Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حج مبرو ر

    وہ حج ہے کہ اس حج کے دوران حاجی کوئی گناہ کا کام نہ کرے اور اس حج میں ریا کاری اورشہرت و ناموری کاکوئی شائبہ بھی نہ ہوبلکہ خالصًالو جہ اللہ ہو۔ حج مبرور کی بڑی فضیلت و اہمیت ہے اسی لیے دورانِ حج بھی بار بار یہ دعا پڑھی جاتی ہے کہ
”اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّذَنْبًا مَّغْفُوْرًا وَّسَعْیًا مَّشْکُوْرًا وَّتِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ” (1)
اے اللہ!عزوجل ہم کوحج مبرورنصیب کراورگناہ بخش دے اورہماری سعی کومقبول فرما اور ہمیں ایسی تجارت نصیب کر جس میں ہر گز گھاٹا نہ ہو۔
(۲)حج   ۹ ھ؁ میں فرض ہوا،حج کاانکارکرنے والاکافرہے اورقدرت ہوتے ہوئے حج نہ کرنے والا بہت بڑا گنہگار قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہے۔ حج و عمرہ کے مفصل مسائل و ضروریات ہماری کتاب”جنتی زیور” میں پڑھیے۔
(۳)حدیث نمبر ۱۰میں حج چھوڑنے والے کے لیے بہت ہی شدیدوعیدآئی ہے کہ قدرت ہوتے ہوئے جس نے حج نہیں کیاتواس کی موت اوریہودی ونصرانی کی موت میں کچھ فرق نہیں ہے کہ وہ لوگ بھی حج نہیں کرتے اوراس نے بھی حج نہیں کیا۔ 
                         (توبہ نعوذ باللہ)
    حج کے فضائل اور اس کے اجرو ثواب کے بارے میں اس عنوان کی مذکورہ دس حدیثیں مذکور ہوچکیں۔ ان کے علاوہ بھی دوسری بہت سی حدیثیں ہیں جو حج کے فضائل اور اس کے اجرو ثواب کے بارے میں بکثرت کتب احادیث میں موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنا گھر اوراپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا روضہ انور دکھائے۔(آمین)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔احیاء علوم الدین،کتاب اسرارالحج،الباب الثانی،ج۱،ص۳۳۶
error: Content is protected !!