید الفطر کی رات آپ کا وصال ہوا سمر قند کے قریب خرتنک نامی بستی میں آپ کو دفن کیا گیا آپ کی چند مشہور تصانیف یہ ہیں: الجامع الصحیح المعرو ف بصحیح البخاری ، التا ریخ الکبیر ، السنن فی الفقہ ، الادب المفرد وغیرہ۔ (معجم المؤ لفین،ج۳،ص۱۳۰، الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۳۴)
۲ ؎حافظ الحدیث،المحدث،الفقیہہ،الامام ابو الحسین مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد القشیری،النیشاپوری (261-204ھ) آپ نیشاپور میں پیدا ہوئے اور وہیں وصال فرمایا ،آپ کی مشہور کتب میں سے کچھ یہ ہیں ، صحیح مسلم جس میں 12ہزار احادیث جمع کی گئیں اور 15سال میں مکمل کی گئی ،المسندالکبیر،اوھام المحدثین، طبقات التابعین وغیرہ۔     (معجم المؤ لفین،ج۳،ص۸۵۱،الاعلام للزرکلی،ج۷،ص۲۲۱) 
۳ ؎ حافظ الحدیث ، المحدث ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی بن سنان النسائی (303-215ھ)آپ خراسان کے شہر نساء میں پیدا ہوئے ماہ شعبان میں مکۃ المکرمہ میں وصال فرمایا، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں : السنن النسائی، السنن الکبری والصغری ، الخصائص فی فضل علی بن ابی طالب وغیرہ۔    (معجم المؤ لفین،ج۱،ص۱۵۱) 
۴ ؎ الحافظ ، المفسر، المحدث ، ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ الربعی ، القزوینی (273-209ھ) آپ کا وصال رمضان المبارک میں ہوا، بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے چند یہ ہیں: تفسیر القرآن ،التا ریخ، والسنن فی الحدیث ، تلاثیات سننہ وغیرہ ۔(معجم المؤ لفین،ج۳،ص۷۷۴،الاعلام للزرکلی،ج۷،ص۱۴۴)
۱؎ الحافظ ،المفسر، المحدث ،الفقیہہ سراج الدین ،ابوحفص عمر بن علی بن احمد بن محمد الانصاری ،الاندلسی،المصری، الشافعی المعروف بابن الملقن آپ کی پیدا ئش ربیع الاول کے مہینے میں قاہر ہ میں ہوئی او روہیں پر 16ربیع الاول کو آپ کا وصال ہو ا، کثیر کتب تصانیف فرمائیں جن میں سے چند یہ ہیں: التوضیح لشرح الجامع الصحیح ، مختصر مسند الامام احمد ، شرح منہاج الوصول الی علم الاصول للبیضاوی ، البلغۃ فی الحدیث وغیرہ ۔
(معجم المؤلفین،ج۲،ص۵۶۶،الاعلام للزرکلی،ج۵،ص۵۷)
۲ ؎: المحدث ، الادیب ، الشاعر شھاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد الکنانی ، العسقلانی المعروف بابن حجر 12شعبان المعظم کو قاہر ہ میں پیدا ہوئے اور قاہر ہ میں ہی 18ذی الحجہ کو آپ کا وصال ہوا، آپ نے بہت سی کتب تصانیف فرمائیں چند شہر یت یافتہ یہ ہیں: فتح الباری بشرح صحیح البخاری ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، لسان المیزان، الدر الکامنہ فی اعیان المئۃ الثامنہ، نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر وغیرہ ۔
(معجم المؤلفین،ج۱،ص۲۱۰،الاعلام للزرکلی،ج۱،ص۱۷۸)
۱ ؎ المحدث ، الفقیہہ، ابو بکر احمد بن الحسین بن علی بن عبداللہ بن موسی البیہقی ، الخسر و جردی ، الخر ا سانی ، الشافعی (458-384ھ) آپ علیہ الرحمہ نیشاپور کی بیہق نامی بستی کے محلہ خسر وجر دمیں شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے اور 10 جمادی الاولی کو نیشاپور میں وصال فرمایا ، اور بیہق میں دفن کئے گئے، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں:،کتاب السنن الکبیر فی الحدیث ، المبسوط فی نصوص الشافعی ، الجامع المصنف فی شعب الایمان ، دلائل النبوہ ، احکام القرآن وغیرہ۔    (معجم المؤلفین،ج۱،ص۱۲۶،الاعلام للزرکلی،ج۱،ص۱۱۶)
۲ ؎ حافظ الحدیث ، ابو بکر محمد بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المعا فری ، الا ندلسی ، الاشبیلی، المالکی ، المعروف بابن عربی آپ شعبان کے آخری عشرہ میں اشبیلیہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی، 9سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا مقام عدوہ میں آپ کا وصال ہوا اور فاس میں دفن کئے گئے آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں : احکام القرآن ، اعیان الاعیان ، شرح الجامع الصحیح للترمذی ، المحصول فی الاصول ۔
(معجم المؤلفین،ج۳،ص۴۵۶،الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۲۳۰)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!