Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قُربانی کے فضائل:

 (3)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اے فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !اٹھو اپنی قربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ کيونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تمہارے پچھلے گناہ بخش دئيے جائيں گے۔” انہوں نے عرض کی:”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! يہ انعام ہم اہل بيت کے ساتھ خاص ہے يا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے؟”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”بلکہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔”
 ( المستدرک،کتاب الاضاحی،باب یغفر لمن یضحی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۶۰۰،ج۵،ص ۳۱۴)
 (4)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اے فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) !اٹھو اپنی قربانی کا جانور لے کر آؤ کيونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے تمام گناہوں کو بخش ديا جائے گا جبکہ وہ جانور اپنے خون اور گوشت کے ساتھ لایا جائے گا اور 70 گنا اضافے کے ساتھ تمہارے ميزان ميں رکھا جائے گا۔” 
    حضرت سیدنا ابو سعيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کيا يہ انعام اہل بیت( علیہم الرضوان) کے ساتھ خاص ہے؟کيونکہ وہی اپنے ساتھ خاص شدہ بھلائیوں کے اہل ہيں ياآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی آل اورتمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اہل بیت (علیہم الرضوان) کے لئے خاص جبکہ ديگر مسلمانوں کے لئے عام ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب الضحایا،باب مایستحب للمرء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۹۱۶۱،ج۹،ص۴۷۶)
 (5)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”يہ قربانياں کيا ہيں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تمہارے باپ ابراہيم (علیہ السلام )کی سنت ہيں ۔”انہوں نے پھر عرض کی:”ہمارے لئے اس ميں کيا اَجر ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ہر بال کے بدلے ايک نيکی۔”انہوں نے عرض کی:”اوراُون ميں(کیااَجرہے)؟”توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:”اُون کے ہربال کے بدلے بھی ايک نيکی۔”
   ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب الاضاحی ، باب ثواب الاضحیۃ ، الحدیث: ۳۱۲۷،ص۲۶۶۷)
 (6)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”قربانی کے دن اللہ عزوجل کے نزديک آدمی کا کوئی عمل خون بہانے سے زيادہ پسنديدہ نہيں اور وہ جانور قيامت کے دن اپنے سينگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور خون زمين پر گرنے سے پہلے ہی اللہ عزوجل کے ہاں (قبولیت کے) مقام پر پہنچ جاتا ہے لہٰذاخوش دلی سے قربانی کيا کرو۔”
 ( جامع الترمذی ،ابواب الاضاحی ، باب ماجاء فی فضل الاضحیۃ ،الحدیث: ۱۴۹۳ ، ص ۱۸۰۴)
 (7)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ عالیشان ہے:”قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل خون بہانے سے زيادہ افضل نہيں مگر جب کہ وہ عمل صلہ رحمی کرنا ہو۔”  ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۱۰۹۴۸، ج۱۱ ، ص ۲۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (8)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اے لوگو!خوش دلی سے قربانی کيا کرو اور ان کے خون پررضائے الٰہی عزوجل اور اَجر کی اُميد رکھو اگرچہ وہ زمين پر گر چکا ہو کيونکہ وہ اللہ عزوجل کی حفاظت ميں گرتا ہے۔”
 ( العجم الاوسط ، الحدیث: ۸۳۱۹، ج۶، ص ۱۴۸)
 (9)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے اپنی قربانی پرثواب کی امیدرکھتے ہوئے خوش دلی کے ساتھ قربانی کی، وہ جانور اس کے لئے جہنم سے حجاب ہو گا۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث:۲۷۳۶،ج۳ ،ص ۸۴)
error: Content is protected !!