Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۲۹) خوفِ خداوندی

    عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُصُّ عَلَی الْمِنْبَرِ وَھُوَ یَقُوْلُ:وَلِمَنْ خَافَ مقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(2) قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَارَسُوْلَ اللہِ فَقَالَ الثَّانِیَۃَ:وَلِمَنْ خَافَ مقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِفَقُلْتُ الثَّانِیَۃَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَارَسُوْلَ اللہِ فَقَالَ الثَّالِثَۃَ:وَلِمَنْ خَافَ مقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِفَقُلتُ الثَّالِثَۃَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَارَسُوْلَ اللہِ قَالَ وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِی الدَّرْدَاءِ رواہ احمد(1)
                       (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۷)
    حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے جب کہ آپ منبرپرتقریرفرمارہے تھے یہ سنا کہ جو اپنے رب عزوجل کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں تو میں نے کہا کہ اگرچہ وہ زنا کرے، اگرچہ وہ چوری کرے یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم؟توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ تومیں نے دوبارہ کہاکہ اگرچہ وہ زناکرے،اگرچہ وہ چوری کرے یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم؟پھر حضور نے تیسری بار فرمایا کہ جو اللہ عزوجل کے حضور کھڑے ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔تومیں نے تیسری باریہ عرض کیاکہ اگرچہ وہ زناکرے، اگرچہ وہ چوری کرے یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم؟توحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:اگرچہ ابودرداء کی ناک مٹی میں مل جائے۔(مگر اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔)
حدیث:۲
    عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ کُلُّ عَیْنٍ بَاکِیَۃٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِلَّا عَیْنٌ بَکَتْ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ وَعَیْنٌ فُقِئَتْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَ عَیْنٌ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللہِ وَعَیْنٌ بَاتَتْ سَاھِرَۃً یُّبَاھِی اللہُ تَعَالٰی بِہِ الْمَلَائِکَۃَ یَقُوْلُ اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ رُوْحُہٗ عِنْدِیْ وَجَسَدُہٗ فِیْ طَاعَتِیْ وَتَجَافٰی بَدَنُہٗ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنِیْ خَوْفًا وَّطَمْعًا فِیْ رَحْمَتِیْ اِشْھَدُوْا أَ نِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَہٗ (1)  (کنز العمال،ج۲۰،ص۳۰۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت میں چار آنکھوں کے سوا تمام آنکھیں روئیں گی۔ چاروں آنکھیں یہ ہیں:(۱)وہ آنکھ جو دنیا میں اللہ کے خوف سے رو چکی ہو۔(۲)وہ آنکھ جو جہاد میں زخمی کردی گئی ہو۔(۳)وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نیچی رہی۔(۴)وہ آنکھ جو خدا کی عبادت میں راتوں کوجاگتی رہی۔اللہ تعالیٰ ان بندوں کے ذریعے فرشتوں سے اظہارفخرفرمائے گا اور کہے گا کہ اے فرشتو! میرے بندے کو دیکھ لو کہ اس کی روح میرے پاس ہے اور اس کا بدن میری فرمانبرداری میں ہے اس کابدن خوابگاہوں سے الگ رہتا ہے مجھ سے ڈرتے ہوئے اور میری رحمت کی امید میں میری عبادت کرتا ہے تم لوگ گواہ رہو کہ میں نے اس کو بخش دیا۔

تشریحات و فوائد

    مذکورہ بالادونوں حدیثوں میں خوفِ خداوندی کوجنت میں لے جانے والاعمل بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری بہت سی حدیثوں اور قرآن مجید کی آیتوں کا بھی یہی مضمون ہے کہ خدا عزوجل سے ڈرنے والا جنتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ظاہر ہوگا کہ ”خدا عزوجل سے ڈرنا”یہ تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور”خدا عزوجل سے نہ ڈرنا”یہ تمام گناہوں کاسرچشمہ ہے اس لیے یقینا خدا عزوجل سے ڈرنے والا جنتی ہوگا اور خدا عزوجل سے نہ ڈرنے والا جنت سے محروم ہوگا۔  (واللہ تعالیٰ اعلم)
error: Content is protected !!