Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

صدقہ کے فضائل،اَحکام اوراقسام

  ميں نے اس سلسلے ميں ايک کتاب تاليف کی ہے اس ميں درج فضائل، احکام، فوائد اور فروع سے بے نيازی نہيں برتی جا سکتی، لہٰذا آپ پر اس کو اختیار کرنا لازم ہے۔ جان ليجئے کہ ميں نے اس خاتمہ ميں جو احادیثِ مبارکہ درج کی ہيں وہ تمام صحيح ہيں مگر کچھ احادیث حسن ہيں لہذا ميں نے مُخْرِجِيْن کا ذکر بھی نہيں کيا۔
(7)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کيا اور چونکہ اللہ عزوجل حلال ہی قبول فرماتا ہے لہٰذا اللہ عزوجل اسے بھی برکت کے ساتھ قبول فرماتا ہے اور صدقہ کرنے والے کے لئے اس کی اسی طرح نشوونما فرماتا ہے جس طرح تم ميں سے کوئی اپنے بچھیرے (یعنی گھوڑی کے بچے)کی پرورش کرتا ہے يہاں تک کہ وہ پہاڑکی مثل ہوجاتاہے۔”
 (صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ ، باب الصدقۃ من کسب طیب ، الحدیث: ۱۴۱۰،ص۱۱۱)
 (8)۔۔۔۔۔۔ ايک اور روايت ميں ہے :”جيسا کہ تم ميں سے کوئی اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے يہاں تک کہ ایک لقمہ اُحد پہاڑ کی مثل ہو جاتا ہے،اور اس کی تصديق اللہ عزوجل کی کتاب ميں اس طرح ہے:
 (1) اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ
ترجمۂ کنز الایمان:کيا انہيں خبر نہيں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دستِ قدرت ميں ليتاہے۔(پ11، التوبۃ:104)
(2)یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خيرات کو۔(پ3، البقرۃ:276)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، باب ترغیب فی الصدقۃ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۲۷۱،ج۱،ص۴۰۷)
(9)۔۔۔۔۔۔رحمتِ عالم ،نورِمجسم ،شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”صدقہ مال ميں کوئی کمی نہيں کرتا، اللہ عزوجل عفو کے بدلے بندے کی عزت ميں اضافہ فرما ديتا ہے اور جو شخص اللہ  بندہ جب صدقہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو سائل کے ہاتھ ميں جانے سے پہلے ہی اللہ عزوجل اس سے راضی ہو کر اسے قبول فرما ليتا ہے۔”
     (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۲۱۵۰،ج۱۱،ص۳۲۰)
(11)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو بندہ غنی ہونے کے باوجود اپنے لئے سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ عزوجل اس پر فقر کا دروازہ کھول ديتا ہے۔”
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۲۱۵۰،ج۱۱،ص۳۲۱)
(12)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بندہ کہتا ہے ميرا مال،ميرا مال حالانکہ اس کا مال توصرف تین طرح کا ہے: (۱)جو اس نے کھا کر فنا کر ديا (۲) جوپہن کر بوسيدہ کر ديا اور (۳) جوصدقہ کر کے محفوظ کر ليا۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ لوگوں کے لئے چھوڑ کر چلا جائے گا۔”
(صحیح مسلم ، کتاب الزھدوالرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۷۴۲۲،ص۱۱۹۱)
(13)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم ميں سے ہر ايک کے ساتھ اللہ عزوجل يوں کلام فرمائے گا کہ اس کے اور اللہ عزوجل کے درميان کوئی ترجمان نہ ہو گا، جب وہ بندہ اپنی دائيں جانب نظر ڈالے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جسے اس نے آخرت کے لئے آگے بھيجا تھا اور جب وہ اپنی بائيں جانب نظر ڈالے گا تو اسے وہی نظر آئے گا جسے اس نے آگے بھيجا تھا، پھر جب وہ اپنے سامنے ديکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا، لہٰذا آگ سے ڈرو اگرچہ ايک ہی کھجور کے ذريعے ہو۔”
  (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۳۴۸،ص۸۳۸)
(14)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم ميں سے ہر ایک اپنے چہرے کو آگ سے بچائے اگرچہ ايک ہی کھجور کے ذريعے ہو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(جامع الترمذی، ابواب تفسیر القراٰۤن ، باب ومن سورۃ الفاتحۃ الکتاب، الحدیث: ۲۹۵۳،ص۱۹۴۹)
(15)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا ديتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا ديتاہے۔”
 (المرجع السابق، الحدیث:۲۶۱۶،ص۱۹۱۵)
(16)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا کعب بن عُجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:”(۱)اے کعب بن عُجرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ! جس خون اور گوشت نے حرام سے پرورش پائی وہ جنت ميں داخل نہ ہو گا جہنم اس کا زيادہ حق دار ہے۔(۲)اے کعب بن عجرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )!لوگ دو طرح صبح کرتے ہيں ايک شخص اپنی جان کو آزاد کرانے ميں صبح کرتا ہے اوراسے آزاد کرا ليتا ہے جبکہ ايک اسے ہلاکت ميں ڈال کرصبح کرتاہے۔(۳)اے کعب بن عجرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) !نماز قربت يعنی نيکی ہے،روزہ ڈھال ہے، صدقہ خطا کو اس طرح مٹا ديتا ہے جس طرح پتھر پر برف پگھلتی ہے۔”ايک اور روايت ميں ہے کہ جيسے پانی آگ کو بجھا ديتاہے۔”
(جامع الترمذی، ابواب السفر، باب ماذکر فی فضل الصلوٰۃ ، الحدیث:۶۱۴،ص۱۷۰۶)
(17)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”بے شک صدقہ رب عزوجل کے غضب کو ٹھنڈا کرتا اور بری موت سے بچاتاہے۔”
 (المرجع السابق، الحدیث:۶۶۴،ص۱۷۱۲)
(18)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بے شک اللہ عزوجل صدقے کے ذريعے بری موت کو 70دروازے دور فرما ديتا ہے۔”
(کنزالعمال، کتاب الزکاۃ ، قسم الاقوال، الباب الثانی فی السخاء والصدقۃ ، الفصل الاول، الحدیث: ۱۶۱۰۶،ج۶، ص۱۵۸)
(19)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قيامت کے دن لوگوں کے درميان فيصلہ ہو جا نے تک ہر شخص اپنے صدقے کے سائے ميں ہو گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمد بن حنبل ، الحدیث: ۱۷۳۳۵،ج۶،ص۱۲۶)
(20)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ اِنسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”انسان 70شيطانوں کے جبڑوں سے چھڑا کرکوئی چيز صدقہ کرتا ہے۔”
(کنزالعمال، کتاب الزکاۃ ، قسم الاقوال، الباب الثانی فی السخاء والصدقۃ ، الفصل الاول، الحدیث: ۱۶۱۷۳، ج۶،ص۱۶۵)
(21)۔۔۔۔۔۔سرکارِ مدينہ، راحتِ قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کی گئی :”کون سا صدقہ افضل ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تنگ دست کاحسبِ استطاعت صدقہ کرنا اور اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے ابتداء کرنا۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ ، باب الرخصۃ فی ذالک ، الحدیث: ۱۶۷۷،ص۱۳۴۸)
(22)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ايک درہم ايک لاکھ درہم پر سبقت لے جاتا ہے”ايک شخص نے عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کيسے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ايک شخص کے پاس بہت سا مال ہو وہ اس ميں سے ایک لاکھ 1,00,000درہم صدقہ کرے اور ايک شخص کے پاس صرف 2درہم ہوں اوروہ ان ميں سے ايک درہم صدقہ کرے۔”
(سنن النسائی ، کتاب الزکاۃ، باب جھد المقل ، الحدیث: ۲۵۲۹،ص۲۲۵۱،”بتقدم وتأخر”)
(23)۔۔۔۔۔۔سرکارِمدینہ،قرارِقلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنے کسی سائل کو خالی نہ لوٹاؤ اگرچہ بکری یا گائے کا ايک کُھر ہی ہو۔”
(صحیح ابن خزیمہ، کتاب الزکاۃ ، باب الامر باعطاء السائل، الحدیث: ۲۴۷۲،ج۴،ص۱۱۱)
(24)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قيامت کے دن سات افراد ايسے ہوں گے جنہيں اللہ عزوجل عرش کے سائے ميں جگہ عطا فرمائے گا (پھر حدیثِ پاک بيان کی يہاں تک کہ فرمايا)اور وہ شخص جو صدقہ کرے تو اس طرح چھپائے کہ بائيں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دائيں ہاتھ نے کيا صدقہ کيا ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ ، باب الصدقۃ بالیمین، الحدیث: ۱۴۲۳،ص۱۱۲)
(25)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بھلائی کے کام کرنا ناگہانی آفات سے بچاتا ہے، پوشيدہ صدقہ رب عزوجل کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور صلہ رحمی عمر ميں اضافہ کرتی ہے۔” (المعجم الکبیر،الحدیث: ۸۰۱۴،ج۸،ص۲۶۱)
(26)۔۔۔۔۔۔نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بھلائی کے کام ناگہانی آفات سے بچاتے ہيں، پوشيدہ صدقہ رب عزوجل کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، صلہ رحمی عمر ميں اضافہ کرتی ہے، ہر بھلائی صدقہ ہے، دنيا ميں بھلائی پانے والے لوگ آخرت ميں بھی بھلائی پانے والے ہوں گے اور دنيا ميں بدکاری کے شکار لوگ آخرت ميں برائی ميں گرفتار ہوں گے اور بھلائی کرنے والے ہی سب سے پہلے جنت ميں داخل ہوں گے۔” (المعجم الاوسط،الحدیث: ۶۰۸۶،ج۴،ص۳۱۱)
(27)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ بابرکت میں عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! صدقہ کيا ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”دوگنا، چارگنا اور اللہ عزوجل کے ہاں اس سے بھی زيادہ ہے۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ آيت مبارکہ تلاوت فرمائی:
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضْعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان:ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے۔(پ2، البقرۃ :245)
    دوبارہ عرض کی گئی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کون سا صدقہ افضل ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو فقير کو پوشيدہ طور پر ديا جائے يا تنگدست اپنی ممکنہ کوشش سے دے۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ آيت مبارکہ تلاوت فرمائی:
اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ وَ اِن تُخْفُوۡہَا وَتُؤْتُوۡہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ؕ  (پ3، البقرۃ:271)
ترجمۂ کنز الايمان : اگر خيرات علانيہ دو تو وہ کيا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقيروں کو دو يہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے۔ (المعجم الکبیرالحدیث:۷۸۹۱،ج۸،ص۲۲۶)
(28)۔۔۔۔۔۔سرکارِ ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کسی مسلمان کو لباس پہنايا جب تک اس ميں سے کوئی دھاگا يا لڑی اس کے بدن پر رہے لباس پہنانے والا اللہ عزوجل کی حفاظت ميں رہے گا۔”
(المستدرک ، کتاب اللباس، باب من کسامسلماً ثوباً ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۴۹۹،ج۵،ص۲۷۵)
(29)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو مسلمان کسی برہنہ مسلمان کو لباس پہنائے اللہ عزوجل اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا، جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اللہ عزوجل اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پياسے مسلمان کو پلائے اللہ عزوجل اسے مہرلگی ہوئی عمدہ لذیذ شراب پلائے گا۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ ، باب فی فضل سقی الماء، الحدیث: ۱۶۸۲،ص۱۳۴۸)
(30)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مسکين پر صدقہ کرنے ميں ايک ہی صدقہ ہے جبکہ رشتہ داروں پر صدقہ کرنے ميں دو صدقے ہيں، صدقہ اور صلہ رحمی۔”
(جامع الترمذی، ابواب الزکاۃ ، باب ماجاء فی صدقۃ علی ذی القرابۃ،الحدیث: ۶۵۸،ص۱۷۱۱)
(31)۔۔۔۔۔۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے دریافت کیا گیا :” کون سا صدقہ افضل ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو کينہ پرور رشتہ دار پر کيا جائے۔”
(المسندللامام احمدبن حنبل ، الحدیث: ۱۵۳۲۰،ج۵،ص۲۲۸)
(32)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے دودھ دینے والا جانور يا درہم ادھار دئيے يا کسی کو راستہ بتايا تو اس کا يہ عمل ايک جان آزاد کرنے کی طرح ہے۔”
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی المنحۃ ، الحدیث: ۱۹۵۷،ص۱۸۴۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(33)۔۔۔۔۔۔نبئ کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”ہر قرض صدقہ ہے۔” (المعجم الاوسط،الحدیث:۳۴۹۸،ج۲،ص۳۴۵)
(34)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شفيع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”ميں نے معراج کی رات جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ديکھا :بے شک صدقہ (کا اجر) 10گنا ہے جبکہ قرض (کا اجر) 18گنا ہے۔”
(شعب الایمان للبیہقی،باب فی الزکاۃ،فصل فی القرض،الحدیث:۳۵۶۶،ج۳،ص۲۸۵)
(35)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرض دے تو وہ دونوں قرض اس کے لئے ايک مرتبہ صدقہ کرنے کی مثل شمار ہوتے ہيں۔” (سنن ابن ماجہ، ابواب الصدقات، باب القرض ،ا لحدیث: ۲۴۳۰،ص۲۶۲۲)
(36)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے تنگدست پر نرمی کی اللہ عزوجل دنيا وآخرت ميں اس پر نرمی فرمائے گا۔”
(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۶۸۵۳،ص۱۱۴۷)
error: Content is protected !!