Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

عقیقہ کا بیان

کبیرہ نمبر169:            مَلِکُ الْاَمْلَاک نام رکھنا ۱؎
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”قيامت کے دن اللہ عزوجل کے نزديک سب سے مبغوض اور خبيث ترين وہ شخص ہوگا جو” مَلِکُ الْاَمْلَاک”(یعنی بادشاہوں کا بادشاہ) کہلاتا ہو گا، اللہ عزوجل کے سوا کو ئی مالک نہيں۔”
( صحیح مسلم ،کتاب الآداب ، باب تحریم تسمی بملک الاملاک ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۵۶۱۱ ، ص ۱۰۶۰)
(2)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اللہ عزوجل کے نزديک اَخْنَع (یعنی سب سے ذليل) نام اس شخص کا ہے جسے بادشاہوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔” ايک روايت ميں يہ اضافہ ہے کہ” اللہ عزوجل کے سوا کوئی مالک نہيں۔”
 (صحیح مسلم،کتاب الآداب،باب تحریم تسمی بملک۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۶۱۰،ص۱۰۶۰)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سفيان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”مثلاًکسی کا”شاہین شاہ ” کہلوانا۔” 
    سیدناامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں:”ميں نے حضرت سیدنا ابو عمرو رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اَخْنَع کے بارے ميں پوچھا تو انہوں نے ارشاد فرمايا:”اس کا معنی ہے سب سے زیادہ ذلیل۔”
     حضرت سیدنا سفيان بن عُیَینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”اس سے مراد برا يا ناپسنديدہ ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرۃ،الحدیث:۷۳۳۳،ج۳ص۴۰)
تنبیہ:
    ان دو احادیثِ مبارکہ کی صراحت کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے، اگرچہ ميں نے کسی کو اسے صراحتاً بیان کرتے ہوئے نہيں پایا، پھر بعد ميں مَيں نے بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو اس کی صراحت کرتے ہوئے پایا۔ ہمارے ائمہ کرام  رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں:”بادشاہوں کا بادشاہ يا شہنشاہ کہلانا حرام ہے اورشاہين شاہ بھی اسی معنی ميں ہے کيونکہ يہ دونوں ہم معنی ہيں اور حرمت کی وجہ يہ ہے کہ ان ناموں سے اللہ عزوجل کے سوا کسی کو متصف نہيں کيا جا سکتا۔” ہمارے بعض ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے حاکم الحکام اور قاضی القضاہ کو بھی اس کے ساتھ ملحق کيا ہے، اس موضوع ميں اور بھی بہت ساکلام ہے جسے ميں نے ”مناسک النووی الکبری”کے حاشيہ پر طواف اور سعی کے بيان ميں ذکر کر ديا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎:یہ نام رکھنے کے متعلق تفصیل وموجودۂ عرف کے اعتبارسے شرعی حکم جاننے کے لئے فتاوی رضویہ(جدید) ،ج ۲۱،ص ۳۳۹تا۳۷۹پرمجدداعظم سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃاللہ الرحمن کامبارک رسالہ ”فقہ شہنشاہ وان القلوب بیدالمحبوب بعطاء اللہ ”کامطالعہ کیجئے۔
error: Content is protected !!