Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سفر مدینہ منورہ اور حاضری بارگاہ رسالت ﷺ

۞ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے سے قبل آرام کر لیجیے تاکہ راستہ میں نیند کا غلبہ نہ ہو نیز موقع ملے تو ایک نفلی طواف کیجیے ورنہ خانہ کعبہ کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتے ہوئے خانہ کعبہ کو پیٹھ کئے بغیر مسجد الحرام سے باہر آیئے اور چوکھٹ کو بوسہ دیجیے اور دعا کیجیے۔
۞ ہوسکے تو ایسی گاڑی تلاش کیجیے جس میں ٹیپ ریکارڈر لگا ہوا ہو اور ڈرائیور سے طے کر لیجیے کہ راستے میں ’’مقام بدر‘‘ اور ’’حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار‘‘ پر بھی لے جائے۔
۞ اس نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کیجیے کہ وہاں روضہ رسولﷺ کی زیارت کروں گا اور اگر کرم ہوگیا تو ساتھ ہی ساتھ ان شاء للہ تعالیٰ مکین گنبد خضراء ا کی زیارت سے بھی مشرف ہوں گا۔
۞ سارا راستہ ذکر و درود و سلام میں گزاریے اور نعتیں سنتے یا سناتے (آپس میں یا ٹیپ ریکارڈر سے) اور پڑھتے ہوئے خوشبوؤں میں بسے، روتے، لجاتے اپنی قسمت پر رشک کرتے گزاریے۔ بے جا گفتگو سے گریز کیجیے اورہنسی مذاق قطعاً نہ کیجیے۔اگر راستے میں گاڑی رکے تو دو رکعت نفل ادا کریں (اگر مکروہ وقت نہ ہو) صحرائے عرب کی خاک کو بوسہ دیں اور درود و سلام پڑھیں۔
۞ اگر نیند کا غلبہ ہو تو دوران سفر کچھ آرام کر لیجیے تاکہ مدینہ منورہ میں داخلے کے وقت تر و تازہ ہوں (سفر باوضو کیجیے)۔
۞ ہوسکے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی جوتے اتار لیجیے اور حدود مدینہ میں درود و سلام پڑھتے ہوئے، مدینہ شریف میں داخل ہونے کی دعا پڑھتے ہوئے ننگے پیر پیدل داخل ہونے کی کوشش کیجیے۔
۞ راستے میں جب مسجد نبوی شریف کے مینار نظر آئیں تو وہیں کچھ دیر ٹھہر کر با ادب درود شریف کا نذرانہ پیش کیجیے۔
error: Content is protected !!