Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نکاح کی اجازت یا وکالتِ نکاح کی اجازت؟

نکاح کی اجازت یا وکالتِ نکاح کی اجازت؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے یہاں لڑکی سے اجازت تو مانگی جاتی ہے مگر نکاح کے دن عین نکاح کے وقت ، اور یہ اجازت بالکل رَسْمی قسم کی ہوتی ہے جس کا مقصد اس کی رِضا معلوم کرنا نہیں ہوتا بلکہ وکالتِ نکاح کی اجازت لینا ہوتا ہے ایسی صورت میں وہ دل سے راضی نہ ہونے کے باوُجُود بھی حالات کی نزاکت اور والدین کی عزّت کے پیشِ نظر اجازت دے دیتی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ شادی کی بات پکّی کرنے سے پہلے ہی یا تو پیار محبت اور حکمتِ عملی سے اُسے  اپنی رِضا پر حقیقی طور پر راضی کرلیں یا پھر اُس کی خُوشی پر راضی ہوجائیں  جبکہ کوئی شرعی خرابی نہ ہو ، غرض اِس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ شادی کے پُر مَسَرَّت موقع پر جہاں سب لوگ خُوش ہیں وہیں جن بچّوں کی شادی کی جارہی ہے وہ بھی حقیقی طور پر خُوش ہوں اور آئندہ بھی اپنی اِزْدِواجی زندگی خُوشگوار گُزار سکیں ۔ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
error: Content is protected !!