تیسری حدیثِ پاک

   امام ابو داؤد ، اور امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما دونوں اپنی سنن میں فرماتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ ابن عبید،عقیل ھلالی سے،وہ اپنے دادا سے ، وہ مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیرسے ، وہ محمد بن منکدر سے اور وہ حضرت سيدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہيں کہ بارگاہِ رسالت میں ایک چورکو لایا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: ”اسے قتل کردو ۔”صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی: ”یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !اس نے تو صرف چوری ہی کی ہے۔”نبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اس کاہاتھ کاٹ دو۔”اسے دو بارہ (چوری کے جرم میں) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ ِاقدس میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اسے قتل کردو۔” صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی:”یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے تو صرف چوری کی ہے ۔”تو تاجدارِ رِسالت، مَحبوبِ رَبُّ العزت عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اس کا پاؤں کاٹ دو۔” پھر اسے تیسری مرتبہ  (اسی جرم میں)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛”اسے قتل کردو۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!اس نے تو صرف چوری کی ہے۔” تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اس کا ہاتھ کاٹ دو۔”
Advertisement
    پھرچوتھی باراسی شخص کو (چوری کے جرم میں)بارگاہِ رسالت میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اسے قتل کردو۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!اس نے توصرف چوری کی ہے۔” تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اس کادوسراپاؤں بھی کاٹ دو۔” پھر پانچویں باراسے (اسی جرم کی پاداش میں )حضورنبئ مکرم،نورِمجسم،شاہِ بنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے قتل کردو۔”
    حضرت سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اسے اونٹوں کے باڑے کی طرف لے گئے۔پس ہم نے اسے پتھروں سے سنگسارکرکے قتل کردیاپھرہم نے اسے کنوئیں میں ڈالکراوپرسے اس پر پتھرپھینک دیئے ۔
 (سنن النسائی،کتاب قطع السارق،باب قطع الیدین والرجلین من۔۔۔۔۔۔الخ،ج۸،ص۹۰)
    اسی طرح سیدناامام ابو داؤدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ حدیثِ پاک روایت کی اور اس پرسکوت فرمایاپس یہ حدیثِ پاک ان کے نزدیک صالح صحیح ہے جس سے دلیل پکڑی جاسکتی ہے یاان کے نزدیک یہ حدیثِ مبارک حسن ہے جيسا کہ اصولِ حدیث میں اس کاقاعدہ مقررومتعین ہے۔
    امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مصعب بن ثابت حدیث میں قوی نہیں ۔ اورامام ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے”مِیْزَانُ الْاِعْتَدَالِ ۱؎”میں فرمایاکہ حضرت سیدنا زبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عابد تھے۔کہا گیا ہے کہ انہوں نے صوم الدھر کی سنت ادا کی،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روزانہ ایک ہزاررکعات ادافرماتے تھے یہاں تک کہ عبادت کی وجہ سے سوکھ گئے (يعنی کمزورہوگئے) تھے۔
    مَیں کہتا ہوں: گذشتہ حدیثِ پاک (امام ذہبی کے)اس بیان کی تائیدکرتی ہے۔محمد بن منکدر سے یہ حدیثِ پاک روایت کرنے میں مصعب منفرد نہیں بلکہ حضرت ہشام بن عُروَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۲؎نے بھی ان سے حدیثِ پاک لینے میں اپ کی متا بعت کی ہے اورہشام صحیحین کے راویوں میں سے ہیں۔
    امام دارقطنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۳ ؎ (385-306ھ)نے اس حدیثِ پاک کو اپنی  سنن میں اس سندسے روایت کیا ہے کہ حسن بن احمد بن سعد رھاوی نے عباس بن عبیداللہ بن یحیٰ رھاوی سے ، انہوں نے محمد بن یزید بن سنا ن سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے محمد بن منکدر سے اور انہوں نے حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی حدیثِ پاک کو روایت کیا۔
 امام دارقطنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابنِ صفوان سے بھی اس حدیثِ پاک کو روایت کیااس کی سندیوں ہے کہ ابنِ صفوان نے محمد بن عثمان سے انہوں نے اپنے چچا قاسم سے اورانہوں نے عائذبن حبیب سے یہ حدیث پاک روایت کی ۔
    اسی طرح امام دارِقطنی نے ابوبکرالابہری سے بھی اس کوروایت کیااس کی سندیوں ہے ابوبکرالابہری نے محمد بن خریم سے ، انہوں نے ہشام بن عمار سے ، انہوں نے سعید بن یحیٰ سے،اور ان دونوں نے حضرت ہشام بن عروہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے یہ حدیثِ پاک روایت کی ۔
    امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ محمد بن یزید بن سنا ن قوی نہیں ۔
    امام دار قطنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایاکہ وہ ضعیف ہے جبکہ امام ابو حاتم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ۱؎(327-240ھ) فرماتے ہیں کہ وہ ایک نیک آدمی تھا۔
    امام ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ”اَلْمُغْنِیْ۲؎ ” میں فرماتے ہیں کہ عائذ بن حبیب ”شیعہ”تھا اس کی بہت سی روایات منکرہیں لیکن بعض اسناد کا بعض سے ملا ہونا قوت کا  فائدہ دیتا ہے شایداسی وجہ سے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت پر سکوت اختيارکيا۔
    پس جان لیجئے کہ مصعب کمزورنہیں بلکہ حدیث میں نرم تھا ۔جب اس کے ساتھ اسی کی مثل روایت مل جائے تو اس حدیث پرحَسن کا حکم لگایا جائے گا اور جب اس کے ساتھ کسی دوسرے صحابی سے روایت لینے میں تیسرا اور چوتھا متابع اور صحیح شاہد مل گیا تو پھر اس حدیث کے درجہ ـ  صحیح تک پہنچنے میں کوئی شک نہیں رہتا۔اسی لئے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیثِ پاک خصوصاً آخری سندسے استدلال کیا جس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ان میں سے کسی پر کوئی طعن نہیں کیا گیا ۔امام ابن حبان علیہ رحمۃ اللہ المنّان (354-270ھ) نے سعید بن یحیٰ کو ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے پس حضرت سیدناحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرح حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا صحیح ہونا بھی ثابت ہوگیا ۔وللہ الحمد(اور تمام خوبیاں اللہ عزوجل کے لئے ہیں)۔
    علامہ خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(388-319ھ)” مَعَالِمُ السُّنَنِ۱؎ ” میں اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ” مَیں فقہاء میں سے کسی فَقیہہ کو نہیں جانتا جس نے چورکوقتل کرنا جائز قرار دیاہو اگر چہ اس نے بار بار چوری کی ہو۔ لہذا اسے اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ حضورنبئ غیب دان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس فیصلہ سے یہی معلوم ہو تا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ وہ بار باريہ برافعل کریگا۔ اور اس بات پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ اللہ عزوجل کے وحی نازل فرمانے یا اس کے مستقبل کے حال پرمطلع کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا  فیصلہ ارشاد فرمایا پس اس حدیث پاک کا مفہوم صرف اسی کے ساتھ خاص ہے ۔
( علامہ خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کلام ختم ہوا )
    علامہ خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ بات وہی ہے جوہمارامؤقف ہے۔
۱ ؎ فی نقدالرجال لشمس الدین ابی عبداللہ محمد بن احمد الذھبی الحافظ (المتوفی ۷۴۸)(کشف الظنون،ج۲،ص۱۹۱۷)
۲ ؎ امام الحدیث ابو المنذر ہشام بن عروہ بن الزبیر بن العوام ، القرشی الأسدی ، التا بعی آپ علیہ الرحمہ مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں زندگی گزاری اور مدینۃ المنورہ ہی میں وصال فرمایا ۔ آپ سے 400سو احادیث مروی ہیں ۔    (الاعلام للزرکلی،ج۸،ص۸۷) 
۳ ؎ الحافظ ، المحدث ، الفقیہہ ، ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مھدی البغدادی ، الدار قطنی ، الشافعی ،آپ علیہ الرحمہ ذی القعدہ میں دار قطن میں پیدا ہوئے اور ذی القعدہ میں ہی بغداد میں وفات پائی ، اورحضرت معروف کرخی رحمۃاللہ علیہ کے قریب دفن کئے گئے آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں:المؤتلف والمختلف فی اسماء الرجال ، کتاب السنن، الضعفاء ، اخبار عمرو بن عبید۔
(معجم المؤلفین،ج۲،ص۴۸۰۔الاعلام للزرکلی،ج۴،ص۳۱۴)
۱؎ حافظ الحدیث ، المفسر ، المحدث ، الفقیہہ ، ابو محمد عبدالرحمن بن محمد ابی حاتم بن ادریس التمیمی ، الحنظلی ، الرازی آپ کی وفات محرم الحرام کے مہینے مقام الریّ میں ہوئی ۔ آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: تفسیر القرآن الکریم ، الرد علی الجھیمہ ،آداب الشافعی ومناقبہ ، الفوائد الکبری ، المراسیل وغیرہ ۔ (معجم المؤلفین،ج۲،ص۱۰۹۔ الاعلام للزرکلی،ج۳،ص۳۲۴)
۲ ؎المغنی فی الضعفاء وبعض الثقات مجلدلشمش الدین محمدبن احمدالذھبی(المتوفی۳۸۸ھ)(کشف الظنون،ج۲،ص۱۷۵۰)
۱؎ فی شرح سنن ابی داؤد لاحمد بن محمد بن ابراھیم الخطابی( المتوفی ۳۸۸ھ)(کشف الظنون،ج۲،ص۱۰۰۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!