Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۴۹) تواضع و انکساری

حدیث:۱
    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ مَنْ یَّتَوَاضَعْ لِلّٰہِ دَرَجَۃً یَرْفَعْہُ اللہُ دَرَجَۃً حَتّٰی یَجْعَلَہٗ فِیْ عِلِّیِّیْنَ وَمَنْ یَتَکَبَّرْ عَلَی اللہِ دَرَجَۃً یَضَعْہُ اللہُ دَرَجَۃً حَتّٰی یَجْعَلَہٗ فِیْ اَسْفَلِ السَّافِلِیْنَ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۶۶)
    حضرت ابوسعیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جواللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجہ انکساری کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کردے گایہاں تک کہ اس کو علّیّین میں پہنچادے گااور جو اللہ عزوجل کے حضور ایک درجہ تکبر کریگا تواللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ پست کردے گا یہاں تک کہ اس کو اسفل السافلین میں ڈال دے گا۔
حدیث:۲
    عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ مَنْ تَرَکَ الْلِبَاسَ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ دَعَاہُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی رُءُ وْسِ الْخَلَا ئِقِ حَتّٰی یُخَیِّرَہٗ مِنْ اَیِّ حُلَلِ الْاِیْمَانِ شَاءَ یَلْبَسُھَا (2)  (کنز العمال،ج۳،۶۸)
    حضرت معاذبن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جواللہ عزوجل کے لیے انکساری کرتے ہوئے اورلباس پرقدرت رکھتے ہوئے لباس چھوڑدے گاتواس کواللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سامنے بُلاکریہ اختیاردے گاکہ وہ ایمان کے حُلَّوں میں سے جس کو چاہے پہن لے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۳
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ وَمَا زَادَ اللہُ رَجُلًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللہُ (1)  (ترمذی،ج۲،ص۲۳)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صدقہ مال کو نہیں گھٹاتا اور جو آدمی کسی کو معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتاہے اور جو اللہ تعالیٰ کے لیے انکساری کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند فرمادے گا۔
حدیث:۴
عَنْ مُعَاذٍ اَ لَا اُخْبِرُکَ عَنْ مُلُوْکِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ کُلُّ رَجُلٍ ضَعِیْفٍ مُسْتَضْعَفٍ ذُوْ طِمْرَیْنِ لَا یُؤْبَہُ لَہٗ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَاَ بَرَّہٗ (2)  (کنز العمال،ج۳،ص۹۰)
حضرت معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کیامیں تم کواہل جنت کے بادشاہوں کی خبر نہ دوں؟ وہ کمزور وناتواں جنہیں لوگ کچھ نہ سمجھتے ہوں پھٹے پرانے کپڑے پہنتے ہوں اگروہ اللہ عزوجل پر قسم کھالیں تواللہ ضروران کی قسم پوری فرما دے گا۔ (یہ لوگ اہلِ جنت کے بادشاہ ہیں)

تشریحات وفوائد


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تواضع اور انکساری خداوندتعالیٰ اور بندوں کے نزدیک بڑی پیاری خصلت ہے گھمنڈ اور تکبر بہت ہی بری عادت ہے ۔تواضع یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے کمتر سمجھے اور کسی کو حقیر نہ جانے اور تکبر یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھے اور دوسروں کو اپنے آپ سے حقیر جانے تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے جو تکبر کریگا یقینا ذلیل ہوگا۔
تکبر عزازیل را خوار کرد  
بزندان لعنت گرفتار کرد
تکبر نے عزازیل کو ذلیل کردیا اور اس کو لعنت کے جیل خانہ میں گرفتار کردیا۔
حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ
مرا  پیر    دانائے     روشن    شہاب   
   دو اندرز فرمود  بر روئے آب
یکے آں کہ برخویش خود بیں مباش
   دگر آں کہ برغیر بدبیں مباش
    یعنی میرے پیر خوا جہ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ کو دریا کے سفر میں دو نصیحت فرمائی ہے۔ ایک یہ کہ اپنے آپ کو اچھا مت سمجھ لینا دوسری یہ کہ دوسروں کو اپنے سے برا مت سمجھنا مطلب یہ ہے کہ کبھی تکبر مت کرنا اور ہمیشہ تواضع اور انکساری کرتے رہنا کیونکہ تواضع کرنے والا ”جنتی”اور تکبر کرنے والا ”جہنمی”ہے۔
error: Content is protected !!