Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۵۴) رحم و شفقت

حدیث:۱
    عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمْ الرَّحْمٰنُ اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِی السَّمَاءِ اَلرَّحْمُ شُجْنَۃٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَمَنْ وَصَلَھَا وَصَلَہُ اللہُ وَمَنْ قَطَعَہَا قَطَعَہُ اللہُ (2)
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تو تم لوگوں پر آسمان والا رحم فرمائے گا۔ رشتہ داری رحمن سے تعلق رکھنے والی ایک شاخ ہے تو جو شخص اس کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جو شخص اس کو کاٹے گا اللہ عزوجل اس کو کاٹ دے گا۔
حدیث:۲
    عَنْ اَنَسٍ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا رَحِیْمٌ (1) (کنز العمال،ج۳،ص۶۸)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جنت میں رحم کرنے والا ہی داخل ہوگا۔
حدیث:۳
    عَنْ اَنَسٍ مَنْ قَادَ اَعْمٰی اَرْبَعِیْنَ خُطْوَۃً لَمْ تَمَسَّ وَجْھَہُ النَّارُ (2)
                      (کنز العمال،ج۲۰،ص۲۵۵)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو کسی اندھے کو چالیس قدم ہاتھ پکڑ کر چلائے گا اس کے چہرے کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
حدیث:۴
    عَنْ جَرِیْرٍ مَنْ لَا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ وَمَنْ لَا یَغْفِرُ لَا یُغْفَرُ لَہٗ وَمَنْ لَا یَتُوْبُ لَا یَتُوْبُ اللہُ عَلَیْہِ (3)
 (کنز العمال،ج۳،ص۹۴)
    حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جو رحم نہیں کریگا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا اور جو خطا نہیں بخشے گا اس کی خطا نہیں بخشی جائے گی اور جو توبہ نہیں کریگا اس کی توبہ نہیں قبول کی جائے گی۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تشریحات وفوائد

 (۱)رحم و شفقت اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہے۔ رحم اپنے رشتہ داروں، آدمیوں، جانوروں ، سب کے ساتھ اچھا ہے یہاں تک کہ جن چیزوں کو قتل کرنے کا حکم ہے ان کے بارے میں بھی یہ حکم ہے کہ ان کو بے رحمی کے ساتھ مت قتل کروبلکہ رحم و شفقت اور اچھائی کے ساتھ قتل کرو۔
(۲) اس عنوان کی حدیث نمبر ۴ میں جو یہ ہے کہ ”جو رحم نہیں کرے گا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ ”اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا میں جو آدمی لوگوں پر رحم نہیں کرے گا دنیا میں اس پر بھی کوئی رحم کرنے والا نہیں ہوگا۔
    چنانچہ تاریخ اس قسم کے واقعات کی شاہد ہے کہ بڑے بڑے خونخوار ظالموں کا اس دنیا میں یہ انجام ہوا ہے کہ وہ مجبورو لاچار ہو کر دربدر لوگوں سے رحم و کرم کی بھیک مانگتے مانگتے مرگئے مگر کوئی ان پرترس کھا کر رحم کرنے والا نہیں ملا۔
    اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جو دنیا میں لوگوں پر رحم نہیں کرے گا قیامت کے دن اللہ عزوجل بھی اس پر رحم نہیں فرمائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
error: Content is protected !!