Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

لوہا آسمان سے اُترا ہے

اللہ تعالیٰ نے ”لوہے” کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
 وَ اَنۡزَلْنَا الْحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ
ترجمہ کنزالایمان:۔اور ہم نے لوہا اُتارا اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے ۔ (پ27،الحدید:25)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام بہشت بریں سے روئے زمین پر تشریف لائے تو لوہے کے پانچ اوزار اپنے ساتھ لائے۔ ہتھوڑا، نہائی، سنسی، ریتی، سوئی ۔ اور دوسری روایت انہی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ تین چیزیں زمین پر نازل ہوئیں۔ حجر اسود، عصاءِ موسوی اور لوہا۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۱۲، پ۲۷،الحدید:۲۵)
    اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار برکت والی چیزیں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمائی ہیں۔ لوہا، آگ، پانی، نمک۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۱۲، پ۲۷، الحدید:۲۵)
درسِ ہدایت:۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ ”لوہا”جنت سے زمین پر آیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ ہے کہ ”لوہا”آسمان سے نازل ہوا ہے۔ ان دونوں روایتوں میں کوئی خاص تعارض نہیں۔ اس لئے کہ ”جنت” آسمانوں کے اوپر ہی ہے تو لوہا جب جنت سے اُترا تو آسمان ہی سے زمین پر اُترا۔
”لوہا”ایک ایسی دھات ہے کہ ہر صنعت و حرفت کے آلات اس سے بنتے ہیں اور ہر قسم کے آلاتِ جنگ بھی اسی سے تیار ہوتے ہیں اور انسانوں کی ضروریات کے ہزاروں سامان ایسے ہیں کہ بغیر لوہے کے تیار ہی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَمَنَافِعُ لِلنَّاس کہ اس ”لوہے” میں لوگوں کے لئے بے شمار فوائد و منافع ہیں۔ بہرحال لوہا خداوند تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذا لوہے کا ہر سامان دیکھ کر خداوند قدوس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
error: Content is protected !!