ذخیرہ اندوزی کی تعریف اوراس کا حکم:

    ہمارے نزديک جو ذخيرہ اندوزی حرام ہے وہ يہ ہے:”خوراک مہنگائی کے دنوں ميں بيچنے کے لئے روک لينا جيسا کہ کھجور اور کشمش جبکہ خریدی ہوئی چیزکو شديد حاجت کے وقت مہنگے داموں بيچنے کا ارادہ ہو۔”
Advertisement
    حضرتِ سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی نے خوراک کے ساتھ ہر اس چيز کو شامل کيا ہے جو اس پر معاون ہو جيسے گوشت اور پھل وغیرہ، جب مذکورہ شرط نہ پائی جائے تو کوئی حرمت نہيں يعنی وہ مہنگائی کے زمانے ميں بيچنے کے لئے نہ خريدے بلکہ اپنے اور اپنے اہل و عيال کے لئے خريدے يا جس قيمت پر خريدا ہے اسی کی مثل يا کم پر بيچنے کے لئے خريدے يا نہ خريدے بلکہ اپنی زمين کا غلہ روک لے اگرچہ زيادہ قيمت پر بيچنے کا ارادہ ہی ہو، ہاں اس صورت ميں جب لوگوں کو شديد ضرورت ہو تو اس پر بيچنا لازم ہے اگر انکار کرے تو قاضی اس پرسختی کرے۔
    اگر شديد ضرورت نہ ہو تواَولیٰ يہ ہے کہ جوغلہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے سال بھرکے استعمال سے زائد ہو اسے بيچ دے جبکہ آئندہ سال قحط سالی کا خوف نہ ہو،ورنہ اس کے لئے اپنی ضرورت کا غلہ روکنا جائز ہے اس ميں کوئی کراہت نہيں اور خوراک کے علاوہ چیزوں ميں کوئی ذخيرہ اندوزی نہيں،البتہ!قاضی نے تصريح کی ہے کہ”کپڑوں کی ذخیرہ اندوزی بھی مکروہ ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اعتراض: حضرت سيدنا سعيد بن مسيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو روايت آپ نے بيان کی ہے کہ”سوائے نافرمان کے کوئی بھی ذخيرہ نہيں کرتا۔”
  (صحیح المسلم ،کتاب المساقاۃ،با ب تحریم الاحتکار فی الاقوات، الحدیث: ۴۱۲۳ ، ص ۹۵۷)

     مذکورہ بيان کی نفی کرتی ہے کیونکہ جب ان سے عرض کی گئی کہ”آپ بھی تو ذخيرہ کرتے ہيں۔” تو آپ نے ارشاد فرمایا:”بے شک معمر جو يہ حديث بيان کرتے تھے وہ بھی ذخيرہ اندوزی کرتے تھے۔”
جواب: يہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ايسے اموال بھی ہيں جن کو ذخيرہ کرنا حرام نہيں جيسے کپڑے، لہذا حضرت سیدنا سعيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روايت کو اس پر محمول کيا جائے گا، جبکہ حرمت کی شرط کھانے کی ذخیرہ اندوزی کرنے میں ہے، لہذا ان شروط کے پائے جانے کی بناء پر اب ہم کيسے کہہ سکتے ہيں کہ وہ حضرات ذخيرہ اندوزی کرتے تھے، نیز حضرت سیدنا سعيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا معمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں مجتہد ہيں تو احتمال کی وجہ سے نہ ان پر اور نہ ہی کسی دوسرے پر اعتراض کيا جاسکتا ہے، پھر سیدنا ابن عبد البر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اور دوسری جماعت کو ميں نے ديکھا کہ انہوں نے کہا:” حضرت سیدنا سعيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا معمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں تيل ذخيرہ کرتے تھے اور تيل غذا نہيں، اسی پر سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا امام اعظم ابو حنيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغيرہ نے محمول کيا ہے اورسیدنا امام قرطبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:”يہی سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور مذہب ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا سعيد بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب :”معمررضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ذخيرہ کرتے تھے ۔” اس پر محمول ہے کہ وہ ايسی چيزيں ذخيرہ کرتے تھے جو لوگوں کو نقصان نہيں ديتيں جيسے تيل، سرکہ اور کپڑے وغيرہ۔
    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:”ذخيرہ اندوزی کی حرمت ميں حکمت عام لوگوں سے ضرر کو دور کرناہے جيسا کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر ايک آدمی کے پاس کھانا ہو اور لوگوں کو اس کی سخت حاجت ہو تو ان سے ضرر دور کرنے کے لئے اسے بيچنے پر مجبور کيا جائے گا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!