Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۴) علم دین

    علم دین پڑھنااورپڑھانابھی جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ایک بہت ہی اہم اورشاندارعمل ہے۔اس سلسلے میں مندرجہ ذیل حدیثوں کاایمانی نگاہوں سے مطالعہ کیجئے اور اسلامی جذبوں سے اِن پر عمل کیجئے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے نورِ ہدایت کی روشنی ملے گی۔
حدیث:۱
    کثیر بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے ابوالدرداء!رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مدینہ منورہ سے ایک حدیث سننے کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا ہوں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ اس حدیث کو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں میں کسی اور ضرورت سے یہاں نہیں آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بے شک میں نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص علم کی طلب میں کوئی راستہ چلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلائے گااور بے شک فرشتے طالبِ علم کی خوشی کے لئے اپنے بازوؤں کو بچھادیتے ہیں اور بے شک عالم کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اور مچھلیاں پانی کے اندر مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور یقینا عالم کی فضیلت عابد کے اوپر ایسی ہی ہے جیسے کہ چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے اور یقین رکھو کہ علماء انبیاء علیہم الصلاۃو السلام کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم الصلاۃو السلام کی میراث دینار و درہم نہیں ہیں ،انبیاء علیہم الصلاۃو السلام کی میراث تو علم ہی ہے تو جس نے اس کو لیا اُس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔ (1)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۲
     حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جو علم کی طلب میں گھر سے نکلا وہ اپنے لوٹنے کے وقت تک جہاد میں ہے۔(2) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۴)
    مطلب یہ ہے کہ طالبِ علم جتنے دنوں تک علم کی طلب میں اپنے گھرسے باہر رہے گااتنے دنوں تک اس کواتناہی ثواب ملتارہے گاجتناکہ ایک مجاہدکوجہاد کرنے کاثواب ملتاہے۔ 
حدیث۳
    حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مرسل روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ جس کواس حالت میں موت آگئی کہ وہ اسلام کوزندہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کررہاتھاتوجنت کے اندراس کے اور نبیوں علیہم الصلاۃوالسلام کے درمیان بس ایک ہی درجے کافاصلہ ہوگا۔ (1)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۶)
    مطلب یہ ہے کہ جنت میں اُس کا درجہ اتنا بلند ہوگا کہ اس سے اونچا صرف نبیوں علیہم الصلاۃوالسلام کا درجہ ہوگا اگرچہ اس کے اوپر نبیوں کا ایک ہی درجہ اتنا بلند وبالا اور عظمت والا ہوگا کہ اس کی بلندی تک کسی کی عقل کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ اللہ اکبر ! حضرات انبیائے کرام علیہم الصلاۃوالسلام کے ایک ایک درجے کی بلندی اورعظمت کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ!سبحان اللہ!
حدیث:۴
     حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس علم کی کیا حد ہے کہ اگر آدمی اس کو پہنچ جائے تو ” فقیہہ ” ہوجائے؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو دین کے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرکے میری امت کو پہنچادے اس کو اللہ تعالیٰ قبر سے ” فقیہہ ”بناکر اٹھائے گااورمیں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گااوراس کاگواہ بنوں گا۔(2)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۶)
حدیث:۵ 
    حضرتِ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب تم لوگ جنت کے  باغات میں گزرو تو میوہ چنا کرو۔ اس پر کسی نے کہا کہ جنت کے باغات کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ علم کی مجلسیں۔ (1)(کنز العمال،ج۱۰،ص۷۹)
حدیث:۶
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن علماء کی روشنائی اور شہیدوں کے خون تولے جائیں گے تو علماء کی روشنائی کا پلڑابھاری رہے گا۔ (2)
                     (کنز العمال،ج۱۰،ص۸۰)
حدیث:۷
     حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جو اپنے دین کی تعلیم میں صبح کو چلایا شام کو چلا وہ ” جنتی” ہے۔ (3)(کنز العمال،ج۱۰،ص۸۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تشریحات و فوائد

 (۱)حدیث نمبر۱ سے جہاں علم دین کی عظمت و بزرگی اور علمائے دین کے بلند درجات و عظیم مراتب کا حال معلوم ہوتا ہے وہاں اس حدیث سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف اور پرانے بزرگوں میں علمِ دین کی طلب کا کتنا بے پناہ جذبہ تھا کہ محض ایک حدیث کو سننے کے لئے لوگ مدینہ منورہ سے دمشق کا سفر اس زمانے میں کیا کرتے تھے جب کہ سفر کے وسائل بہت ہی کم اور سفر کی مشکلات بے انتہا تھیں۔ افسوس کہ آج کل کے مسلمانوں میں یہ دینی جذبہ بہت کم رہ گیابلکہ بالکل فنا ہوچکا ہے

دنیوی ضروریات کے لئے تو آج کل کے مسلمان بڑے لمبے لمبے سفر کیا کرتے ہیں مگر علمِ دین کے لئے چند قدم بھی چلنا اُن لوگوں کے لئے سر پر پہاڑ اٹھانے کے برابر مشکل ہے۔
(۲) حدیث نمبر۲سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان جب تک کہ علمِ دین کی طلب میں اپنے گھر سے باہر رہتا ہے اس کو ہردم اورہر قدم پرجہاد کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ اس حدیث سے ان طالب علموں کا رتبہ معلوم ہوا جو اپنا وطن چھوڑ کر علمِ دین پڑھنے کے لئے پردیس میں پڑے ہوئے ہیں اور طرح طرح کی تکلیف اٹھا کر اپنے وطن سے دور اسلامی مدارس میں تحصیل علم کر رہے ہیں۔ کاش ! مسلمان ان طالبِ علموں کے مراتب و درجات کو سمجھ کر ان کی خدمت و دلجوئی کرتے اور مجاہدین فی سبیل اللہ کے معاونین کی فہرست میں اپنا نام لکھاکر جہاد کا ثواب حاصل کرتے۔ مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان ان بے چارے طالبِ علموں سے نفرت کرتے ہیں بلکہ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے ہیں۔اور خدا عزوجل کے ان نیک بندوں سے بدسلوکی کرکے اپنی آخرت کو خراب کرتے رہتے ہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۳)حدیث نمبر۳میں”اسلام کوزندہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کررہا تھا”سے معلوم ہوا کہ علم طلب کرنا جنت میں لے جانے والا عمل اُسی وقت ہوگا جب کہ خدمتِ اسلام کی نیت سے علم دین حاصل کیا جائے ورنہ خدانخواستہ اگر کوئی شخص عالم کہلانے یا محض روزی روٹی اور دنیا کمانے کی نیت سے علم دین حاصل کرے تو نہ وہ جنتی ہوگا نہ فرشتے اس کے لئے اپنے بازو کے پر بچھائیں گے نہ اُس کو جہاد کا ثواب ملے گا۔ اس لئے ہر طالب علم کو لازم ہے کہ وہ صرف خدمت دین اور احیاءِ اسلام کی نیت سے علمِ دین حاصل کرے ورنہ وہ اس کے اجرو ثواب سے محروم ہوجائے گا۔

(۴) علمِ دین کی مجلسوں کو حدیث نمبر۵میں جنت کا باغ فرمایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مجلسوں میں بیٹھنا اور علم دین حاصل کرنا، یہ جنت کے باغ میں پہنچنے کا سبب ہے تو گویا یہ جنت کا باغ ہی ہے۔
(۵)حدیث نمبر۶میں یہ بیان فرمایا گیا کہ علمائے دین کی روشنائی جس سے وہ قرآن و حد یث ا ور دینی مسائل لکھتے ہیں وہ رو شنائی اللہ تعالیٰ کے نزدیک میز ا ن ِ عمل میں شہیدوں کے خون سے زیادہ اجروثواب کے لحاظ سے وزن داراوربھاری ہوگی کیونکہ یہ روشنائی ہزاروں لاکھوں کے لئے ہدایت کا سامان فراہم کرتی ہے کیونکہ علمائے کرام کی دینی تحریروں سے ہزارہا امتیوں کوہدایت کی روشنی ملتی ہے اورشہیدوں کاخون اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب، نہایت قیمتی بلکہ انمول ہے مگر اس خون بہنے کا فائدہ اور اجرو ثواب شہید کی ذات ہی تک محدود رہتا ہے۔ اس لحاظ سے علمائے دین کی روشنائی شہیدوں کے خون سے زیادہ اُمت رسول کے لئے نفع بخش ہوئی لہٰذا میزان عمل میں اجرو ثواب کے لحاظ سے اس کا پلہ بھاری رہے گا۔
(۶)ضروریاتِ دین یعنی فرائض وواجبات کا علم حاصل کرنا توہر عاقل و بالغ مسلمان مردو عورت پر ”فرض عین” ہے باقی اتنا زیادہ علم دین حاصل کرنا کہ قرآن و حدیث اور مسائلِ فقہ کو اچھی طرح جان کر فتویٰ دینے کے قابل ہوجائے یہ”فرض کفایہ” ہے یعنی شہرکے کچھ لوگ اگراتناعلم حاصل کرلیں توسب مسلمانوں کے سرسے فرض اداہوگیااور اگر پورے شہرمیں کسی نے بھی اتناعلم حاصل نہیں کیاتو شہر کے تمام مسلمان اس فرض کو چھوڑنے کے مواخذہ میں گرفتار ہوں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود،کتاب العلم،باب الحث علی طلب العلم،الحدیث:۳۶۴۱،ج۳، ص۴۴۴
2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب العلم،باب فضل طلب العلم،الحدیث:۲۶۵۶،ج۴، ص۲۹۴
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔سنن الدارمی،باب فی فضل العلم والعالم،الحدیث:۳۵۴،ج۱،ص۱۱۲
2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الثالث،الحدیث:۲۵۸،ج۱،ص۶۸
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔المعجم الکبیر،الحدیث:۱۱۱۵۸،ج۱۱،ص۷۸
2۔۔۔۔۔۔الجامع الصغیر،الحدیث:۱۰۰۲۶،ج۲،ص۵۹۰
3۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب العلم،الباب الاول،الحدیث:۲۸۷۰۲،ج۵،الجزئ۱۰، ص۶۱
error: Content is protected !!